2025ء بھی مختلف شخصیات کے عروج و زوال کی کہانیوں سے بھرپور رہا۔ کئی اہم شخصیات، بدلتے حالات و واقعات کے تناظر میں منظرنامے سے اوجھل ہوئیں، تو کئی بہت نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔ آئیے!’’اِن‘‘ اور’’آؤٹ‘‘ کی اِس داستان پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
عمران خان آؤٹ، وزیرِ اعظم شہباز شریف اِن
2025ء میں عمران خان بدستور پابندِ زندان رہے اور خبروں میں بھی شاذ و نادر ہی نظر آئے کہ جیل میں رہتے ہوئے کوئی ایسا کام نہیں کر سکتے تھے، جو’’قابلِ خبر اندازی‘‘ ہو۔
درحقیقت، اُن کی اپنی حرکتیں ہی اُنہیں لے ڈوبیں۔ وہ اپنے پورے دورِ حُکم رانی میں جس رعونت کا مظاہرہ کرتے رہے بلکہ تاحال کر رہے ہیں، اُس نے بالآخر اُنہیں نہ صرف خبروں، بلکہ بڑی حد تک سیاست سے بھی آؤٹ کر دیا۔ گزشتہ برس وہ صرف اپنے رشتے داروں سے مل پائے اور وہ بھی کبھی کبھار۔ جب کہ دو ہزار پچیس وزیرِ اعظم شہباز شریف کے لیے فیصلہ کُن سال ثابت ہوا۔
جہاں معاشی بحران، منہگائی، ٹیکس اصلاحات اور آئی ایم ایف پروگرام نے حکومت کے ہر ہر قدم کو آزمائش میں ڈالا، وہیں تمام تر مشکلات کے باوجود، شہباز شریف نے انتظامی مشینری کو مسلسل متحرّک رکھا اور قومی سطح پر بڑے پالیسی فیصلوں کا دفاع کرتے رہے۔
ان کا اندازِ حکم رانی ایک بھرپور، سرگرم اور مائیکرو مینیجر لیڈر کا رہا، جو روز مرّہ انتظامی معاملات میں براہِ راست دل چسپی لیتا ہے، لیکن اُن کی طرف سے امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ کی بے جا تعریف و توصیف اور نوبیل انعام کے لیے نام زدگی تنقید کی زَد میں بھی آئی۔ اِسی طرح آئین و قانون کے عَلم برداروں کے نزدیک ستائیس ویں ترمیم بھی کوئی اچھا فیصلہ نہیں تھا۔
آصف علی زرداری آؤٹ، بلاول بھٹو زرداری اِن
آصف علی زرداری خبروں سے کم و بیش آؤٹ ہی رہے اور اگر’’اِن‘‘ ہوئے بھی، تو اِس کا سبب اُن کا تاحیات استثنا حاصل کرنا تھا۔ اِس ضمن میں بہت کچھ کہا گیا اور عوامی، سیاسی حلقوں میں عمومی طور پر یہ فیصلہ پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے فوجی قیادت کے تاحیات استثنا پر راضی ہونے سے متعلق ایک رائے یہ سامنے آئی کہ اِس کے بدلے خُود آصف علی زرداری کو تاحیات استثنا مل گیا کہ اب وہ عُمر کے اُس حصّے میں ہیں، جہاں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا اُن کے لیے مشکل ہوگا۔
اس کے برعکس، بلاول بھٹو، دو ہزار پچیس میں ایک بھرپور سیاسی بیانیہ رکھنے والے قومی رہنما کے طور پر اُبھرے۔ پالیسی مباحث، خارجہ امور پر تنقید اور نوجوانوں سے جڑے رہنے کی کوششوں نے اُنہیں متحرّک رکھا۔ پیپلز پارٹی کی تنظیمِ نو اور وفاقی سیاست میں نئے بیانیے کی تشکیل میں اُن کا کردار زیادہ واضح ہوتا گیا اور وہ خبروں میں مسلسل اِن رہے۔
پرویز الہٰی آؤٹ، مریم نواز اِن
