آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 19؍ صفرالمظفّر 1441ھ 19؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
بزنس اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے گزشتہ کئی سالوں سے میں فیملی کیساتھ چھٹیاں گزارنے نہیں جاسکا لیکن اس بار بچوں نے 10 دن کے بحری کروز پر بکنگ کروادی اور میں طویل عرصے کے بعد اپنی اہلیہ، بیٹے عمیر، انکی اہلیہ، دونوں بیٹیوں انعم اور حیا کے ساتھ 14 سے 24 جولائی تک یورپ کے ’’یادگار کروز سفر‘‘ سے واپس لوٹا ہوں۔ یورپ کے بدلتے ہوئے حالات اور کروز پر دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاحوں سے تبادلہ خیال نے مفید معلومات فراہم کیں جو آج میں اپنے قارئین سے شیئر کرنا چاہونگا۔
12 مئی 2002ء کو سمندر میں اتارے جانیوالا لگژری کروز Celebrity Constellation دنیا کے بڑے اور مشہور بحری جہازوں میں سے ایک ہے جس میں تقریباً ڈھائی ہزار سیاح اور 50 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 1000عملے کی گنجائش ہے۔ اس کی لمبائی 965 فٹ (320 میٹر) ہے۔ کروز کے ذریعے مختلف ممالک میں تاریخی مقامات کو دیکھنے کیلئے ہمیں صبح 7 بجے مختلف پورٹس پر اتار دیا جاتا تھا جہاں سے مقامی ٹور آپریٹرز ہمیں چھوٹی کشتیوں اور ٹرانسپورٹ کے ذریعے ان تاریخی مقامات کا دورہ کرواکرشام 6 بجے تک دوبارہ کروز پہنچادیتے تھے جس کیلئے وقت کی پابندی نہایت ضروری تھی۔ ہمارے سفر کا آغاز اسپین کے شہر بارسلونا سے ہوا۔ بارسلونا 450 ملین نفوس پر مشتمل یورپ کا چھٹا بڑا شہر ہے جس کی جی ڈی پی 171 ارب ڈالر ہے۔

