• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے ایران کیخلاف حملے میں کونسی اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی؟

—تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا
—تصاویر بشکریہ سوشل میڈیا

جنگی حکمتِ عملی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ گیا، امریکی فوج نے ایران پر حملوں کے دوران سان فرانسسکو کی اسٹارٹ اپ کمپنی اینتھروپک کے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے ٹول کلاؤڈ کا استعمال کیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل وفاقی اداروں کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹ کام نے ایران کے خلاف فضائی کارروائی میں انٹیلی جنس تجزیے، اہداف کی شناخت اور جنگی منظر ناموں کی مشق جیسے اہم کاموں کے لیے اے آئی کلاؤڈ کا استعمال جاری رکھا، حالانکہ حکومت نے اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی لگا رکھی تھی۔

صدر ٹرمپ نے اپنی انتظامیہ کو اینتھروپک کی اے آئی خدمات استعمال نہ کرنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ کمپنی نے پینٹاگون کو اپنے اے آئی ماڈل کے بھرپور فوجی استعمال کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا، جس کے نتیجے میں اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

اینتھروپک کے اے آئی ٹولز کو پہلے بھی دیگر حساس فوجی آپریشنز میں استعمال کیا جا چکا ہے، جس میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔

کمپنی نے پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے محدود استعمال پر پابندی غیر قانونی ہو گی، جبکہ دفاعی حکام کلاؤڈ کے متبادل اے آئی سسٹمز کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن مکمل تبدیلی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔

یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید جنگی حکمتِ عملی میں اے آئی کا استعمال کس حد تک بڑھ گیا ہے اور سیاسی، اخلاقی و قانونی تنازعات بھی اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید