کراچی علاقے لانڈھی میں اندھی گولی لگنے سے جاں بحق ہونے والی 17 سال کی لڑکی کے واقعے کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ فائنل کر لی۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق کومل کو پولیس کی نہیں بلکہ ڈاکو کی گولی لگی، واقعہ چراغ ہوٹل نہیں بلکہ لانڈھی 6 نمبر کے قریب پیش آیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عوامی کالونی تھانے کی پولیس کا لوٹ مار کرنے والے 3 ملزمان سے مقابلہ جاری تھا، ایک ملزم عوامی کالونی تھانے کی پولیس کے ہاتھوں پکڑا گیا۔
تحقیقاتی ذرائع نے کہا کہ گرفتار ملزم کے ساتھی ملزمان 2 الگ موٹر سائیکلوں پر فرار ہوئے، عوامی کالونی کی پولیس فرار ہونے والے ملزمان کا پیچھا کر رہی تھی، لانڈھی 6 نمبر پر لانڈھی تھانے کی پولیس موبائل پکٹ پر موجود تھی، فائرنگ کی آواز سن کر پولیس الرٹ ہو گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ پولیس کے الرٹ ہونے پر ملزم نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کی، وقوعے کے وقت پولیس اور ملزمان کے درمیان سے ایک رکشہ گزر رہا تھا، ملزم کی چلائی گئی گولی رکشے میں بیٹھی کومل کو سینے میں جا لگی۔ کرائم سین پر موجود لوگوں، رکشے والے اور کومل کی والدہ کا بیان بھی لیا۔ تمام شواہد اکٹھے کرنے کے بعد رپورٹ فائنل کی گئی ہے، رپورٹ آج بالا حکام کو پیش کی جائے گی۔
واضح رہے کہ تحقیقاتی ٹیم ڈی ایس پی لانڈھی فائزہ سودھڑ کی سربراہی میں بنائی گئی تھی جبکہ 2 جنوری کو 17 سال کی کومل رکشے میں گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی تھی۔