ہماری سرکاری مشینری میں خیانت و بے ضمیری کا روگ جس قدر سرایت کرگیا ہے، اس کی ایک بدترین مثال غریب گھرانوں کی مالی امداد کیلئے جاری کی گئی بے نظیر انکم سپورٹ اسکیم میں وفاقی و صوبائی سرکاری افسروں کی ڈاکہ زنی ہے۔ پبلک اکائونٹس کی ذیلی کمیٹی میں اس اسکیم سے سرکاری افسروں کو اربوں روپے کی منتقلی کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ سرکاری افسر اور بیوروکریٹ دوچار یا دس بیس نہیں سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور ان میں گریڈ 22کے اعلیٰ بیوروکریٹ تک شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ پبلک اکاونٹس کی ذیلی کمیٹی نے حرص وہوس پر مبنی اس گھناؤنی کارروائی میں ملوث تمام افسران پر کرمنل چارج لگانے کی ہدایت کر دی ہے۔ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کا یہ اجلاس گزشتہ روز کنوینر معین عامر پیر زادہ کی صدارت میں ہوا۔اجلاس میں تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ سینکڑوں نچلے اور اعلیٰ درجوں کے سرکاری افسر ہی نہیںبلکہ ان کی بیگمات اور پنشنرز بھی بے نظیر اسکیم سے مستفید ہونے والوں میں شامل ہیں جبکہ سرکاری ملازمین اس پروگرام سے استفادہ کرنیوالوں میں قانوناً شامل ہوہی نہیں سکتے۔کمیٹی کے اس استفسار پر کہ ان افسروں سے غصب کی گئی رقوم واپس کیوں نہیں لی گئیں، متعلقہ حکام نے بتایا کہ انکے پاس ریکوری کا کوئی نظام نہیں ہے تاہم ایف آئی اے کی جانب سے ریکوری کی جارہی ہے، لیکن اگر واقعی ایسا ہوبھی رہا ہے تو غریبوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والے سرکاری افسروں کیخلاف محض اتنی کارروائی کسی بھی صورت کافی ہے نہ قابل اطمینان۔ ایسے بے ضمیر اور حریص افراد کسی سرکاری منصب کیلئے قطعی نااہل ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان کی پردہ پوشی نہ کی جائے بلکہ اس سنگین جر م کی پاداش میں ضروری قانونی کارروائی کرکے عبرتناک سزا دی جائے تاکہ ملک کرپشن کی لعنت سے پاک ہو کہ اس کے بغیر ہمارا حال محفوظ ہوگا نہ مستقبل۔