• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران جنگ کے دوران خلیجی ممالک سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں اضافہ ہوا، سیکریٹری تجارت

قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس کے دوران افغانستان سے تجارت کی بندش سے پاکستان پر اثرات پر بحث کی گئی۔ اس دوران یہ بھی بتایا گیا کہ ایران اور امریکا جنگ کے دوران پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں اضافہ ہوا ہے۔

اس دوران سیکریٹری تجارت کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ اکتوبر 2025 میں بارڈر بند ہوا، پاکستان کو افغان بارڈر بندش سے ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کا تجارت میں نقصان ہوا۔ خلیجی جنگ کی وجہ سے برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

سیکریٹری تجارت نے بتایا کہ زرعی اور غذائی اشیاء کی برآمدات میں 2 ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ ہوئی۔ بھارت کی طرف سے چاول کی برآمد کھولنے سے پاکستانی چاول کی برآمد میں کمی ہوئی۔ بھارتی چاول پاکستان کے چاول سے کم قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔

اس دوران ایم کیو ایم پاکستان کے فرحان چشتی نے کہا کہ بھارتی تاجر پاکستانی چاول کو بھارتی برانڈنگ کر کے فروخت کرتے ہیں۔

حکام وزارت تجارت کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں پاکستانی باسمتی چاول بھارت سے مہنگا بکتا ہے۔

سیکریٹری تجارت نے کہا کہ خلیجی جنگ سے ٹریڈ روٹس بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ہوائی روٹس کی مکمل بحالی ہوئی ہے تاہم سمندری روٹس ابھی مکمل بحال نہیں ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ سے پہلے خلیجی ممالک کو برآمدات میں 10 فیصد اضافہ کا رجحان تھا۔ متحدہ عرب امارات کو برآمدات میں 24 فیصد کمی ہوئی ہے۔ ایران کو ایک ماہ میں 14 ہزار ٹن آم درآمد کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران خلیجی ممالک سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں اضافہ ہوا۔

رکن کمیٹی شائسہ پرویز کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار سالوں میں برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ 

رکن رمیش کمار وانکونی نے کہا کہ ن لیگ نے پہلی مرتبہ مانا ہے کہ محنت کر رہے ہیں مگر ڈلیوری نہیں ہو رہی۔

سیکریٹری تجارت نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر بندش سے وسطی ایشیائی ریاستوں کو تجارت میں مشکلات ہیں۔ ایران سے وسطی ایشیا جانے کے لیے 20 سے 22 دن لگتے ہیں، افغانستان سے 10 سے 12 دن میں برآمدات وسطی ایشیا پہنچ جاتی تھیں۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر بندش کے بعد ایران اور چین کا راستہ اختیار کیا گیا۔

سیکریٹری تجارت نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت میں بینکنگ چینلز نہ ہونا بڑی رکاوٹ ہے۔

جاوید حنیف کا کہنا تھا کہ افغانستان لینڈ لاکڈ مارکیٹ ہے، اس میں پاکستان کے لیے بڑے فوائد ہیں۔

سیکریٹری تجارت نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاشی شراکت اور تجارتی روابط بڑھانے پر کام کیا جا رہا ہے۔ ایران کے ساتھ بارٹر ٹریڈ بڑھانے پر مذاکرات جاری ہیں۔

تجارتی خبریں سے مزید