• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسے ماحول میں، کہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب 39برس کے بدترین سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی کی صورتحال سے دوچار ہے اور مون سون شدید طوفانی بارشوں کے اثرات کے ساتھ سندھ کی طرف بڑھتا محسوس ہورہا ہے ، ہمیں انسانی زندگیاں بچانے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، خیموں اور خوراک کے بندوبست کے اقدام و انتظام کے ساتھ یہ حقیقت بھی ملحوظ رکھنی ہوگی کہ پیش نظر صورتحال کسی ہولناک جنگ سے کم نہیں۔ شمالی علاقوں میں گلیشیئر پھٹنے اور ملک کے کئی حصوں میں کلائوڈ برسٹ کے واقعات آنیوالے وقتوں کی اس سنگینی کا واضح اشارہ دیتے رہے جس کی کافی پہلے سے پیش گوئی کی جاتی رہی ہے۔ حالات متقاضی ہیں کہ ہمارے سیاستدانوںسمیت تمام حلقے مل بیٹھ کر اس صورتحال سے نکلنے کی سعی کریں۔ اس میں شبہ نہیں کہ سوچ کے اختلاف اور دوسری وجوہ سے متعدد افراد بعض معاملات میں دوسروں سے شاکی ہیں۔ ایک جمہوری آئین کے حامل ملک کے باشندوں کی حیثیت سے ہمیں ان شکایات کے اظہار کی اجازت بھی ہے لیکن ہنگامی حالات کا تقاضا یہ ہے کہ لوگوں کو جان و مال کے خطرات اور ملک کو انفرا اسٹرکچر کی بربادی کے اثرات سے سنبھالنے میں تمام مکاتب فکر کے لوگ یکجا ہوکر کام کریں۔ حکومت میں شامل افراد کسی کوفرد کواستہزا کا نشانہ بنائے بغیر اپنے امدادی کاموں کا سلسلہ جاری رکھیں اور دیگر افراد اپنی شکایات کو پس پشت ڈال کر امدادی کاموں میں اپنی حمایت و اعانت کا ممکنہ حد تک اظہار کریں۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، اُس کا عمومی رویہ عام حالات میں پاکستان کا پانی روکنے اور مون سون میں دریائوں میں اضافی پانی چھوڑنے کے اذیت پسندانہ رجحان کی نمائندگی ہمیشہ کرتا رہا۔ مگر اس بار اس نے سندھ طاس معاہدہ کے طے شدہ طریق کار سے ہٹ کر سفارتی ذریعے سے پانی چھوڑنے کی اطلاع دے کر واضح کیا کہ وہ بین الاقوامی معاہدے کی شقوں اور ثالثی عدالت کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ اس دفعہ بھارت کی طرف سے چھوڑے گئے پانی کی مقدار غیر معمولی اور زیادہ تھی اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پانی کواہتمام کیساتھ زور دار ریلوں کی صورت میں چھوڑا گیا ۔ جمعرات کی ایک اطلاع کے بموجب تین بپھرے ہوئے دریائوں میں سے ایک دریا چناب کا ز ور ٹوٹ گیا جبکہ ملتان شہر کو بچانے کیلئے دوبند اڑانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ستلج میں سیلابی دبائو کی شدّت سے بھاولپور میں بستی یوسف والا اور احمد والا کے عارضی بند ٹوٹ گئے۔ 1400بستیاں زیر آب آگئیں، دس لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ سیکڑوں ایکڑ رقبے پر فصلیں تباہ ہوگئیں، لاکھوں ایکڑ زمینوں کی بربادی سمیت بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہےاور شہریوں کو بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنا پڑی ۔جبکہ اموات کی تعداد 12بتائی جاتی ہے اس وقت، کہ وفاق اور تمام صوبوں کے حکومتیں پوری طرح مستعد ہیں، وزیراعظم شہباز شریف مسلسل مصروف اور متعلقہ حکام سے رابطے میں رہے ۔انہوں نےسیلاب زدہ علاقوں کا بچشم خود بھی جائزہ لیا۔ نارووال میں بریفنگ کے دوران گفتگو میں میاں شہباز شریف نےپانی کے نئے ذخائر، بالخصوص چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کووقت کی ضرورت قرار دیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سمیت اہم عہدیدار ان کے ہمراہ تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے ڈیموں کی تعمیر وزیراعظم کی قائم کردہ اعلیٰ سطح کمیٹی کے ملکی سطح پر گرینڈ ڈائیلاگ میں اتفاق رائے کے بعد شروع ہوں گے جبکہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ صوبے میں 80ڈیموں کے حوالے سے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ درپیش حالات متعدد حوالوں سے نئے فیصلوں اور ہدایات کے متقاضی ہیں جن کے لئے مشاورت کا راستہ اختیار کیا جانا چاہئے۔

تازہ ترین