• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے اپنے ایک عالم فاضل دوست سے پوچھا کہ حساس انسان کون ہوتاہے؟ وہ گہری سانس لے کر سوچ میں گم ہوگیا پھر صوفے پر بیٹھ کر چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولا”حساس انسان وہ ہوتا ہے جو بہت زیادہ حساس ہوتا ہے“۔ یہ سنتے ہی مجھے حساس انسان کے ساتھ ساتھ ”چول انسان“ کا بھی پتا چل گیا۔ حساس لوگوں میں خواتین سرفہرست ہیں،اِنہیں ہر وہ بات دُکھ دیتی ہے جو انکے خلاف جاتی ہو۔یہ پورے سسرال سے لڑ جھگڑ کے بیٹھ جاتی ہیں اور پھر سسرال میں کسی کا رشتہ طے ہونے پر ساری رات شوہر کا سر کھاتی ہیں کہ”کسی کو توفیق نہیں ہوئی مجھ سے بھی پوچھ لیتے“۔ویسے تو لڑکیاں بھی حساس ہوتی ہیں لیکن شادی سے پہلے ان کی حساسیت عجیب و غریب قسم کی ہوتی ہے۔ یہ ساری ساری را ت اس بات پہ آنسو بہاتی رہتی ہیں کہ ان کے منگیتر نے اِن کے کہنے پر ”پنجاب نہیں جاؤں گی“ کیوں نہیں دیکھی۔کنوارے بھی حساس ہوتے ہیں لیکن جونہی انکی شادی ہوتی ہے ان کی ساری حسیات دم توڑ جاتی ہیں۔کیونکہ شادی کچھ ہی عرصے میں انہیں ایسا پتھر بنا دیتی ہے جس پر کسی چیخ و پکار،کسی بے عزتی کا اثر نہیں ہوتا۔

٭ ٭ ٭

گزشتہ دنوں محلے میں نئی تنظیم ”انجمن حقوق ِ معاشرہ“ بنی تو مجھے بھی اس کا ممبر بننے کی دعوت دی گئی۔ اِس تنظیم کے سربراہ محلے کی ایک ہمہ جہت شخصیت شیروانی صاحب ہیں جنکا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے حقوق لینے کیلئےکسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔اِس موقع پرانہوں نے ا یک رقعت آمیزتقریربھی کی اور حقوق کی جنگ کے حوالے سے اپنے آبائو اجداد کی قربانیوں کا ذکر کیا۔ فرمایامیرے دادا جی اپنا حق حاصل کرتے کرتے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ میں نے اپنی کنپٹی کھجائی ”معافی چاہتاہوں،آپ کے دادا جی تو پیر گھنٹی شاہ کے میلے میں لنگر لیتے ہوئے رش میں آکر نہیں کچلے گئے تھے؟“۔شیروانی صاحب کا چہرہ سرخ ہوگیا‘ ایک دم چلائے”تو کیا لنگر میں اپنا حصہ وصول کرنا ان کا حق نہیں تھا؟“میں نے جلدی سے اثبات میں سرہلادیا۔”انجمن حقوق معاشرہ“ میں شامل اراکین کا جائزہ لیا تو ان میں اکثریت اُن کی نظر آئی جنہوں نے ابھی تک ”حق مہر“ بھی ادا نہیں کیا۔ میں نے گزارش کی کہ میری تمام تر خدمات تنظیم کیلئے حاضرہیں لیکن پلیز نہ مجھے کوئی عہدہ دیا جائے نہ کہیں نام ظاہر کیا جائے۔ شیروانی صاحب نے اسے اپنی انسلٹ سمجھا، طنزیہ لہجے میں بولے”ظاہری بات ہے آپ کا نام ظاہر کرکے ہم نے اپنے گھروں میں فساد نہیں ڈلوانا“میں چونک گیا”کیا مطلب؟ میرے نام میں ایسی کیا بات ہے؟؟؟“چہک کر بولے”زنانہ جھلک ہے“۔