سابق وزیرِ اعلیٰ، پنجاب، پرویز الہیٰ مکمل طور پر منظر سے غائب رہے۔ گویا اُنہیں تحریکِ انصاف سے وابستگی خاصی منہگی پڑی۔ دوسری طرف، پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ، مریم نواز مسلسل ایک سرگرم رہنما ثابت ہو رہی ہیں۔
اُن کے ترقیاتی کاموں کو چوں کہ عوامی سطح پر خاصی پزیرائی حاصل ہو رہی ہے، وہ مسلسل خبروں میں’’اِن‘‘ ہیں۔ اُن کے خبروں میں نمایاں رہنے کی ایک وجہ یہ بھی رہی کہ اُنہوں نے پانی کے مسئلے پر غیر ضروری بیانات دیئے۔ البتہ، اِن بیانات نے میڈیا میں کافی جگہ بنائی۔
علی امین گنڈاپور آؤٹ، سہیل آفریدی اِن
خیبر پختون خوا کے وزیرِ اعلیٰ، علی امین گنڈاپور دوہزار پچیس کے سب سے متنازع، مگر نمایاں سیاسی کرداروں میں سے ایک رہے۔ صوبائی حقوق، فنڈز کے حصول اور وفاق سے ٹکراؤ نے اُنہیں بڑی سیاسی خبر بنائے رکھا۔ نیز، اپنے بے باک بیانات اور غیر روایتی انداز سے بھی سیاسی مباحثوں پر چھائے رہے۔ مگر پھر اچانک اُن کے رہنما نے اُن سے گدّی چھین لی۔
صوبائی اسمبلی خود فیصلہ کرتی کہ کسے وزیرِ اعلیٰ بنانا ہے، اس کے بجائے عمران خان کے فیصلے سے علی امین گنڈاپور کو وزارتِ اعلیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا، تو سہیل آفریدی نے ان کی جگہ لی۔ عمران خان کا یہ فیصلہ کم و بیش ویسا ہی تھا، جیسا عثمان بزدار کو پنجاب کا وزیرِاعلیٰ بنانے کا فیصلہ، مطلب ایک غیر معروف اور نسبتاً غیر سرگرم شخص کو ایک بڑا صوبہ سونپ دیا گیا۔
شیخ رشید آؤٹ، محسن نقوی اِن
شیخ رشید، جو وزیرِ داخلہ رہ چُکے ہیں اور خبروں میں’’اِن‘‘ رہنے کے فن سے بھی اچھی طرح واقف ہیں،2025ء میں خبروں سے’’آؤٹ‘‘ ہی رہے۔ اصولاً تو اب اُنہیں سیاست سے سبک دوش ہو جانا چاہیے تاکہ نئے لوگوں کو موقع مل سکے۔ اُن کے مقابلے میں، محسن نقوی ڈنکے کی چوٹ پر سیاست میں داخل ہوئے اور اُسی جوش و خروش سے2025ء میں بھی خبروں میں’’اِن‘‘ رہے۔
اسلام آباد کے ترقیاتی منصوبے ہوں یا کرکٹ کے میچز، وہ ہر جگہ، ہر طرح سے اپنی موجودگی کا احساس دِلاتے رہے۔ خاص طور پر جب بھارتی کھلاڑیوں نے اُن سے ٹرافی لینے سے انکار کیا، تو وہ ٹرافی لے کر پاکستان آ گئے اور یوں اُن کے اِس اقدام کی گونج پڑوسی مُلک میں بھی سُنی گئی۔
اسد قیصر آؤٹ، ایاز صادق اِن
پی ٹی آئی رہنما، اسد قیصر نے2018ء میں اسپیکر کا عُہدہ سنبھالا تھا اور چار سال تک اس عہدے پر رہتے ہوئے خبروں میں خُوب’’اِن‘‘ رہے، لیکن 2025 ء میں وہ اسپیکر تو نہیں، البتہ رُکن کے طور پر قومی اسمبلی میں ضرور موجود تھے، لیکن کوئی ایسا کام نہ کر سکے، جو اُنہیں خبروں میں’’اِن‘‘رکھ پاتا۔
ایاز صادق نے اسپیکر قومی اسمبلی کے طور پر دو ہزار پچیس میں پارلیمانی کش مکش متوازن رکھنے کی خاصی کوشش کی۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی خلیج میں وہ ایک نرم گفتار، مگر مؤثر ثالث ثابت ہوئے، اگرچہ دباؤ شدید رہا۔
وہ قومی اسمبلی کے بیسویں اسپیکر ہیں اور اُنہوں نے مارچ دو ہزار چوبیس میں یہ عُہدہ سنبھالا تھا۔ اِس سے قبل وہ دو ہزار پندرہ سے دو ہزار اٹھارہ تک بھی اس عُہدے پر فائز رہ چُکے ہیں۔
