پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ہر وقت عالمی بحرانوں کی زد میں رہتا ہے۔ان دنوں کئی بڑے عالمی بحران پاکستان کے پڑوس میں دستک دے رہے ہیں۔مختلف بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہونے والے مضامین سے پتا چلتا ہے کہ وینزویلا میں رجیم چینج کے بعد اب ایران اور افغانستان میں اسی نوعیت کے آپریشن کی تیاری ہو رہی ہے۔اس نوعیت کی جنگی صورتحال میں بھارت جیسے گھٹیا دشمن سے کسی بھی قسم کی مہم جوئی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ان خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج نے ہمیشہ کی طرح پروفیشنل انداز میں تیمور میزایل کا کامیاب تجربہ کر کے دشمن کو واضح پیغام دے دیا ہے۔حالیہ پاک بھارت معرکے میں بھی یہ حقیقت واضح ہوئی تھی کہ پاک فوج جدید حربی صلاحیت اور مؤثر دفاعی حکمتِ عملی کے ذریعے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوا سکتی ہے۔پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دفاعی محاذ پر اس کی تیاری محض نعروں یا بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی، ٹھوس اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ پاک فضائیہ کی جانب سے تیمور ایئر لانچڈ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ دراصل اسی مسلسل دفاعی جدوجہد کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنی سلامتی یقینی بنا رہا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ، دفاعی اشتعال انگیزی اور طاقت کے مظاہرے معمول بنتے جا رہے ہیں۔
تیمور میزائل جدید ترین ایئر لانچڈ کروز میزائل ہے جو جنگی طیارے سے فضا میں چھوڑا جاتا ہے اور انتہائی کم بلندی پر پرواز کرتے ہوئے اپنے ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔کم بلندی پر پرواز اس میزائل کی سب سے بڑی اسٹرٹیجک خوبی ہے، کیونکہ اس سے دشمن کے ریڈار اور فضائی دفاعی نظام کو بروقت ردعمل کا موقع نہیں ملتا۔ تقریباً چھ سو کلومیٹر تک مار رکھنے والا یہ میزائل جدید گائیڈنس، نیویگیشن اور کنٹرول سسٹمز سے لیس ہے،یہ میزائل دشمن کے لیے ایک ایسا دفاعی چیلنج ہے جس کا مقابلہ محض جدید آلات سے نہیں بلکہ بھرپور حکمتِ عملی سے ہی ممکن ہے۔
یہ کامیابی کسی ایک ادارے یا فرد کی نہیں بلکہ افواجِ پاکستان کی مجموعی قیادت کے وژن اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے دفاعی تیاری، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور قومی سلامتی کو اولین ترجیح دی ہے۔ جنرل عاصم منیر ایک ایسے سپہ سالار کے طور پر سامنے آئے ہیں جو طاقت کے غیر ضروری مظاہرے کے بجائے مؤثر دفاع اور اسٹرٹیجک توازن پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اسی طرح ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ مقامی ٹیکنالوجی، جدید ہتھیاروں اور نیٹ ورک بیسڈ وارفیئر پر توجہ نے پاک فضائیہ کو خطے کی ایک مؤثر اور پیشہ ور فضائی قوت بنا دیا ہے۔ تیمور میزائل کا کامیاب تجربہ اس وژن کا عملی ثبوت ہے کہ پاک فضائیہ مستقبل کی جنگوں کے لیے ذہنی، تکنیکی اور عملی طور پر تیار ہے۔اگر اس کامیابی کو بھارت کے تناظر میں دیکھا جائے تو تصویر مزید واضح ہو جاتی ہے۔ بھارت طویل عرصے سے اپنے براہموس میزائل کو خطے میں برتری کی علامت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ براہموس ایک سپرسانک کروز میزائل ہے جو زمین، بحری جہاز یا فضائی پلیٹ فارم سے لانچ کیا جا سکتا ہے اور تیز رفتاری اس کی نمایاں خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم رفتار کے ساتھ ساتھ جنگی دنیا میں کم بلندی پر پرواز اور ریڈار سے بچاؤ کی صلاحیت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور یہی وہ میدان ہے جہاں تیمور میزائل اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلاتا ہے۔براہموس کی رفتار اگرچہ زیادہ ہے، مگر اس کا فلائٹ پروفائل اور سائز اسے جدید فضائی دفاعی نظاموں کے لیے نسبتاً زیادہ نمایاں ہدف بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس تیمور میزائل کم بلندی پر پرواز، بہتر اسٹیلتھ اور جدید گائیڈنس کی بدولت دشمن کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے کی زیادہ صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے تیمور میزائل غیر معمولی ذہانت اور حکمتِ عملی کی بدولت ایک مؤثر دفاعی کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔بھارت کے دفاعی حلقوں میں غیر معمولی اضطراب دیکھنے کو مل رہا ہے۔پاکستان کے حالیہ میزائل تجربات کی وجہ سے بھارت کے دفاعی نظام کی دیوار گرتی محسوس ہورہی ہے۔ بھارتی میڈیا اور دفاعی تجزیہ کاروں کی چیخ و پکار سے بے چینی واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پاکستان کی یہ صلاحیت بھارتی دفاعی منصوبہ بندی کے لیے ایک نیا اور سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے۔ دفاعی توازن کی یہ تبدیلی پاکستان کی جانب سے بھارت کو یاد دہانی ہے کہ خطے میں یکطرفہ برتری کا خواب ہمیشہ ادھورا ہی رہے گا۔
پاکستان نے ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی دفاعی تیاری جارحیت کے لیے نہیں بلکہ دفاع اور امن کے تحفظ کے لیے ہے۔ تیمور میزائل اسی سوچ کا تسلسل ہے۔ مضبوط دفاع دراصل جنگ کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور یہی اصول پاکستان کی عسکری حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے۔ جنرل سید عاصم منیر اور ائیر چیف ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں یہ حکمتِ عملی مزید واضح اور مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ تیمور میزائل کا کامیاب تجربہ محض ایک عسکری پیش رفت نہیں بلکہ قومی عزم، قیادت کے وژن اور دفاعی خود انحصاری کا مظہر ہے۔ یہ کامیابی دشمن کیلئے وارننگ اور دوستوں کیلئے یقین دہانی ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا کمزوری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