• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ریاست بہارمیں شادی کیلئے 62 ہزار روپے میں لڑکی دستیاب ہے، بھارتی وزیر کے شوہر کے بیان پر شدید ردعمل

اسلام آباد(محمد صالح ظافر)بھارتی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے تعلق رکھنے والی ایک وزیر کے شوہر نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست بہار میں لڑکیاں شادی کےلئے محض 20 ہزار بھارتی روپے(62ہزار پاکستانی روپے) میں دستیاب ہیں، ان کے اس بیان پر بھارت میں شدید رد عمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بھارتی ریاست اتراکھنڈ کی خاتون وزیر ریکھا آریا کے شوہر گردھاری لال ساہو کی اس حوالے سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ اس مبینہ کلپ میں ساہو نے ریاست بہار کی لڑکیوں کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دیے، جس پر بہار اسٹیٹ ویمن کمیشن کی جانب سے شدید تنقید اور اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے یہ تبصرے دسمبر میں اتراکھنڈ کے ضلع الموڑہ میں منعقدہ ایک تقریب سے منسوب ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، اتراکھنڈ کی وزیر برائے بہبودِ خواتین و اطفال کے شوہر گردھاری لال ساہو نے یہ ریمارکس نوجوانوں کے ایک گروپ سے گفتگو کے دوران دیئے۔ جب انہوں نے نوجوانوں سے ان کی ازدواجی حیثیت کے بارے میں دریافت کیا تو کہا کہ "کم قیمت پر لڑکیوں" کے ساتھ شادیوں کا انتظام آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ساہو کو مبینہ طور پر یہ کہتے سنا گیا کہ "کیا تم بڑھاپے میں شادی کرو گے؟ اگر تم شادی کرنے کے قابل نہیں ہو تو ہم تمہارے لیے بہار سے لڑکی لے آئیں گے۔ تم وہاں سے 20,000 سے 25,000 روپے میں لڑکی حاصل کر سکتے ہو۔" کانگریس کے ریاستی صدر گنیش گودیال نے کہا، "وزیر آریا کے شوہر کا یہ بیان بھارت کی بیٹیوں کی توہین ہے، خواہ ان کا تعلق بہار، کیرالہ یا اتراکھنڈ سے ہو۔"

دنیا بھر سے سے مزید