ساحر شمشاد آؤٹ، عاصم منیر اِن
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، جنرل ساحر شمشاد ایک طویل فوجی اننگ کھیلنے کے بعد سبک دوش ہوئے اور اِس لحاظ سے خبروں سے بھی’’آوٹ‘‘ ہو گئے کہ اُن کے بعد یہ عُہدہ ہی ختم کر دیا گیا کہ اب کوئی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نہیں ہوگا۔
پاک فوج کے سربراہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ برس نہ صرف خبروں، بلکہ قومی و عالمی منظرنامے میں بھرپور طور پر’’اِن‘‘ رہے، کیوں کہ پاکستان نے جنگ میں بھارت کو شکستِ فاش دی۔
گو کہ بھارت اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں، لیکن عالمی طاقتوں اور آزاد میڈیا نے اِس امر کی تصدیق کی کہ چار روزہ جنگ میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا اور اس کا سہرا، پاک فوج کے سربراہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سَر باندھا گیا۔ سال کے آخر میں وہ چیف آف ڈیفینس فورسز بھی بن گئے۔
بشرٰی بی بی آؤٹ، علیمہ خان اِن
عمران خان کی اہلیہ، بشرٰی بی بی، جنہوں نے مبیّنہ طور پر خان صاحب کی روحانی تربیت کی تھی اور مؤکلین کی مدد سے اُنہیں وزیرِ اعظم بنوانے میں کام یاب ہوئی تھیں، خبروں سے آؤٹ رہیں۔ گو کہ برطانوی جریدے، دی اکانومسٹ کی ایک رپورٹ میں بشریٰ بی بی کے روحانی کارناموں پر خاصی روشنی ڈالی گئی، پھر بھی اس سے اُنہیں کوئی فائدہ نہ ہو سکا۔
اُن کے مقابلے میں عمران خان کی بہن، علیمہ خان خبروں میں خاصی’’اِن‘‘ رہیں۔ ایک موقعے پر اُنہوں نے عمران خان کی’’مبیّنہ رہائش گاہ‘‘ سے متعلق واویلا مچایا اور یہ تاثر دیا کہ خان صاحب لاپتا ہو گئے ہیں۔ اِسی طرح کے اوٹ پٹانگ بیانات، اڈیالہ جیل کے باہر دھرنوں اور مقدمات کے حوالے سے علیمہ خان خبروں میں’’اِن‘‘ رہیں۔
واپڈا آؤٹ، سولر اِن
2025ء میں مُلک بَھر میں شمسی توانائی کا ایک انقلاب آیا، جس کے نتیجے میں واپڈا پرعوام کا انحصار کم ہوا۔ کیا شہر اور کیا دیہات، ہر طرف چھتوں پر سولر پینلز نظر آنے لگے۔ اِس طرح واپڈا کی اجارہ داری میں کمی واقع ہوئی، تو واپڈا خبروں سے بھی’’آؤٹ‘‘ ہو گئی، جب کہ سولر توانائی ہر جگہ’’اِن‘‘ ہوتی چلی گئی۔
توانائی کے اِس متبادل ذریعے سے ایل این جی کی کھپت میں بھی نمایاں کم دیکھی گئی اور حکومت کو قطر سے ایل این جی کے معاہدوں میں ردّوبدل کی درخواست کرنی پڑی۔
آئینی بینچ آؤٹ، آئینی عدالت اِن
مُلک میں ستائیسویں آئینی ترمیم نے آئینی بینچ کا خاتمہ کر کے اُسے خبروں سے’’آؤٹ‘‘ کر دیا، جب کہ ایک نئی آئینی عدالت نے اُس کی جگہ لے لی۔ یاد رہے، آئینی بینچ کو چوبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد سپریم کورٹ پر آئینی فیصلوں کا دباؤ کم کرنا تھا۔
اِس سے قبل سپریم کورٹ، عوامی مقدمات کے فیصلے کرنے کی بجائے آئینی مقدمات میں اُلجھ کر رہ جاتی تھی۔ الگ آئینی عدالت کے’’اِن‘‘ ہونے کے بعد توقّع کی جا رہی ہے کہ آئینی مقدمات کا فیصلہ جلد اور زیادہ بہتر طور پر ہو سکے گا۔تاہم، ناقدین کی رائے ہے کہ شاید بعض حلقے آئینی عدالت کو آزادانہ طور پر کام نہیں کرنے دیں گے۔
