• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقوام متحدہ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں طالبان کے اس دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ افغان سرزمین دہشت گرد گروہوں کی جانب سے پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کیلئےاستعمال نہیں ہو رہی۔حالانکہ طالبان نے 2020ء میں دوحہ معاہدے کے تحت یہ وعدہ کیا تھا کہ افغانستان کو کسی دوسرے ملک کے خلاف خطرے کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔اس سلسلے میں طالبان نے داعش خراسان کے خلاف تو سخت کارروائیاں کیں لیکن افغانستان میں موجود دیگر دہشت گردگروہوں کیخلاف جن میں مشرقی ترکستان اسلامی تحریک، القاعدہ،تحریک طالبان پاکستان،جماعت انصاراللہ اوراتحاد المجاہدین پاکستان شامل ہیں کیخلاف کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں کی۔اسی وجہ سے ان دہشت گرد گروہوں کی جانب سے وقتا فوقتاپڑوسی ممالک پر حملے ہوتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں تاجک چیک پوسٹوں پر افغان سرزمین سے حملہ کیا گیا ہے جس میں تین دہشت گردوں کے علاوہ تین تاجک بھی مارے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ پچھلے ایک مہینے میں تاجک سرزمین پر دہشت گردوں کا یہ تیسرا حملہ ہے۔ رپورٹ میں افغان سرزمین کو علاقائی استحکام کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان، القاعدہ کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں اور افغانستان کے کئی صوبوں میں ان کی مستقل موجودگی ہے اگرچہ ان کی سرگرمیاں زیادہ نمایاں نہیں کی جاتیں مگر اقوام متحدہ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کو ایک ایسا سازگار ماحول میسر ہے جو انہیں تربیت و تنظیم نو کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے برعکس داعش خراسان کو طالبان کا بنیادی مخالف تصور کیا جاتا ہے، طالبان کی کارروائیوں کے باوجود یہ گروہ اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور افغانستان کے اندر و بیرونی ممالک میں حملے کرتا رہتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق علاقائی استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ تحریک طالبان پاکستان ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے طالبان کے بعض عناصرکی مکمل اور مضبوط حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے انہیں افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے کارروائیاں کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ اس رپورٹ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طالبان کے سرکاری بیانات اور اس کے مقابلے میں زمینی حقائق میں زمین و آسمان کا فرق ہے جس کی وجہ سے افغانستان خطے کی سلامتی کے لیے مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تاریخی روابط کو مدنظر رکھتے ہوئے طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان تعلقات منقطع ہونے کے امکانات بعیدالقیاس ہے۔کچھ اندازوں کے مطابق صرف 2025ء میں پاکستان پر چھ سو سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں جن میں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لڑکیوں کے اسکولوں پر نہ صرف حملے کئے گئے بلکہ ان کو آگ بھی لگا دی گئی۔یاد رہے پاکستان پر یہ حملے زیادہ تر پیچیدہ نوعیت کے تھے جن میں بیک وقت کئی حملہ آور گاڑیوں میں نصب بارودی مواد کے ساتھ ساتھ خود کش حملہ آوروں کی پیدل ٹیموں کا بھی استعمال کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد تقریبا چھ ہزار ہے جو افغانستان کے صوبوں خوست، کنڑ، نگرہار اور پکتیکا میں مقیم ہیں جبکہ اس تنظیم کے سربراہ نور محمد ولی کے کابل میں رہائش پذیر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سرحدی راستوں کی بندش سے افغان معیشت کو تقریبا دس لاکھ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ چمن سرحدی گزرگاہ کی بندش کی وجہ سے پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں بھی عام زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے اور پشتون قبائلی جرگے کی جانب سے سرحد کھولنے کا مطالبہ اس بڑھتے ہوئے انسانی اور معاشی نقصان کی نشاندہی کرتا ہے۔ چمن، طورخم اور دیگر چھوٹی سرحدی گزرگاہوں پر عام لوگوں کی زندگی تجارت، مزدوری، ٹرانسپورٹ اور آمد و رفت سے جڑی ہوئی ہے۔ سرحد بند ہونے سے لوگوں کا کاروبار ایک دم ختم ہوجا تاہے اور دکانداروں، مزدوروں، ڈرائیوروں و تاجروں کے لیے یہ بندش زندگی گزارنا مشکل بنا دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سارے خاندان سرحد کے دونوں اطراف رہتے ہوئے رشتہ داری، شادی اور کاموں کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جس سے والدین بچوں سے، میاں بیوی ایک دوسرے سے اور مریض علاج سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جو ٹرک ڈرائیور لوگوں کا سامان لے کر راستے میں پھنس جاتے ہیں انہیں کھانے پینے اور آمدن کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ سیکورٹی خدشات اپنی جگہ ایک مکمل حقیقت ہیں، لیکن سرحدی علاقوں میں سخت سیکورٹی نقل و حرکت کی بندش کی وجہ سے عوام کا ریاست پر اعتبار کم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ایسی پالیسیاں جو عام لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دیں اس سے مسائل بڑھتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلی جنوری میں ٹی ٹی پی نے اپنے حملوں کے اہداف میں پاکستانی فوج کی ملکیت میں چلنے والے کاروبار بھی شامل کر لئے ہیں اور چینی اداروں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں شدت آئی ہے۔ یاد رہے کہ اگست 2021ء میں جب طالبان کابل پر قبضہ کر رہے تھے تواس دورکے ہمارے حکمرانوں نے بھرپور طریقے سے اس پر خوشی کا اظہار کیا تھا حالانکہ اس وقت بھی کئی ترقی پسند دانشوروں نے ریاستی دانشوروں کو تصویر کے دونوں رخ دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نظریاتی طور پر مکمل طور ہم آہنگ ہیں اور یہ کہ ان کا نظریہ صرف افغانستان تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ پورے خطے کو اپنی نظریاتی اساس کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ آج وقت کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ٹی ٹی پی کے بارے میں اپنی غلط پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں کیونکہ ہمارے ہاں دہشت گردی کے خلاف بندوق اور بارود تو استعمال ہوا ہے مگر اس انتہا پسندانہ ذہن کے خلاف فکری اقدامات نہیں کیے گئے۔

تازہ ترین