ہمارے ایک دوست کوبہت شوق تھا کہ وہ بکریوں کا فارم بنائیں۔ احباب نے پوچھا کہ ساری زندگی تو آپ کو بکرے اوربکری کی پہچان نہیں ہوئی تو پھر یہ کام کیسے کرینگے؟ انہوں نے پریقین لہجے میں فرمایاکہ میں نے سب پوچھ لیاہے، اس کام میں پیسہ ہی پیسہ ہے۔ دو سال بعد انکے والد گرامی وفات پاگئے اورانکی جائیداد کااچھاخاصاحصہ اِنکے پاس آیا اورپراناشوق جاگ اٹھا۔ اگلے مہینے انہوں نے ایک جگہ زمین خریدی، فارم بنوایااور بیس بکریاں بھی رکھ لیں۔ تین ماہ بعد ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ فارم کیسا چل رہاہے؟ خوش ہوکر بولے’بہت اچھا، اب تو انڈوں کی سیل بھی شروع ہوگئی ہے‘۔ سب بوکھلاگئے کہ انڈے دینے والی بکریاں کہاں سے آگئیں۔پتاچلاکہ بکریوں کا فارم تودوماہ بعدہی بربادہوگیا تھا لہٰذا موصوف نے پولٹری فارم بنالیا ہے۔ مزید کچھ عرصے بعدملاقات ہوئی اور پوچھا کہ کام کیسا جا رہا ہے تو فخر سے بولے’فرنیچر کے کام میں بھی کبھی کسی کو نقصان ہوا ہے؟‘۔ اب کی بار پتا چلا کہ انہوں نے پولٹری فارم ختم کرکے تیار فرنیچر کا شو روم کھول لیا ہے۔ ہر چار پانچ ماہ بعد وہ نئے سے نیا کام شروع کرتے گئے اور اس دوران اچانک کہیں غائب ہوگئے۔ دس سال بعد پچھلے دنوں اچانک ان سے ملاقات ہوئی توخوشگوارحیرت ہوئی۔پوچھا کہ آجکل کیا کررہے ہیں؟ رازدارانہ لہجے میں بولے’لگے بندھے پیسے آرہے ہیں بس وہی ٹھیک ہیں‘۔ مزیدپوچھنے پرانکشاف ہواکہ عالی جاہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں نوکری کررہے ہیں اورکاروبارسے توبہ کرلی ہے۔جس بندے میں مستقل مزاجی نہ ہو، کاروبارکاتجربہ نہ ہواورصرف جوش ہی جوش بھراہوااُس کے ساتھ ایسا ہی ہوتاہے۔نہیں یقین آتاتو پوچھ لیں اُن لوگوں سے جنہوں نے شوق شوق میں ٹی وی چینل بنائے اورآج خریدارڈھونڈتے پھررہے ہیں۔
٭ ٭ ٭
دنیا بھر میں ادھار لیااوردیاجاتاہے لیکن جتناخوفناک تجربہ برصغیر کے لوگوں کوہے شائد ہی کہیں ہو۔ادھاردینے کے تجربے کاایک فائدہ ہے کہ انسان بیٹھے بٹھائے الہام کی صلاحیت حاصل کرلیتاہے۔ فون پرکوئی جاننے والا اگریہ کہے کہ آپ سے ایک ضروری کام ہے تو بندے کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں ا ورفوراًپتاچل جاتاہے کہ اگلا جملہ کیا آنے والاہے۔عموماًادھار لینے والے مقررہ مدت میں پیسے واپس کرنے میں ناکام رہتے ہیں اورپھریہ جملے تواتر سے سننے کو ملتے ہیں ’دیدیں گے، آپ کے پیسےمیں کہیں جاتونہیں رہا،اگلے مہینے لازمی دے دوں گا،بے فکررہیں پیسے دیے بغیرنہیں مروں گا۔ایک دوست نے واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ ان کے ایک جاننے والے نے دولاکھ ادھارمانگا۔دوست نے معذرت کی لیکن دوسری طرف سے مسلسل اصرارجاری رہا۔ دوست نے زچ ہوکر کہا کہ میرے پاس توصرف بیوی کا زیوربچا ہے کہتے ہیں توبیچ دیتا ہوں۔جاننے والے نے کچھ دیر سوچا اور بولا’چلیں پھروہی بیچ دیں‘۔فی زمانہ نیکی کا معیار عبادات اوروظائف نہیں۔جوبندہ مالی معاملات میں ٹھیک ہے وہی نیک ہے۔ ایک لڑکے نے لڑکی سے کہاکہ مجھے لگتاہے ہماری شادی دو تین سال لیٹ ہوجائے گی۔لڑکی حیران ہوگئی’پہلے تو تم شادی کے لیے زور ڈال رہے تھے بلکہ میرے ابوسے بھی ملاقات ہوگئی تو اب کیا پرابلم ہے؟‘۔لڑکابولا’مجھے شادی کیلئے کم ازکم دس لاکھ روپے جمع کرنے ہیں‘۔لڑکی اچھل پڑی’کیا؟لیکن تم تو کہتے تھے کہ تمہارے پاس بینک میں دس لاکھ موجود ہیں‘۔لڑکے نے آہ بھری’بالکل تھے لیکن جیسے ہی میں نے تمہارے ابو کو بتایا، انہوں نے سارے پیسے مجھ سے ادھار لے لیے۔“
