• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیکیورٹی فورسز نے واضح کردیا کسی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، صدر مملکت

صدر مملکت آصف علی زرداری : فائل فوٹو
صدر مملکت آصف علی زرداری : فائل فوٹو 

صدر مملکت آصف علی زرداری کا  کہنا ہے کہ ہم نے پچھلے سال معرکہ حق میں علاقائی طاقت کا تاثر توڑ دیا، 26 فروری کی رات طالبان رجیم نے مغربی سرحد پر حملے کیے، ہماری سیکیورٹی فورسز نے فیصلہ کن اقدام سے واضح کر دیا کسی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ہماری بہادر افواج نے معرکہ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی تذویراتی فتح میں بدل دیا، جب بھی قومی خود مختاری کو کسی محاذ پر بھی چیلنج کیا گیا پاکستان نے مضبوط عزم کا اعادہ کیا، دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں پر ہماری افواج نے پیشہ وارانہ مہارت اور نظم و ضبط کا ثبوت دیا۔

آصف زرداری نے کہا کہ افغان طالبان کو افواج پاکستان نے فیصلہ کن جواب دیا، افواج پاکستان کی قربانیاں صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں ہیں، سیاسی قیادت متحد اور قوم ثابت قدم رہی، نڈر سپوتوں کی مستعدی، بہادری، خدمت کی بدولت ہم آج محفوظ ہیں، مختصر ہوں یا طویل ہماری افواج اور اداروں کی قربانیوں کو محض اعداد میں نہیں سمیٹا جا سکتا، ہم میڈیا پر اپنی بہادر افواج اور اداروں کے کارنامے فخر سے دیکھتے ہیں لیکن ان کی تربیت، مشقت اور خدمت میں شامل خون، پسینہ اور آنسو نہیں دیکھ پاتے۔

صدر مملکت نے کہا کہ بطور 2 بار منتخب صدر مملکت پارلیمنٹ سے یہ میرا 9واں خطاب ہے، پارلیمنٹ سے ایسا ہر خطاب جمہوری نظام کے تسلسل، ذمہ داری کی یاد دہانی ہے،  قوموں کا امتحان صرف بحران میں نہیں، اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے، نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر ہمیں اسی عزم کو آگے بڑھانا ہے۔

آصف زرداری نے کہا کہ ملکی خود مختاری کا تحفظ، آئین کی حکمرانی اور معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے، اپنے شہریوں کی خوشحالی، امن کے لیے ترقی اور استحکام کا عمل آگے بڑھانا ہے، آج ہم ان بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں، قائد اعظم نے ایسی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا جو آئین اور قانون کی حکمرانی پر قائم ہو، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے قربانی اور مثالی قیادت سے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ میں نے پچھلے دور میں اصل آئین کو بحال کیا، میں نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کے حوالے کیے، یہ منصب وفاقی اکائیوں کے درمیان پل اور آئینی قوانین کا نگہبان ہے، گزشتہ 10 ماہ میں ہماری قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کے خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے، اور ایوان میں نعرے لگائے۔

قومی خبریں سے مزید