ایک دم سے ساری دنیاکواحساس ہوا ہے کہ پیار محبت، امن و امان اور تہذیب کے دائرے میں رہنے کا مطلب ہے بھیگی بلی بن جانا۔ شرافت بھی طاقت والوں کو سجتی ہے ورنہ نہتاانسان شرافت ہی دکھا سکتاہے۔وینزویلا والی واردات انتہائی باریکی سے ڈالی گئی۔اوپرسے امریکی میڈیا نے یہ بھی بتایا کہ صدر نکولس مادورو کوجب گرفتار کیا گیاتووہ اپنی خوابگاہ میں سو رہے تھے،پھراُنہیں سلیپر پہنے بھی دکھایا گیا۔یعنی جب ملک پرغیر ملکی افواج کا حملہ ہورہا تھاتو صدر وینزویلامزے کی نیندسو رہے تھے۔ان کے کسی سیکرٹری، کسی اسٹاف آفیسر، کسی ملازم، کسی دوست نے اطلاع نہیں دی کہ آپ کے سرپر امریکی فوجی منڈلا رہے ہیں۔ایسی کہانیوں کی تصدیق کون کرے؟
ان حالات میں اقوام متحدہ کا کردار وہی ہے جو گھر کے 90سالہ بزرگ کا ہوتا ہے۔ گھر کا ہر فرد اپنی مرضی سے فیصلے کرتا ہے تاہم بزرگ کسی غلط فیصلے پر اتنا ہی کہہ سکتاہے کہ ’یہ ٹھیک نہیں ہوا‘۔اب افراد کے نہیں ’افواج کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر‘۔ یہ نکتہ جن جن ممالک کو سمجھ آگیا ہے انہوں نے ہڑبڑاکراپنی فوجیں بناناشروع کردی ہیں۔ کسی ملک پرقبضہ کرنا اب نیونارمل ہے۔وینزویلاپرقبضے سے روس کو یوکرین پرقبضے کاجواز مل گیا۔
اسرائیل پہلے ہی غزہ ہڑپ کر چکا ہے۔ چائنا تائیوان کواپناحصہ بنانے میں حق بجانب ہے۔ہماری کام والی ماسی کہہ رہی تھی کہ میں نے تو گھرمیں پکانے والے تیل کاپورا ڈبہ منگوانے کی بجائے ایک پاؤ کا پیکٹ منگواناشروع کردیا ہے۔وجہ پوچھی تو سہم کر بولی’پتاچلا ہے کہ جہاں بھی زیادہ تیل ہوتاہے وہاں امریکہ حملہ کردیتا ہے۔
٭ ٭ ٭
چھ ماہ پہلے ایک جاننے والے اپنے ملازم کو ساتھ لے کر میرے دفترآئے۔کہنے لگے کہ یہ میراڈرائیورہے اوراپنے بیس سال کے بیٹے کو ایک ایجنٹ کے ذریعے اٹلی بھیجنا چاہ رہاہے، ا سے سمجھائیں کہ بلاوجہ پیسے نہ برباد کرے۔ پتاچلا کہ ڈرائیور نے بیوی کے زیور اوراپناکچھ سامان بیچ کر پندرہ لاکھ کا بندوبست کیا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ اس کا بیٹااٹلی جاکر امیر ہوجائے تاکہ اس کی امارت کے اثرات خود اُس تک بھی پہنچ سکیں۔ اسی دوران میرے دوست کوایک کال آگئی اور وہ موبائل کان سے لگائے دفتر سے باہر نکل گیا۔ اس کے جاتے ہی ڈرائیور نے محتاط نظروں سے اِدھراُدھر دیکھا، پھرصوفے پر تھوڑاساکھسک کر قریب ہوا اور آہستہ سے بولا’یہ سب مجھ سے جلتے ہیں کہ میں بھی اِن جیسا امیر نہ ہوجاؤں‘۔میں نے سرہلایا’بالکل! لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے جیسے غریب بھی نہ رہو‘۔ یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی لہٰذا غور کیے بغیر بولا’میرے تائے کا بیٹابھی اٹلی گیا تھا، آج ہر مہینے ڈیڑھ لاکھ بھیجتاہے‘۔میں سمجھ گیا کہ اسے سمجھانے کی کوشش کی گئی تو یہ مجھے بھی ’جلنے والا‘ سمجھے گا۔ قصہ مختصر، بھائی صاحب نے اپنا بیٹا اٹلی بھجوا دیا۔ آج چھ ماہ بعد دوست ملنے آیا توبتارہا تھا کہ موصوف کا بیٹا لُٹ لٹاکر واپس آگیا ہے۔نہ کوئی کام ملا، نہ رہنے کی اجازت۔ وطن عزیز کے اکثرلوگوں کویہ موذی عارضہ لاحق ہے کہ باہرجانے کا سنتے ہی انکے کان بند ہوجاتے ہیں،پھروہ کوئی اور جملہ سننے کیلئے تیار نہیں ہوتے۔اِنہیں چھ ایسے لوگ تویادہوتے ہیں جوباہرجاکر کامیاب ہوگئے تھے لیکن وہ چھ سو لوگ یاد نہیں ہوتے جو ناکام ہوگئے۔