بارسلونا شہر میں یورپ کے سب سے بلند اور تاریخی چرچ"Gaudi`s Cathedral" جو 133 سال سے زیر تعمیر ہے اور اب تک اس کا صرف 70 فیصد کام مکمل ہوا ہے لیکن اُمید کی جارہی ہے کہ 2026ء تک اس چرچ کی تعمیر اور آسائش کا کام مکمل ہوجائے گا۔ چرچ کے آرکیٹیکٹ Gaudi سے جب بھی چرچ کی تعمیر میں اتنی زیادہ تاخیر کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ یہی کہتا کہ ’’میرے خدا کو جلدی نہیں۔‘‘
سیاحوں کی شاہراہ اور کیبل کار بارسلونا کا حسین نظارہ پیش کرتی ہیں۔ ہماری اگلی منزل فرانس کا ساحلی شہر Nice تھا لیکن کروز کا سفر شروع ہوتے ہی ٹیلی وژن کی خبروں سے یہ معلوم ہوا کہ داعش سے تعلق رکھنے والے خود کش حملہ آور نے Nice میں Bastille Day منانے والوں پر حملہ کرکے 84 سے زائد افراد کو ہلاک اور 308 افراد کو زخمی کردیا ہے جس کے بعد فرانس نے 3 روزہ سوگ اور ایمرجنسی کا اعلان کردیا۔ ان حالات میں جہاز کے اطالوی نژاد کپتان وکتوریو کانتو نے اعلان کیا کہ سانحے کی وجہ سے جہاز اپنی دوسری منزل Niceنہیں جاسکے گا جس سے سیاحوں کو شدید مایوسی ہوئی لیکن کروز میں سنیما ہال، تھیٹر، میوزیکل کنسرٹ، میجک شوز، انواع و اقسام کے ہزاروں کھانوں اور دیگر تفریحات نے ہمیں جلد ہی جہاز کی تیسری منزل اٹلی کے شہر فلورنس پہنچادیا۔
Livornoپورٹ سے فلورنس شہر کا بذریعہ کار سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا ہے۔ جولیس سیزر کا دریافت کردہ فلورنس شہر ثقافتی سیاحت کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہے جہاں ہمیں Cappelle، Pitti، Old Palace، Cathedral (Duomo) اور Cupola جیسی نادر عمارتیں اور مجسمے دیکھنے کو ملیں۔ واپسی پر ہم نے Pisa میں یونیسکو کے تاریخی 60 میٹر بلند Leaning ٹاور کا دورہ کیا جو تعمیر کے دوران 10ڈگری تک جھکنے کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ چوتھے روز ہم اٹلی کے معروف شہر روم پہنچے جس سے معروف سیاستدان و جنرل جولیس سیزر اور دیگر رومن امپائرز کی تباہی کی تاریخ جڑی ہوئی ہے۔ ہماری اگلی منزل اٹلی کے حسین ساحلی شہر کیپری اور المافی کوسٹ تھے جس کے سفر کیلئے خصوصی اسپیڈ بوٹس اور پرائیویٹ گاڑیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ سطح سمندر سے 524میٹر بلند المافی کوسٹ اور کیپری جزیرے جہاں صوفیہ لورین سمیت ہالی ووڈ کے معروف اداکاروں اور دنیا کے دیگر امراء کے خوبصورت ولاز ہیں، تک پہنچنے کیلئے نہایت تنگ اور دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرنا پڑتا ہے جس پر مقامی اطالوی ڈرائیورز مہارت رکھتے ہیں۔
دورے کے چھٹے روز ہم مونٹی نیگرو پہنچے۔ مونٹی نیگرو سابق یوگوسلاویہ کا ساحلی شہر ہے جس کی سرحدیں سلوانیا، کروشیا، بوسنیا، میسی ڈونیااور سربیا (کوسوو)سے ملتی ہیں۔ یورپی یونین کے کم عمر ممبر مونٹی نیگرو کو سمندر اور پہاڑوں کا شہر کہا جاتا ہے جہاں بذریعہ روڈ ایک گھنٹے کے سفر کے دوران بیلے ڈانسر (بدوا)، روسی صدر ولادی میر پیوٹن، سینٹ پیٹر، کنگ نکولا، مدرٹریسا کے تاریخی مجسموں کے علاوہ سمندراور پہاڑی وادیوں کے حسین نظارے دیکھنے کو ملے۔ ہماری اگلی منزل اٹلی کی پورٹ Ravenna تھی جو کسی زمانے میں مغربی رومن امپائر کا دارالحکومت تھی۔1387 میل بحری سفر کرکے ہم اپنی آخری منزل اٹلی کے خوبصورت و حسین شہر وینس پہنچے جسے دیکھنے کی میری فیملی کی شدید خواہش تھی۔ وینس کا پورا شہر پانی میں ہے اور سفر کرنے کیلئے کشتیاں جنہیں واٹر ٹیکسی کہا جاتا ہے، استعمال کی جاتی ہیں، اسی وجہ سے شہر کو ’’پانی، پلوں اور روشنیوں کا شہر‘‘ کہتے ہیں جس میں تقریباً 400 خوبصورت پل موجود ہیں جس میں وینس کا سب سے مشہور گرانڈ کینال پر پل پونٹی ڈی ریالٹو شامل ہے۔ تقریباً ایک ہزار سالہ قدیم شہر وینس 118 جزیروں پر مشتمل ہے جو سڑکوں کے بجائے نہروں کے ذریعے آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ وینس کی رومانوی کشتی ’’گنڈولا‘‘ ہے جس میں سیاح وینس کی پتلی گلیوں میں سفر کرکے تاریخی عمارتوں اور اپنے ہوٹل تک پہنچتے ہیں۔ وینس کا مشہور سینٹ مارک اسکوائر دن رات سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا رہتا ہے جہاں موسیقی اور کافی شاپس بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ وینس کی 2کلومیٹر طویل مرکزی بحری شاہراہ گرانڈ کینال کہلاتی ہے جو گنڈولا واٹر ٹیکسی اور اسپیڈ بوٹس کی آمد و رفت سے حسین نظارہ پیش کرتی ہے۔ وینس سے ملحق Murano شہر واقع ہے جو دنیا میں شیشہ سازی کیلئے مشہور ہے۔
یورپ کے پورے سفر میں ہمیں گرمی کا سامنا کرنا پڑا لیکن یورپین کیلئے سورج ایک نعمت تھا۔ سمندر میں کروز کے سفر کے دوران موبائل فون کے سگنلز بند ہوجاتے تھے لیکن عالمی ٹی وی چینلز کی نشریات سے ہمیں دنیا بھر کی خبریں ملتی رہتی تھیں اور میں ہر بار خوف کے ساتھ ٹیلیوژن آن کرتا تھا کہ اللہ نہ کرے پھر کوئی دہشت گردی کی خبر سننے کو ملے مگر سفر کے دوران Nice میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد امریکہ اور میونخ (جرمنی) کے شاپنگ سینٹر میں فائرنگ کے واقعات کے علاوہ پاکستان میں قندیل بلوچ کے قتل کو عالمی میڈیا نے نہایت منفی انداز میں پیش کیا جس کے بارے میں اکثر کروز پر موجود غیر ملکی سیاحوں کو وضاحت پیش کرنا پڑی۔ دوران سفر امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کے کنونشن میں ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی فیملی کی تقاریر پر بھی کچھ امریکی جوڑوں سے تبادلہ خیال ہوا اور معلوم ہوا کہ ڈیمو کریٹس حکومت کے دور میں بڑے ہتھیاروں کی موجودگی کی بنیاد پر عراق میں تباہی پھیلانے والے حملے کو امریکہ کی غلطی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ حالیہ رپورٹس میں ایسے تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی عراق میں موجودگی سے انکار کیا گیا ہے جس کی بنیاد پر امریکی عوام ہیلری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں ’’جھوٹی‘‘ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کی افغانستان پالیسی سے جانی و مالی نقصانات کو بھی امریکی قوم نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ میں نے انہیں یہ بتانے کی کوشش کی کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کیخلاف انکے انتہائی جارحانہ و متعصبانہ بیانات امریکی صدارتی امیدوار کو زیب نہیں دیتے۔ بہرحال ان 10 دنوں میں ہم قدرت کے حسین نظاروں سے نہایت محظوظ ہوئے۔ سفر کے دوران اپنے روم کی بالکنی میں سربسجود ہوتے ہوئے اللہ کا شکریہ ادا کیا کہ اُس نے ہمیں اتنی حسین اور خوبصورت دنیا عطا کی لیکن ہم نے اِسے آگ و خون میں نہلادیا ہے۔



.

ادارتی صفحہ سے مزید