• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں غیر معمولی شدّت کی حامل بارش سے دریائوں اور ندی نالوں میں پیدا ہونیوالی طغیانی نے بھارت کی طرف سے بطور ہتھیار ریلوں کی صورت میں چھوڑی جانیوالی پانی کی دو لاکھ کیوسک مقدار کے ساتھ مل کر جو صورتحال پیدا کی وہ ایک مشکل آزمائش سہی، مگر قوم کواس نوع کے حالات کا پہلے بھی سامنا رہا ہے اور انشاء اللّٰہ موجودہ امتحان سے بھی پاکستان کے حکمراں اور عوام نہ صرف سرخرو ہوکر نکلیں گے بلکہ نئے تجربات کی روشنی میں مستقبل کے نئے امکانات سامنے لائیں گے۔ مئی کے مہینے میں پاکستانی قوم کو دشمن ملک کی طالع آزمائی کا سامنا کرنا پڑا جس سے وطن عزیز کی نمایاں کامیابی اور دشمن کی بدترین ہزیمت کی صورت میں نمٹاجا چکا ہے۔ جبکہ بارش، سیلاب، طوفان، زلزلے، گلوبل ماحولیات کے مسائل فطرت کے ان قوانین کا حصّہ ہیں جن کی آگہی و تحقیق تمام انسانوں بالخصوص عقیدہِ توحید کے ماننے والوں کی وہ میراث ہے جس میں آگے بڑھنااور ہر لمحے رونما ہونے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے مستعد رہنا ضروری ہے۔ پاکستانی قوم اس راہ پر پیش قدمی کیلئے پرعزم ہے اور ایسے دوست ملکوں کی اعانت سے فائدہ اٹھا سکتی ہے جو انتہائی غیر معمولی ماحولیاتی و موسمیاتی چیلنجوں کا سامنا کرکے ان سے نکلنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوچکے ہیں۔ ہم اپنے آبی اور دیگر ماہرین کو ان ملکوں میں بھیج کر ان سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں جبکہ تحقیقی سرگرمیوں کو مرکز توجہ بناکر ترقی و خوشحالی کا سفر تیزتر کیا جاسکتا ہے۔ تاحال اندرون ملک جو صورتحال سامنے آئی وہ بتا رہی ہے کہ شدید بارشوں اور بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں سیلابی ریلوں نے پنجاب میں تباہی مچا دی ہے۔ دریا بپھر گئے، سیکڑوں دیہات ڈوب گئے، فصلیں تباہ، مویشی بہہ گئے، گوجرانوالہ ڈویژن میں 7افراد جاں بحق، سیالکوٹ میں رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی، دو لاکھ 10ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل کر دیئے گئے، خیمہ بستیاں قائم کردی گئی ہیں، مساجد سے اعلانات کی صورت میں لوگوں کو رہنمائی فراہم کی جارہی ہے، سکھوں کے مقدس مقام کرتا رپور دربار میں پانی داخل ہوگیا، ہیڈ قادر آباد بچانے کیلئے دریائے چناب کے دو بند توڑنے پڑے۔ پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیوں میں ضلعی انتظامیہ کی مدد کے لئے فوج طلب کرلی گئی۔ متعدد علاقوں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی اطلاعات ہیں۔ تشویش کی یہ کیفیت اس صورت میں اور بڑھ جاتی ہے کہ راوی اور چناب کیلئے 48گھنٹے نہایت نازک قرار دیئے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے بموجب آج جمعہ 29اگست سے دو ستمبر تک ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں مزید بارشیں متوقع ہیں۔ سندھ میں بھی سیلاب کے خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں جن کے ضمن میںوزیر اعلیٰ سیدمراد علی شاہ کی زیرصدارت اجلاس میں اداروں کو چوکس کرنے کے علاوہ خیموں، مشینری،دوائوں کی فراہمی سمیت ضروری تیاریاں یقینی بنائی گئی ہیں۔ پاک فوج، جو ہر آزمائش کے وقت مدد کیلئے سول انتظامیہ کو دستیاب رہتی ہے، حالیہ جنگی منظرنامے کے باوجود سرحدی نگرانی کیساتھ بھرپور طور پر امدادی کاموں کا حصہ بنی رہی جس کے دوران پاک فوج کے دو جوان شہید اور دو زخمی ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج کے جوانوں کے علاوہ ایک انجینئر بریگیڈ، 19انفنٹری ، 7انجینئرز اور میڈیکل یونٹس امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ ایسے وقت،ملک تباہ کن سیلاب کی صورت میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا کررہا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتوں سمیت تمام حلقے اپنے فروعی اختلافات پس پشت ڈال کرمتحد ومنظم نظر آئیں اور امدادی کاموں میں مقدور بھر کردار ادا کریں۔

تازہ ترین