ایران نے اتوار کے روز اسرائیل پر حملے کے دوران پہلی بار نئے تیز ترین سجیل میزائلوں کا استعمال کیا ہے۔
سجیل ایران کا مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیا گیا ٹھوس ایندھن سے چلنے والا ٹو اسٹیج بیلسٹک میزائل ہے۔
امریکے جریدے ’دی نیشنل انٹرسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق اس میزائل کی پے لوڈ صلاحیت تقریباً 700 کلو گرام ہے اور اس کی رینج تقریباََ 2 ہزار سے 2 ہزار 500 کلو میٹر ہے۔
اگر یہ درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ میزائل مصر اور سوڈان کے کچھ حصے، یوکرین کے بیشتر حصے، جنوبی روس کے کچھ حصے، مغربی چین کے ایک حصے، بھارت اور بحرِ ہند اور بحیرۂ روم کے بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر یہ میزائل جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو تو اس کے مزید خوفناک ہونے کا امکان ہو گا۔
سجیل میزائل کے ڈیزائن پر کام 1990ء کی دہائی کی ابتداء میں شروع ہوا تھا۔
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے اس میزائل کا پہلا تجربہ 2008ء میں کیا تھا، اس وقت اس میزائل نے مبینہ طور پر 800 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا تھا پھر بہتر گائیڈنس اور نیویگیشن سسٹم کا جائزہ لینے کے لیے 2009ء میں دوسرا تجربہ کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2009ء سے اب تک اس میزائل کے 4 اضافی فلائٹ ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور چھٹے ٹیسٹ کے دوران اس میزائل نے بحرِ ہند میں تقریباً 1 ہزار 900 کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا تھا۔