٭ ٭ ٭
نورمقدم قتل کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس باقرنجفی کے اضافی نوٹس سے کچھ خاص اذہان میں طوفان برپاہوگیا ہے۔جسٹس صاحب کے نوٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ لیونگ ریلیشن شپ (شادی کے بغیرلڑکے لڑکی کا اکٹھا رہنا)پاکستانی معاشرے کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔اس نوٹ سے کئی لوگوں نے نئے نئے نقطے نکالے ہیں کہ گویا یہ وکٹم بلیمنگ ہے حالانکہ نوٹ معاشرتی، دینی اورقانونی لحاظ سے بالکل درست ہے اورمقصدیہ ہے کہ کوئی اورنورمقدم یا ظاہر جعفر نہ بن جائے۔نورمقدم کے ساتھ توپورامعاشرہ کھڑا ہے۔ا س کے ساتھ جوظلم ہوا اس پرکون قاتل کی حمایت کرسکتاہے۔ کوئی بھولا بھالاشہری اگرہنی ٹریپ میں آکرکچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھ لگ جائے اورپولیس خبردار کرے کہ ایسے کسی ٹریپ میں نہ آئیں تو کیایہ وکٹم بلیمنگ ہوگی؟اب نورمقدم کیس سے ہٹ کر بات کرتے ہیں۔ہر معاشرہ اپنے ہاں موجودکچھ بنیادی اخلاقیات کے مطابق چلتاہے۔دنیا کے ہر ملک کی اپنی سماجی اخلاقیات ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں لیونگ ریلیشن میں رہنے کا مطلب ہے کہ یہ رشتہ ہمیشہ راز میں ر ہے گا۔ اسی بات کا فائدہ کبھی مرد اٹھاتاہے اور کبھی عورت۔ہمارے سماجی ڈھانچے میں اس رجحان کے کیا اثرات ہوسکتے ہیں اسی پرجسٹس صاحب نے نوٹ لکھاہے۔
٭ ٭ ٭
آپ کبھی سچ بولنے والوں کو دیکھیں، کتنے جھوٹے لگتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہرشخص قسمیں کھا کر خود کوپارساثابت کرتاہے اورکسی دن چونا لگا کر نکل جاتا ہے۔ اعتماد کا اتنا فقدان ہوچکا ہے کہ سیدھا سچ بھی سفید جھوٹ لگنے لگتاہے۔ بھکاری کی صدا جھوٹ لگتی ہے۔ خالص شہد پر نقلی ہونے کا گمان ہوتا۔ دودھ پردِل ہی نہیں مانتا کہ یہ بھی خالص ہوسکتا ہے۔ پٹرول ڈلواتے وقت یقین ہی نہیں ہوتا کہ اسکی مقدار یا معیار درست ہوگا۔ کپڑوں کی دکانیں، کھانوں کی دکانیں، جوتے، اسپیئر پارٹس، سبزی، پھل ہرجگہ یہی خطرہ درپیش رہتاہے کہ کہیں نہ کہیں سے دو نمبری ہوجائیگی۔اسکے باوجود جس شخص سے ملیں وہ خودکواتناکھراثابت کرتاہے کہ دماغ میں گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔میرے ایک عزیز ہیں جنہیں یقین ہے کہ سچائی اُن پرآشکار ہوچکی ہے اوروہ جو عمل بھی کرتے ہیں وہی درست ہے۔یہ دوسروں کے ہرکام میں مین میخ نکالتے ہیں لیکن کوئی اگر اِن کی کسی بات پراعتراض کر دے تو آگ بگولہ ہوجاتے ہیں۔ میں ہمیشہ انکی باتوں کالطف لیتا ہوں کیونکہ قبلہ جس تیقن سے اپنی تشہیر کرتے ہیں اس سے زیادہ انٹرٹینمنٹ کوئی اور نہیں ہوسکتی۔