شام کے وقت دہی کھانا بدہضمی کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور ساتھ ہی یہ کیلشیم جذب کرنے کی صلاحیت کو بھی بہتر بناتا ہے۔
ویتنام کے تام انہہ جنرل اسپتال کے شعبۂ امراضِ ہاضمہ کے ماہر ڈاکٹر ڈاؤ ٹران ٹین نے اس حوالے سے اپنی گفتگو میں بتایا کہ 100 گرام دہی کی ایک عام مقدار میں تقریباً 61 کیلوریز، 3.5 گرام پروٹین، 4.7 گرام کاربوہائیڈریٹس اور 3.3 گرام چکنائی ہوتی ہے۔ ایک خمیر شدہ غذا ہونے کے ناطے دہی میں پروٹین، کیلشیم، وٹامن بی 12، ریبوفلاوین (بی 2)، فاسفورس، میگنیشیم اور پروبایوٹکس بکثرت پائی جاتی ہے۔
دہی میں مفید بیکٹیریا پائے جاتے ہیں، جیسے لیکٹوبیکلئس بلگاریکس اور اسٹرپٹوکوکس تھرموفیلیس، نیز پروبائیوٹکس بھی شامل ہوتے ہیں جو آنتوں میں اچھے بیکٹیریا کی افزائش کو بڑھاتے ہیں۔ یہ عمل خوراک کو ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے اور غذائی اجزاء کے بہتر جذب کو ممکن بناتا ہے۔
شام کے وقت دہی کھانے سے ہاضمے اور مجموعی صحت کے لیے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں۔
1- کیلشیم جذب کرتا ہے: ڈاکٹر ڈاؤ ٹران ٹین کے مطابق دہی میں موجود کیلشیم اور وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار اسے شام کے وقت کھانے کے لیے ایک بہترین غذا بناتی ہے کیونکہ یہ جسم کی کیلشیم جذب کرنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔
2- آنتوں کے مائیکرو بایوم کا توازن: آنتوں میں مفید اور نقصان دہ بیکٹیریا کے عدم توازن سے ہاضمے کے مسائل جیسے قبض، اسہال اور آنتوں کی بے ترتیبی (آئی بی ایس) اور کولائٹس پیدا ہو سکتے ہیں۔ دہی میں موجود پروبائیوٹکس آنتوں کے مائیکرو بایوم کا توازن بحال کرنے میں مدد دیتے ہیں اور صحت مند بیکٹیریا کی افزائش کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ پروبائیوٹکس آنتوں کی سوزش کم کرنے اور غذائی اجزاء کے بہتر جذب میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔
3- بدہضمی میں کمی: لیکٹوز عدم برداشت کے شکار افراد کو دودھ یا دودھ سے بنی اشیاء استعمال کرنے کے بعد اکثر پیٹ پھولنا، معدے میں درد یا اسہال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم، دہی میں خمیر کیوجہ سے جو لیکٹوز کو جزوی طور پر توڑ دیتا ہے، تو اسے ہضم کرنا آسان ہو جاتا ہے اور خاص طور پر شام کے وقت پیٹ پھولنے اور بدہضمی میں کمی آتی ہے۔ ساتھ ہی اس میں موجود پروبایوٹکس آنتوں کی اندرونی جھلی کی سوزش کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
4- قبض کشا: کم فائبر استعمال کرنے والوں کے لیے دہی میں موجود پروبایوٹکس آنتوں کی حرکت کو متحرک کرتے ہیں، آنتوں کی فعالیت کو بہتر بناتے ہیں اور قبض میں کمی لاتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈاؤ ٹران ٹین کے مطابق جو لوگ رات کو باقاعدگی سے دہی کھاتے ہیں، انہیں قبض کی شکایت کم ہوتی ہے۔
5- خالی پیٹ نہیں کھانا چاہیے: ڈاکٹر ڈاؤ ٹران کے مطابق دہی خالی پیٹ کھانے کے بجائے کھانے کے بعد کھانا زیادہ فائدہ مند ہے۔ خالی پیٹ دہی کھانے سے معدے کی جھلی میں جلن ہو سکتی ہے اور السر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
6- پھل یا میووں کے ساتھ کھانا: دہی کو پھلوں، جئی (اوٹس)، بیج اور میوہ جات کے ساتھ ملا کر کھانے سے اس کی غذائی اہمیت میں اضافہ اور میٹابولزم بہتر ہوتا ہے۔
7- بغیر یا کم چینی: بہترین ہاضمے کے فوائد کے لیے بغیر چینی یا کم چینی والا دہی استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ زیادہ چینی والا دہی موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے اور آنتوں کے مفید بیکٹیریا پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
8- شام میں کھانا مفید: اس کے علاوہ رات کے کھانے کے فوراً بعد دہی کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے پیٹ پھولنے اور ہاضمے میں خرابی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں گیس اور بے آرامی کی وجہ سے نیند متاثر ہو سکتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