٭ ٭ ٭

خواتین وحضرات!آجکل کئی بیویاں اپنے خاوند کا دل جیتنےکیلئے دودوسال میکے نہیں جاتیں۔ ان کے ذہن میں ہوتا ہے کہ اگر وہ کم سے کم میکے جائیں گی انکے خاوند اُن سے بہت خوش ہوں گے۔ ایسی گمراہ کن سوچیں ہی گھربرباد کرتی ہیں۔خاوندوں کے بس میں ہو تو وہ گرمیوں کی چھٹیاں بیویوں کیلئے بھی لازمی قرار دے دیں۔ویسے بھی بیویاں میکے نہ جائیں توخاوند اور بیوی جڑواں لگنے لگتے ہیں۔کئی عورتیں میکے جائیں تو ان کا دل پسند موضوع ماں اور بہنوں سے اپنے سسرال کے ”بھیانک جرائم“ ڈسکس کرنا ہوتاہے تاہم مرد کو عموماً ایسی غیر نصابی گفتگو سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی لہٰذا وہ اپنا ”قیمتی وقت“ دوستوں میں بسر کرنا زیادہ پسند کرتا ہے۔ بیوی اگر شادی کے پہلے سال میکے جائے تو خاوند اس کی واپسی پر مختلف تحائف سے اس کا استقبال کرتاہے، دوسرے سال اسکی روانگی پرتحائف پیش کرتاہے۔سچی بات تویہ ہے کہ بیویاں خاوند کی آزادی سے نہیں گھر کی بربادی سے ڈرتی ہیں۔یہ جانتی ہیں کہ خاوند کی طبیعت میں بےپروائی اور فضول خرچی ہے اسی لیے یہ پیسہ پیسہ جوڑنے کی کوشش کرتی ہیں۔مشکل وقت میں یہ بیویاں ہی ہیں جنکے پاس کچھ نہ کچھ جمع کیا ہوا نکل آتاہے۔ اِن کی عدم موجودگی وقتی خوشی تو دے سکتی ہے‘ ازلی نہیں کیونکہ یہی گھر کو گھر بناتی ہیں۔

٭ ٭ ٭

بہت سے لوگ بسنت کے خلاف ہیں، لیکن باؤ بشیر چوہدری تو لڑنے مارنے ا ور گالیوں پر اُتر آتا ہے۔آج سے پندرہ بیس سال پہلے میں نے اسے ایک پتنگ فروش کی دکان پرنوجوان لڑکوں کوانتہائی غصے میں پتنگ بازی سے منع کرتے دیکھاتھا۔پتنگ خریدنے والے ایک لمبے لڑکے نے نہایت درشتی سے پوچھا”تجھے بسنت پسند نہیں، نہ منا‘ ساری دنیا کو کیوں گالیاں دیتا پھر تا ہے؟“۔باؤبشیرکا بالوں میں جکڑا ہوا چہرہ اوپر تھا، اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اُس نے کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن لمبے لڑکے نے اس کے بالوں کو زور سے جھٹکا دیا اورباؤ بشیر کی زبان دانتوں ہی میں کٹ گئی۔ اُس نے قمیض کی آستین سے منہ کا لہو صاف کیا‘ کپڑے جھاڑے اور زور زور سے رونے لگا۔سب خاموش کھڑے تھے۔ ایک محلے دار نے آگے بڑھ کر کہا ”باؤ بشیر! یار غلطی تیری بھی تو ہے ناں‘ کیوں گالیاں دیتا ہے؟لڑکے بالے ہیں طیش میں آ جاتے ہیں۔“ باؤ بشیرنے بلکتے ہوئے چہرہ اوپر کیا”میاں جی! پانچ سال پہلے میرا اکلوتا بچہ بسنت کے دن گلے پر ڈور پھر جانے سے مر گیا تھا‘ اس کی سر کٹی لاش دیکھ کر اس کی ماں بھی موقع پر مر گئی۔بسنت میرے دو پیاروں کی موت کا دن ہوتا ہے‘ اس دن میں اپنے دو پیاروں کی برسی مناتا ہوں‘ سچے دل سے بتائیے گاکہ اگر آپ اپنے پیاروں کی موت کا ماتم کر رہے ہوں اور لوگ باجے بجا رہے ہوں تو کیسا لگے گا۔ وہ میاں صاحب کے گلے لگ کر دھاڑیں مارنے لگا۔ پورا مجمع بت بنا ہوا تھا۔ ایک لمحے کیلئے تو یوں لگا جیسے سب مر گئے ہیں اور صرف باؤبشیر زندہ ہے۔

تازہ ترین