افغان مہاجرین آؤٹ، افغان خوارج اِن
گزشتہ برس تقریباً45سال کی غیر مشروط مہمان نوازی کے بعد بالآخر پاکستانی حکومت نے افغان مہاجرین کو مُلک سے’’آؤٹ‘‘ کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ اِس حتمی فیصلے کے بعد مُلک بَھر سے افغان باشندوں کو شناخت کرکے سرحد پار دھکیلا گیا۔
اِس اقدام کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پاکستان خود اپنی آبادی کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہے اور اب اِس کے لیے مہاجرین کا مستقل بوجھ برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔
اس کے علاوہ، افغان باشندوں کی پاکستان میں مجرمانہ کارروائیوں، دہشت گردی میں ملوّث ہونے اور سہولت کاری کے ناقابلِ تردید شواہد موجود تھے۔ دوسری طرف، خوارج دہشت گرد، افغانستان کے راستے پاکستان میں’’اِن‘‘ ہو کر دہشت گردی کی وارداتیں کرتے رہے، جن میں درجنوں سیکیوریٹی اہل کار اور عام افراد شہید ہوئے۔
بھارت آؤٹ، پاکستان اِن
غالباً2025 ء کا سب سے اہم واقعہ ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ تھا، جس میں پاکستان نے فتح حاصل کی اور بھارت کے کئی طیارے تباہ کیے، جس کا سہرا پاک فضائیہ کے سر ہے۔ بھارت کے رافیل طیارے یا تو اُڑ ہی نہ سکے اور جو اُڑے، اُنہیں پاکستان نے مار گرایا۔
اِس طرح پاکستان کی جیت بین الاقوامی خبروں میں’’اِن‘‘ رہی، جب کہ مودی سرکار کی گیدڑ بھبکیاں بھارت کے کسی کام نہ آسکیں۔ پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو مکمل طور پر’’آؤٹ‘‘ کر دیا۔ پھر امریکی صدر بھی بار بار بھارتی طیاروں کی تباہی کا ذکر کرکے پاکستان کی جیت کو عالمی منظرنامے میں’’اِن‘‘ کرتے رہے۔
عُمر ایوب آؤٹ، بیرسٹر گوہر اِن
تحریکِ انصاف کے رہنما، عُمر ایوب کو جولائی میں فیصل آباد کی عدالت نے چھے دیگر ارکانِ اسمبلی کے ساتھ دس، دس سال قید کی سزا سُنائی۔ یوں وہ قومی اسمبلی کی رُکنیت اور اپوزیشن لیڈر کے عُہدے سے’’آؤٹ‘‘ ہوگئے۔
دوسری طرف، تحریکِ انصاف کے رہنما، بیرسٹر گوہر علی خان، جو عمران خان کے جیل جانے کے بعد دسمبر2023ء سے تحریکِ انصاف کے چیئرمین چلے آ رہے ہیں، حسبِ سابق’’اِن‘‘ رہے۔ البتہ، خبروں میں اُن کی بجائے علیمہ خان ہی زیادہ نظر آئیں۔
امداد آؤٹ، خود انحصاری اِن
گزشتہ برس پنجاب کے کئی اضلاع سیلاب کی زَد میں آئے، لیکن وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے بیرونی امداد کے لیے ہاتھ پھیلانے سے انکار کر دیا اور خود انحصاری کی ایک اچھی روایت قائم کی۔ اِس دَوران سندھ اور پنجاب کے درمیان بیان بازی بھی ہوتی رہی۔
مریم نواز کے بیانات سے پیپلز پارٹی ناراض ہوگئی اور مخلوط حکومت سے الگ ہونے کی دھمکیاں بھی دی جانے لگیں، جب کہ مریم نواز نے اپنے بیانات پر معذرت سے انکار کیا۔ بہرکیف، معاملات سنبھل گئے۔