اسلام آباد ( طاہر خلیل ) PTI میں سیاسی کشمکش، گروپ بندی واضح، سپیکر رابطہ کاری سے پیچھے ہٹ گئے، پالیسی سازی فیصلہ سازی میں پارٹی قیادت نظر انداز ،اختیارات خاتون لیڈر نے سنبھال لئے۔
دھرنے کے شرکا نے سوال اٹھا دیا بانی کے طبی معائنے کے وقت فیصلے کے باوجود فیملی ممبر پارٹی رہنما کیوں جیل نہ پہنچے؟
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر کھلے طور پر یہ باتیں سامنے آرہی ہیں کہ علیمہ خان پارٹی ٹیک اوور کرنا چاہتی ہیں، اسی لئے پارٹی کے اندر صف بندی نمایاں ہو رہی ہے۔
ایک جانب سابق سپیکر اسد قیصر کے پی پی ٹی آئی کے صدر جنید اکبر اور قومی اسمبلی میں چیف وہپ عامر ڈوگر ہیں جنہوں نے عمران خان کو طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے سپیکر سردار ایاز صادق کے ذریعے حکومت سے بات چیت کی۔
ذرائع کے مطابق سپیکر سردار ایاز صادق سے مراکش دورے سے قبل پی ٹی آئی کی مذکور قیادت نے طبی سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے بات چیت کی معاملہ فہمی سے آگے بڑھایا اور حکومت نے سردارایا ز صادق کے ذریعے پی ٹی آئی قیادت کو آگاہ کیا تھا کہ ایک سرکاری اور ایک پرائیوٹ ڈاکٹر جیل میں عمران خان کا طبی معائنہ کریں گے۔
اسپیکر کے ذریعے اس بات کو بھی مانا گیا کہ طبی معائنے کے وقت ایک فیملی ممبر اور پارٹی کے ایک لیڈر کو رسائی کی اجازت دی جائے گی۔