برطانیہ نے جنگ سے متاثرہ خلیجی ممالک میں پھنسے ہزاروں برطانوی شہریوں کو نکالنے کیلئے منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی طرف سے حملے کے بعد ایران، مختلف خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنارہا ہے جس وہاں موجود برٹش شہریوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں۔
فارن آفس نے برطانوی شہریوں سے کہا ہے کہ وہ مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور فارن آفس کی تیزی سے تبدیل ہوتی سفری ہدایات پر نظر رکھیں، بحرین، اسرائیل، فلسطین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود برطانوی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ فارن آفس کے ساتھ رجسٹر ہوں، فارن آفس کی ہدایت کے بعد 76 ہزار برطانوی رجسٹر ہوچکے، جن میں سے اکثریت یو اے ای میں مقیم برطانویوں کی ہے، قطر اور متحدہ عرب امارات میں برطانوی سفیر بڑی ائیر لائنز سے مسلسل رابطے میں بھی ہیں۔
واضح رہے کہ ماضی میں اتنی بڑی تعداد میں برطانویوں کو نکالنے کیلئے آپریشن نہیں کیا گیا ہے، برطانوی شہریوں کے انخلا کی کوششیں، فارن سیکرٹری یوویٹ کوپر اور منسٹر ہمیش فالکنر کی سربراہی میں کی جارہی ہیں۔
گزشتہ شب وزیراعظم سر کئیر اسٹارمر نے ایران کی طرف سے داغے جانے والے میزائلوں سے برٹش افراد کی جان کو خطرے کے بعد امریکا کو اپنے فوجی اڈے بھی استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔
کنزرویٹو پارٹی کی شیڈو فارن سیکرٹری پریتی پٹیل کے مطابق حکومت کو ایران پر حملوں کی حمایت میں مزید فعال ہونا چاہیے، جبکہ گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی نے ایران پر حملوں کو غیر قانونی اور بلااشتعال قرار دے دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کی حمایتی فارن سیکرٹری اس وقت مذمت نہیں کرتیں جب ٹرمپ کسی ملک پر حملہ کرکے اس کے رہنما کو قتل کرتے ہیں۔