غزہ پر اکتوبر 2023ءسے جاری غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور ظلم و ستم میں 22ماہ گزرنے کے باوجود کسی طور کمی نظر نہیں آرہی بلکہ عالمی طاقتوں کی حمایت کے باعث صہیونی سفاکیت بڑھتی جارہی ہے۔ صہیونی افواج ہر روز درجنوںنہتےفلسطینیوں کابے دریغ قتل عام کررہی ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ میں جہاں ایک طرف اسرائیلی فوج کے حملوں میں مزید 75 فلسطینی شہید ہوگئےوہیں اہل غزہ پر اسرائیل کی جانب سےجبراًمسلط کی گئی بھوک نے مزید 10 افراد کو لقمہ اجل بنا دیا ۔ اس طرح صرف بھوک سے ہونیوالی شہادتوں کی کُل تعداد 313ہو گئی۔اب تک اسرائیل کی غزہ میں جارحیت سے شہادتوں کی مجموعی تعداد 62 ہزار 895ہوگئی ہے، جبکہ ایک لاکھ 58 ہزار 895فلسطینی زخمی ہوئےہیں۔ غزہ کےسرکاری میڈیا آفس نےاسرائیل کی جانب سے بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے فلسطینیوں کو بھوکا مارنے کی سفاک پالیسی اپنانے کی مذمت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ محصور علاقے میںاسرائیل اہم ترین غذائی اشیا انڈے، سرخ اور سفید گوشت، مچھلی، پنیر، دودھ کی مصنوعات، پھل، سبزیاںوغیرہ داخل ہونے سے روکتا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے بھی غزہ کو قحط زدہ قرار دیدیا ہے اس وقت 5 لاکھ سے زائد فلسطینی تباہ کُن غذائی قحط کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کیخلا ف دنیا بھر میں مظاہرے اور احتجاج ہورہے ہیں، عالمی عدالت نے بھی صہیونی ریاست کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیاہے اس سب کے باوجود اسرائیلی ہٹ دھرمی اپنی جگہ قائم ہے اوروہ گریٹر اسرائیل کے ناپاک منصوبے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے غزہ پر مکمل قبضے کا اعلان کررہاہے،کہ اس وقت اسرائیلی رویے نے پورے عالمی امن کو خطرے میں ڈالدیا ہے ضروری ہوگیا ہے کہ عالمی طاقتیں اسکی حمایت سے کنارہ کشی کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل نکالیںاور مسلم دنیا بھی مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر ٹھوس حکمت عملی اپنائے۔