٭ ٭ ٭
لاہورکی یونیورسٹی میں پہلے ایک طالبعلم نے چھت سے کود کرخودکشی کی، اب ایک طالبہ نے بھی چھلانگ لگا دی ہے۔کسی کو اصل بات کا پتا چلے نہ چلے یہ ضرورسننے کو ملے گا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کو شرم آنی چاہیے۔کس بات کی شرم؟ یہاں تویہ حال ہے کہ کسی کو فیل بھی کردیا جائے تو وہ بھی خود کشی کی دھمکیاں لگانے لگتاہے۔کیاخود کشی کی دھمکی کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کو ہتھیار ڈال دینے چاہئیں؟ ۔مجھے یادہے ہمارے ایک دوست سرکاری یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ امتحانات ہوئے تو انہوں نے بھرپورکوشش کی کہ چھوٹی موٹی غلطیوں کونظر انداز کرکے جو بھی پاس ہوسکتاہے ا سے پاس کردیں۔لیکن ایک طالبہ نے پیپرمیں صرف ایک صفحہ لکھا ہواتھاباقی تمام شیٹ خالی تھی۔ انہوں نے مجبوراً ا سے فیل کردیا۔ ابھی رزلٹ اناؤنس نہیں ہواتھا۔کسی ملازم نے یہ بات طالبہ تک پہنچا دی۔ رات کو دوست کے موبائل پر طالبہ کا فون آیا اور جملہ کچھ یوں تھا’اگرمیں فیل ہوئی توزہر کھالونگی اور یہ لکھ کر جاؤنگی کہ آپ مجھ سے دوستی کرناچاہتے تھے اور میرے انکار پر مجھے فیل کیا ہے‘۔ میرے دوست کے پسینے چھوٹ گئے۔ وہ علی الصبح یونیورسٹی پہنچے، پیپرنکلوائے اورطالبہ کوپاس کردیا۔اگر طالبہ وہی کرتی جو اس نے فون پر کہا تھا تو دوست کے حصے میں سوائے ذلت کے اور کچھ نہ آنا تھا۔یونیورسٹیز کے ڈسپلن کو خراب کرنے کی بجائے طلباء کی بلیک میلنگ کا سدباب ہوناچاہیے۔ ایسا نہ ہوکہ اگلی دفعہ کوئی استاد چھت سے چھلانگ لگا دے۔
٭ ٭ ٭
آپ موبائل خریدیں، یو پی ایس کی بیٹری، جنریٹر، لیپ ٹاپ یا الیکٹرانکس کی کوئی مہنگی چیز۔آپ کو بطور خاص گارنٹی کارڈ عنایت کیا جاتاہے تاہم یہ صرف نام کا ہی گارنٹی کارڈ ہوتاہے۔اگر آپ کی چیز خراب ہوجائے اور آپ اِس گارنٹی کارڈ کے بل بوتے پر اپنی چیز دکاندار کے پاس لے کر جائیں تو اس کے پاس گارنٹی کارڈ کو فضول ثابت کرنے کے ایک سو ایک جوابات موجود ہوتے ہیں۔
گاڑی میں بیٹھے بیٹھے کوئی صاحب آپ کی جھولی میں ایک پمفلٹ پھینک جاتے ہیں جس پر کسی بابا جی کی طرف سے پیغام لکھا ہوتاہے کہ اگر آپ دکھی ہیں تو صرف ایک دفعہ بابا جی سے دعا کروا لیں، بابا جی فی سبیل اللّٰہ یہ خدمت سر انجام دیتے ہیں۔ آپ خوش ہوجاتے ہیں کہ کتنا عظیم بابا ہے جو فی سبیل اللّٰہ خدمت کیلئےبھی ذاتی جیب سے خرچہ کرکے لوگوں کو اپنے پاس بلا رہا ہے....ایک دن آپ بابا جی کے پاس جا پہنچتے ہیں اور پتا چلتاہے کہ بابا جی دعا تو فی سبیل اللّٰہ کرتے ہیں لیکن مسئلہ حل کرانے کے بیس ہزار ضروری ہیں۔