پچھلی ایک دہائی سے کچھ زیادہ، خصوصاً پچھلے ساڑھے تین سال سے وطن عزیز کا موضوع ایک ہی، عمران خان کہانی، ہر ایک کی اپنی اپنی زبانی۔ اس موضوع پر طبع آزمائی، میری ذہنی کیفیت پوچھیں جتنی کوفت اور اذیت شاید ہی کسی اور کام میں، گفتگو میرے لئے سوہان روح ہے۔ مملکت پر کیا کڑا وقت جب زور زبردستی نواز شریف حکومت کو ہٹایا گیا تو مملکت ہمیشہ ہمیشہ سیاسی عدم استحکام میں جا چکی تھی، تب سے سیاسی استحکام قصہ پارینہ بن چکا ہے ۔
مارچ 2018ء میں لکھا کالم، اگلے سالوں بارے خدشات تفکرات بتائے، میری بدنصیبی کہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئے۔ طاقتور ریاست، عمران خان، ثاقب نثار سپریم کورٹ کا مجرمانہ گٹھ جوڑ مملکت کو سیاسی بربادی کے عمیق گڑھے میں دھکیل گیا ۔ بذریعہ RTS ایک ہائبرڈ نظام وجود میں آیا، الیکشن 8 فروری 2024ء ( فارم47 ) اُسکا منطقی نتیجہ ہی تو تھا۔ الیکشن 2029ء بارے پیشن گوئی، ’’اگر‘‘ الیکشن ہو بھی گئے تو RTS اور فارم 47سے زیادہ ابتر اور بدتر رہنے ہیں ۔ 2014ء سے ایک رہنما اصول اور بھی وجود میں آیا ، عمران خان کی مدح سرائی پر الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا مجبور تھا ۔ ہر چینل پر ایسے افراد کو نوکریاں دلوائی گئیں جن کو ادارے اور ’’لے پالک‘‘ کیلئے دن رات ربط اللسان رہنا تھا۔ سوشل میڈیا علیحدہ سے زیر استعمال ، مبالغہ کی حد تک مسیحائی کا ڈھونگ رچایا گیا ۔
خوش قسمت کہ عمران خان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ عمران خان کی خوبیوں کا بھی معترف اور خامیوں کا سخت ناقد رہا ہوں۔ انکی خوبیاں غیرمعمولی تو خامیاں ناقابل بیاں اور وطنی سیاست کیلئے انتہائی ضرررساں تھیں۔ کچھ معاملات میں موصوف نے اپنے جذبات کی تسخیر کی تو کئی جگہوں پر خودفریبی، خبط عظمت کے غلبے نے عملی سیاست کو نقصان پہنچایا۔ کامیابی اتنی کہ ساری زندگی سیاسی و غیرسیاسی خبروں کی زینت بنے رہے۔ وزیراعظم بنے تو بھی خبروں میں رہنا پہلی ترجیح تھی۔ موثر اپوزیشن کی غیر موجودگی (شہباز شریف ہمہ وقت مفاہمت میں مصروف)، حکومت اور اپوزیشن دونوں پوزیشن سنبھالے رکھیں ۔ پچھلی دہائی سے مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پر اکلوتا کنٹرول ہے۔ 2022ء کا آغاز ہوتے ہی چہ میگوئیاں شروع کہ عمران خان کی شیلف لائف پوری ، مکو ٹھپنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ عمران خان سیاست کی ’’ادارتی نظام‘‘ سے ’’بقلم خود نظام‘‘ پر منتقلی کی ٹائمنگ بھی پرفیکٹ تھی۔ 8مارچ کو جیسے ہی تحریک عدم اعتماد آئی گویا کہ عمران خان کی خوش بختی کا آغاز تھا۔ اپنی طبیعت کے موافق شہیدِ جمہوریت بننے کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو، مقبولیت کو پَر لگ گئے ۔ تب سے میڈیا پر عمران غلبے کو مزید چار چاند لگ گئے۔ ساڑھے تین سال ہونے کو، شاید ہی کوئی TV پروگرام ، کوئی سیاسی کالم و خبر ’’ذکر عمران خان‘‘ سے خالی ہو ۔ خبر نامہ اور روزنامہ ، عمران نامہ بن کر رہ گئے ہیں ۔
اگرچہ عمران خان اور شہباز شریف دونوں دھونس اور دھاندلی ( RTS اور فارم 47) کی مرہون منت، عمران خان کو شہباز شریف پر کئی فوقیتیں حاصل ہیں۔ شہباز شریف کا وجہ وجود پر نواز شریف کا سیاسی قدکاٹھ جبکہ عمران خان ہوش سنبھالتے ہی کرشماتی شخصیت بن چکے تھے۔ سیاست میں پذیرائی نہ ملنے کے باوجود عمران خان نے اپنی بنیادی حمایت اور فین فالونگ کو لمحہ بھر اوجھل نہ ہونے دیا۔ عمران خان نے بطور وزیراعظم سیاسی یا کابینہ میٹنگ سے زیادہ دلجمعی سے ترجمانوں اور میڈیا افراد سے رابطہ رکھا ۔ سوشل میڈیا جو عمران خان کی اپنی محنت شاقہ سے کم اور اسٹیبلشمنٹ کا نظر کرم زیادہ ، عمران خان کے ٹرینڈ چلانے ، امیج بلڈنگ میں مستعد، جھوٹ سچ، مخالفین اسکینڈل، ہر گناہِ صغیرہ و کبیرہ سرزد رکھا۔ PTI سوشل میڈیا کا ایک EDGE اور بھی، ایک دہائی تن تنہا میدان خالی ملا، دندناتا رہا۔ فریق مخالف کو جب ہوش آیا تو عمران خان ٹرینڈ آگے نکل چکا تھا۔ مالی منفعت نے بھی عمران خان سوشل میڈیا کوباہمی مطابقت مسابقت مقابلے کا رجحان دیا، سب کو خوب سے خوب تر کی تلاش تھی اور جسکا فائدہ عمران خان کو تھا ۔ آج عمران خان کی سوشل میڈیا پر مناپلی ہے۔ چنانچہ سیاسی OPTICS پر موصوف کا مکمل کنٹرول ہے۔ عمران خان کے ماننے چاہنے والوں سے منوا لیا ہے کہ وہ ایک مافوق الفطرت شخصیت، قائداعظم ثانی، مرشد پاک، روحانی بابا، ولی اللہ، حکیم الامت ، مسیحا قوم ہیں۔ ماننے میں حرج نہیں کہ آج سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کی مجبوری کہ وہ عمران خان کا ذکر و اذکار جاری رکھے۔ سوشل میڈیا کی کُلی متاع ہے ہی عمران خان سیاست کی تعریف و توصیف اور مخالفین پر بہتان و دشنام طرازی۔ برسبیل تذکرہ ! عمران خان کو کریڈٹ کہ گالم گلوچ، بدزبانی، بہتان طرازی کو جہاں اپنے خطبات و تقاریر سے عام کیا وہاں سوشل میڈیا نے اسے چار چاند لگا کر گھر گھر پہنچا دیا۔ عمران خان قائل کہ مخالفین کو اتنی گالیاں دو، اتنا بُرا بھلا کہو، اتنا جھوٹا پروپیگنڈہ کرو کہ مخالفین گھر میں منہ چھپا کر گھسیں، معاشرے میں جینا محال رہے ۔
آسودگی ایک ہی، عمران خان سیاسی سوچ اور سیاسی حکمت عملی میں یکسر بانجھ ہیں۔ لمحہ فکریہ اتنا کہ غیرمعمولی مقبولیت بھی ایک طاقت ہے ۔ طاقت کوئی بھی اور کسی قسم کی ہو ، حکمت عملی کو ہمیشہ طاقت کی ضرورت رہتی ہے نا کہ طاقت کو حکمت عملی کی ۔عمران خان اپنے طور جان چکا کہ اقتدار میں آنا ناممکن نہیں تو تاحد نگاہ کوسوں دور ضرور ہے۔ مایوسی اور فرسٹریشن میں عمران خان کافیصلہ ایک ہی، اگر ریاست ناقابل استعمال رہی تو اسکا پہلا متاثرہ فریق ’’مقتدرہ‘‘ ہی ہوگی۔ معمولی سیاسی سُدھ بُدھ رکھنے والے جانتے ہیں کہ سیاسی عدم استحکام مملکت کی جڑوں کودیمک کی طرح چاٹ چکا ہے ۔ قوموں کے عروج و زوال کی کہانی استحکام اور عدمِ استحکام سے جڑی، عدمِ استحکام میں ملک و قومیں تحلیل ہو تے دیکھی ہیں ۔ 16دسمبر 1971ء زندہ تابندہ اپنی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ کیا عمران خان کا مملکت کو کمزور کرنے کا نشانہ، تیر بہ ہدف ثابت ہو گا ؟ کچھ کہنے سے قاصر ہوں ۔
بلاشبہ آج عمران خان کی مقبولیت غیرمعمولی ، پوچھنا بنتا ہے کہ موصوف کی مقبولیت 2022 تک کہاں تھی ؟ اقتدار میں کیا عمران خان نے کشمیر فتح کیا ؟ ( کشمیر تو 5 اگست 2019کوکھو دیا) ، کیا بزدار حکومت مثالی تھی ؟ کیا کرپشن ختم کی ؟ ( نواز حکومت اور کرپشن انڈیکس 2017 ءمیں 116 جبکہ 2021 میں ریکارڈ 142 تھا ) ، کیا 1 کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دیئے ؟ کیا وجہ کہ اقتدار سے باہر آتے ہی غیرمعمولی مقبولیت ملی ، اسکا راز افشاکرنا ہوگا ۔ ماننے میں کیا حرج ہے کہ مقبولیت کا کریڈٹ سیاسی انجینئرنگ کرنیوالوں کو بھی جاتاہے ۔ عمران خان میں ریاست کو لے ڈوبنے کی ٹھاٹھیں مارتی خواہش موجزن ، کیا کامیابی مل پائیگی ۔ مقتدرہ کو فرصت ملے تو سنجیدگی سے غور کریں، گھبراہٹ کہ بہت دیر ہو چکی ہے ۔ عمران خان کی خواہش پوری ہو پائیگی، ’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘۔ دست بستہ گزارش ، خدا کیلئے اب بس کر دیں ، میں تھک چکا ہوں ۔