سندھ میں سال 2025 تعلیم کے لیے بہتر نہیں رہا۔ صوبے میں درسی کتب کی بروقت اشاعت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہوا۔
سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے مبینہ طور پر 5 ارب روپے مالیت کی کتابیں من پسند پبلشرز سے چھپوانے کے انکشاف کے بعد اینٹی کرپشن نے ٹیکسٹ بورڈ کے خلاف تحقیقات کا آغاز بھی کیا، مگر بااثر شخصیات کے ملوث ہونے کے باعث تحقیقات آگے نہ بڑ سکیں۔
اردو بازار ٹریڈز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ساجد یوسف کا درسی کتب کے بحران سے متعلق کہنا ہے کہ بدقسمتی سے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ پر مافیا کا راج برقرار ہے، اس ادارے میں چند من پسند پرائیویٹ پبلشرز ہیں جن کو کتابیں چھاپنے کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ طاقتور مافیا گزشتہ 54 سال سے یہی کرتا چلا آرہا ہے یہ لوگ جان بوجھ کر وقت پر کتابیں مارکیٹ میں نہیں لاتے، ان کے خلاف آواز اٹھانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
ساجد یوسف کا کہنا تھا کہ یہ مافیا کرپشن کرنے کے لیے سرکاری کتب کی چھپائی میں تاخیر اور نجی پبلشرز کو فائدہ پہنچانے کے لیے کم معیار والا کاغذ استعمال کرنے کے علاوہ کئی حربے استعمال کرتا ہے۔
سندھ کے 8 تعلیمی بورڈز کے حوالے سے بھی یہ سال خراب رہا سال 2025 میں بھی مستقل کنٹرولر، سیکریٹری اور آڈٹ افسر نہیں لگائے جاسکے جس کی وجہ سے میٹرک اور انٹر سال دوئم کے نتائج میں تاخیر ہوئی جبکہ نتائج کی تاخیر کے چکر میں حیدرآباد بورڈ کے چیئرمین کو رخصت پر بھیج دیا گیا لیکن اصل ذمہ دار قائم مقام کنٹرولر کو بچالیا گیا اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
میٹرک بورڈ کے قائم مقام سیکریٹری پر خواتین کو ہراساں کرنے کے الزامات کے باوجود اس کے خلاف تحقیقات شروع نہیں کی گئیں۔ اسی طرح 2025 میں بھی سندھ کی کئی جامعات طویل عرصے تک مستقل وائس چانسلر سے محروم رہیں۔
2025 میں آئی بی اے سکھر کے ایم ڈی کیٹ کے نتائج میں سندھ بھر کے تعلیمی بورڈز سے اے ون اور اے گریڈ لانے والے طلبہ کی اکثریت یعنی 56 فیصد امیدوار ایم بی بی ایس کے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں فیل ہوگئے جبکہ بی ڈی ایس کے 48 فیصد امیدوار ٹیسٹ میں ناکام ہوگئے۔
سندھ ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں 2024 میں بھی اہم ترین عہدے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پر تعیناتی نہ کی جاسکی جب سے سندھ ہائی ایجوکیشن کمیشن قائم کیا گیا تب سے یہ عہدہ خالی ہے۔
سال کے آخر میں بین الاقوامی سطح پر معروف تحقیقی ادارہ ICCBS (انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بایولوجیکل سائنسز) اور یونیورسٹی آف کراچی کے درمیان انتظامی علیحدگی کی کوشش نے بڑے اکیڈمک ہنگامے کو جنم دیا۔ اس عمل کو علمی برادری نے یونیورسٹی کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا اور اس کے خلاف احتجاج ہوا۔
بعدازاں ایم کیو ایم اور ڈاکٹر عطاالرحمنٰ کی کوششوں کے باعث مقتدر حلقوں نے مداخلت کی جس کے باعث جامعہ کراچی کو دو لخت کرنے کا یہ فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔
یہ واقعہ سندھ میں اعلیٰ تعلیم کے پالیسی سازی کے عمل، ادارہ جاتی شفافیت اور سیاسی اثر و رسوخ کے سنگم کی تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔
2025 میں سندھ میں آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ایک اندازے کے مطابق 75 لاکھ سے 80 لاکھ بچے صرف سندھ میں اسکولوں سے باہر ہیں۔
سرکاری و غیر سرکاری تخمینوں کے مطابق لاکھوں بچے ایسے ہیں جو یا تو کبھی اسکول گئے ہی نہیں یا مختلف سماجی، معاشی اور انتظامی وجوہات کے باعث تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