کراچی (ٹی وی رپورٹ) معروف تجزیہ کار حسن نثار نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت نہیں بلکہ اسکا چربہ ہے ، جمہوریت کی فحش ترین تصویر ہے، مادر پدر آزاد جمہوریت ہے اسی طرح کے مادر پدر آزاد ہمارے لیڈر ہیں اسی طرح کی مادر پدر آزاد ان کی سوچ ہے ۔ عوام بھوکے مررہے ہیں حکمران بے وقوف بنارہے ہیں کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔ کیا حمزہ شہباز اور غریب کا بچہ ایک ہیں ؟ صرف بلاول اور حمزہ ایک ہیں۔وہ جیو کے پروگرام ’’میرے مطابق‘‘ میں گفتگو کر رہے تھے۔ عمران خان کی نااہلی کے لئے مسلم لیگ ن کے ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے حسن نثار نے کہا کہ گریس نام کی چیز ہمارے سیاست دانوں میں ہے ہی نہیں ان کے رویے دیکھ کر شرم آتی ہے یہ نام نہاد جمہوریت سے فیض یاب ہورہے ہیں یہ سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں ، آف شور کمپنی ایسا ہی جیسے بینک اکائونٹ ہے میرا بھی آپ کا بھی ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے میں کہتا ہوں کہ آپ کے بینک اکائونٹ میں چوری کا پیسہ ہے اور جواب میں آپ کہتے ہیں کہ جی آپ کا بھی تو بینک اکائونٹ ہے ، یہ اس طرح کی بیہودہ بات ہے اور یہ ایسی گھٹیا بات ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے بھی گھن آتی ہے ۔وزیراعظم کی نااہلی کے لئے ریفرنس دائر کئے جانے والی پی ٹی آئی کی خاتون رہنما بیگم یاسمین کے بارے میں حسن نثار کا کہنا تھا کہ یہ بڑی دبنگ قسم کی خاتون ہیں میں انہیں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں اور یہ بڑے خاندانی لوگ ہیں ان کے سارے الزامات زبان زد عام ہیں ہر دوسرے چینل پر ان الزامات کی تکرار چل رہی ہوتی ہے لیکن ان کا الیکشن کمیشن کے پاس جانا میری سمجھ میں نہیں آیا ۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی جانب سے بھی نواز شریف کے خلاف ریفرنس کے بارے میں حسن نثار نے کہا کہ ان کا تو ذکر ہی نہ کریں تو بہتر ہے ، وزیراعظم کی طرف سے ایم این اے اسد الرحمان کو ڈانٹنے کے بارے میں حسن نثار کا کہنا تھا کہ اس میں خبر یہ نہیں ہے کہ نواز شریف کو چاہئے تھاکہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ، احترام ، چمچہ گیری یہ الگ الگ چیز ہیں ، اختلاف کا مطلب عدم احترام ہر گز نہیں ہے ، لیڈر بزرگ کی طرح ہوتا ہے اسے اختلاف کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ، اللہ کرے ہر سیاسی جماعت میں یہ کلچر پروموٹ ہو ، اسد الرحمن جیسے لوگ آگے آئیں ، تم کوئی پیر یا ولی اللہ تو نہیں ہو تم لیڈر ہو ، دوسرو ں کا حترام کرو ، سینیٹر مشاہد اللہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے حسن نثار نے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ اس طرح کے لوگ لیڈرز ہیں شرم آتی ہے یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے یہ اتنی پست اور سطحی سوچ ہے اتنی گھٹیا سوچ ہے ان صاحب کو یہ نہیں پتہ کہ عبادات سے لے کر کائنات تک رکوع و سجود سے لے کر کعبے کے طواف اور کائنات کی فنکشننگ تک سوائے ڈسپلن کے اور کچھ ہے ہی نہیں ،پیغمبر بھی بنیادی طو رپر انسان کو نظم و ضبط سکھانے آئے ، انسانی جسم بھی ڈسپلن چھوڑ دے تو بیمار ہوجاتا ہے اور موت کے نزدیک ہوجاتا ہے ، دریا ڈسپلن سے باہر ہوتا ہے تو تباہی لے آتا ہے یہ جس طرح کی مادر پدر آزاد جمہوریت ہے اسی طرح کے مادر پدر آزاد آپ کے لیڈر ہیں اسی طرح کی مادر پدر آزاد ان کی سوچ ہے ۔حسن نثار نے جمہوریت کے حوالے سے کہا کہ ہمارے ہاں جمہوریت کا رچربہ ہے ، جمہوریت کی فحش ترین تصویر ہے ، یہ جمہوریت کا جگاڑ ہے کیا لوگوں کی اکثریت کے نمائندے وہاں بیٹھے ہیں کیونکہ انہوں نے لوگوں کو جاہل رکھا ہوا ہے ۔ انہیں خبر ہی نہیں ہے کہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے اس سرمایہ دارانہ نظام میں یہ کام ہورہے ہیں ، میڈیا کے زور پر ، پروپیگنڈا کے زور پر ، اشتہار بازی کے زور پرآپ کو ایسی چیزیں خریدنے پر مجبور کردیا جاتا ہے جو آپ کی ضرورت نہیں ہوتیں آپ کو ایسی چیزیں کھانے پر مجبور کردیا جاتا ہے جن کے بغیر بھی آپ کی گزر بسر بڑی آسانی سے ہوتی ہے اور جو ٹٹ پونجیا ہے وہ ڈھول بجائے جارہا ہے کہ جمہوریت بہترین نظام ہے یہ مارشل لاء کو بھی ہائی جیک کرلیتے ہیں ۔ ایوب خان کے ارد گرد کون تھے ؟ یحییٰ خان کے ارد گرد کون تھے ؟شیخ مجیب سیاست دان ، بھٹو سیاست دان ، پرویز مشرف کی ساری کی ساری ٹیم بیٹھی ہے نا اب نواز شریف کی گود میں ، انہوں نے تمہاری آزاد ہائی جیک کی تو انہوں نے تمہاری ڈیموکریسی ہائی جیک کی ، انہوں نے تمہارے مارشل لاء ہائی جیک کئے ، گورنر ہائوس لاہور ساٹھ ارب روپے کا ہے جہاں ایک بندہ بیٹھا کیا کر رہا ہے اربوں روپے کا ہائوس عوام کو کیا دیتا ہے ؟ 60 ارب کی تو گورنر ہائوس کی زمین ہے اور یہ بدلے میں ہمیں دیتا کیا ہے ؟اسے بیچو اور ان لعنتوں سے بچو ۔ عوام بھوکے مررہے ہیں تم بے وقوف بنارہے ہو کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔ کیا حمزہ شہباز اور غریب کا بچہ ایک ہیں ؟ صرف بلاول اور حمزہ ایک ہیں۔