آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں تو ایک طرف سال 2025 ءکا اختتام ہورہاہے اور کل جب یہ تحریر شائع ہوگی تونئے سال2026ء کی صبح ایک نئے ولولے اور عزم کے ساتھ طلوع ہوچکی ہوگی، میرا یہ کالم بیک وقت اردو، سندھی اور انگریزی اخبارات میں شائع ہوگا۔جب 2025ءکے سورج نے آخری مرتبہ اپنی کرنیں سمیٹیں تو گزشتہ برسوں کی یادیں میرے ذہن میں گھومنے لگ گئیں، ابھی کل کی بات لگتی ہے جب نئی صدی کے آغاز پر جوش و خروش سے کہا جا رہا تھا کہ بیسویں صدی ختم ہو گئی۔ آج جب پیچھے مڑ کر1999کے آخری دن کو یاد کرتا ہوں تو حیرانی ہوتی ہے کہ اتنی جلدی ہم اکیسویں صدی کا ایک چوتھائی حصہ گزار چکے ہیں۔ یہی وہ صدی تھی جسکے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ دنیا کو بدل کر رکھ دے گی اور حقیقت یہ ہے کہ آج 2025 کے اختتام پر دنیا واقعی اس قدر تیزی سے بدل چکی ہے کہ کبھی کبھی اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا۔میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں اُس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس نے یہ تمام تبدیلیاں اپنی آنکھوں سے دیکھیں، وی سی آر، سی ڈی پلیئر، اینالاگ سے ڈیجیٹل کا سفر، ریڈیو سے ٹیلی ویژن، سیٹلائٹ ٹی وی، کیبل نیٹ ورک اور اب ڈیجیٹل میڈیا کے حیران کن عہدکے بعد آرٹیفشل انٹلیجنس کی نت نئی شعبدہ بازیاں۔ ایک زمانہ تھا جب پورے ملک میں صرف ایک ہی ٹی وی چینل ہوا کرتا تھا، اور آج خبر، تجزیہ اور تفریح سب کچھ آناََ فاناََہمارے ہاتھ میں اسمارٹ فون کی اسکرین پر دستیاب ہے، اخبارات ای پیپرز کی صورت میں اپنی اہمیت منوارہے ہیں، تاہم قلم کی طاقت بدستور مسلمہ ہے۔ چند دن قبل میری نظرسے معروف صحافی سلیم صافی کا ٹی وی ٹاک شو گزرا جس میں ہر پہلو سے پاکستان کی معیشت، اندرونی صورتحال اور خارجہ پالیسی پر تفصیلی گفتگو کی گئی،میری نظر میں یہ بحث دراصل اسی سوال کے گرد گھومتی رہی کہ پاکستان نے نازک دوراہے سے گزرتے ہوئے خود کو کس حد تک سنبھالا، کہاں مسائل کا سامنا کیا اور کہاں کامیاب رہا۔بلاشبہ عالمی سطح پر 2025 کئی بڑے واقعات کا گواہ رہا، مگر میری نظر میں سب سے فیصلہ کن لمحہ مئی میں ہونے والی پاک بھارت سرحدی جھڑپیں تھیں۔ جب ہمارے سے کہیں زیادہ طاقتور پڑوسی نے پہلگام کے واقعہ کو جواز بنا کر پاکستان کی خودمختاری کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو پاکستان کی بہادر افواج نے ثابت کر دیا کہ مادرِ وطن کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ہمارے بہادر ہوابازوں نے رافیل جیسے جدید اور ناقابلِ تسخیر سمجھے جانے والے طیارے کو جس مہارت اور حکمتِ عملی سے مار گرایا گیا، وہ آج بھی عالمی دفاعی ماہرین کیلئے حیرت کا باعث ہے، اس حوالے سےمختلف تجزیے سامنے آئے، عالمی میڈیا پرکئی نظریات پیش کیے گئے، مگر ایک حقیقت سب پر واضح ہو گئی کہ پاکستان کا دفاع مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان اور اس کی افواج کا کھُل کرمثبت انداز میں ذکر کیا اور خراجِ تحسین پیش کیا۔ آپریشن بنیان المرصوص کی کامیابی نے پاکستان کا قد عالمی سطح پر اتنابلند کیاکہ مشرقِ وسطیٰ میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پرپاکستان کا سبز ہلالی پرچم نمایاں طور پر سب جھنڈوں کے درمیان نصب کیا گیا۔ اسی طرح مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والی عالمی کانفرنس میں امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کو خصوصی طور پر مدعو کیا جانا ایک بڑی اور منفرد سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا۔ آج پاکستان کو عالمی سطح پر وسیع پیمانے پر پذیرائی ملنا ہر محب وطن پاکستانی کیلئے باعث فخر ہے۔سال 2025 پاکستان پیپلز پارٹی کیلئے ایک ایسا سال ثابت ہوا جس میں پارٹی نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی دبنگ قیادت میں جمہوری تسلسل، آئینی بالادستی اور مفاہمتی سیاست کے ذریعے اپنی تاریخی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا، پیپلز پارٹی نے محاذ آرائی کی بجائے ریاستی استحکام اور نظام کے تسلسل کو ترجیح دیکر خود کو ایک سمجھدار، دوراندیش اور ذمہ دار سیاسی قوت کے طور پر منوایا، آئینی عدالتوں کے قیام کی راہ ہموار کرنا پارٹی کے اُس دیرینہ منشور کی تکمیل تھا جس کا مقصد انصاف کے نظام کو سیاسی دباؤ سے آزاد بناناہے۔پاکستان کی بے لوث خدمت کا احساس مجھے وانکوانی پریوار کے فلاحی منصوبے کی طرف لے جاتا ہے، جہاں آج سے چار برس قبل بڑے بھائی ڈاکٹر پریم کمار وانکوانی کی ناگہانی وفات کے بعد اسلام کوٹ، تھرپارکر میں ذاتی وسائل سے 150 ایکڑ پر محیط پریم نگر کا خواب دیکھا گیا، آج مجھے یہ بتاتے فخر محسوس ہوتاہے کہ آج میری انتھک کاوشوں کی بدولت یتیم بچوں، عمر رسیدہ لاچار افراد، بیواؤں اورمعاشرے کے دیگر پسے ہوئے طبقات کو معاشرے کا مفید کارآمد شہری بنانے کا خواب پورا کرنے کا وقت آگیا ہے، پریم نگر میں ہنر فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ٹیکنیکل ایجوکیشن سینٹر فعال ہوچکا ہے جبکہ اسپیشل چلڈرن ہوم، پبلک اسکول اور نرسنگ پیرامیڈیکل کالج کی عمارات کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے، اسپیشل چلڈرن ہوم مارچ کے مہینے جبکہ پبلک سکول اپریل میں فعال ہوجائے گا، جولائی میں نرسنگ اور پیرامیڈیکل کالج کی کلاسز شروع کرنے کا پلان ہے، اسی طرح ایس او ایس چلڈرن ویلج بھی تیزی سے تکمیلی مراحل عبور کررہا ہے۔ غریب بے سہارا بوڑھے بے گھر لوگوں کیلئے شیلٹر ہوم، تھر یونیورسٹی، تھر نیچرل ہسٹری سینٹر وغیرہ جیسے دیگر اعلیٰ معیاری فلاحی پراجیکٹس پر بھی تیزی سے کام جاری ہے، اس حوالے سے میں سندھ حکومت اور تعاون کرنیوالے دیگر تمام اداروں کا بھی خصوصی شکرگزار ہوں۔اگرسال 2025 ءپاکستان کیلئے کامیابیوں کی نوید لیکر آیا تو عام پاکستانی گزشتہ برسوں کی طرح مہنگائی، بے روزگاری ، کرپشن ، لاقانونیت اوردیگر سماجی جرائم کا شکار رہا، اگست کے مہینے میں اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر ڈکیتی کا افسوسناک سانحہ ہوا، وہاں موجود میرے گارڈ کو لہولہان کردیا گیا، تاہم اسلام آباد پولیس بالخصوص سی آئی اے نے ایک ماہ کے اندرنہ صرف سفاک ڈکیتوں کو کامیابی سے پکڑا بلکہ قیمتی مال کی برآمدگی بھی یقینی بنائی۔ سال کے آخری دنوں میں بنگلہ دیش کی سابقہ وزیراعظم خالدہ ضیاء کے انتقال کی خبر نے مجھے رنجیدہ کردیا، وہ پاکستان کیلئے خصوصی نرم
گوشہ رکھتی تھیں اور انکی سیاست کا محور پاکستان سے دوستانہ تعلقات کی تجدید تھا۔سال کے آخری دن یمن کے معاملے پرسعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے مابین چپقلش کی خبروں نےخطے میں ایک نیا بھونچال برپا کردیا ہے، مڈل ایسٹ کے ان دونوں اہم ترین ممالک کا شمار پاکستان کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے، تاہم یہ نئی پیش رفت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم سالِ نو میں نہایت احتیاط، سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو آگے بڑھائیں، میری نظر میں نقصانات صرف جنگ یا بحران سے نہیں ہوتے، بعض اوقات تاخیر، تذبذب اور عدم فیصلہ کا خمیازہ بھی قوموں کو بھگتنا پڑتاہے۔ میں اپنے مالک سے دعا کرتا ہوں کہ سالِ نو پاکستان کیلئے ترقی، استحکام اور خوشحالی کا سال ثابت ہو۔