عبدالحمید عدم وارفتہ طبع، سرگشتہ مزاج، بیگانہ وار، درماندہ اور دلدار انسان تھے۔ ہمہ وقت پیمانہ بدست ہونے کی شہرت کو سوز دروں کا پردہ کیا تھا۔ اردو شعر میں تین ایسے شاعر گزرے ہیں جنہیں شاید ادب کے نک چڑھے ناقدین کی فہرست سازی میں جگہ نہ مل سکے لیکن سہل بیانی میں ایسی پرکاری، موجہ رواں میں ایسی سرمستی، واللّٰہ یہ ہنر اور ریاضت کا کھیل نہیں، یہ تاثیر لہو کی اس بوند کا کرشمہ ہے جس میں شاعر کا پیکر خاکی گوندھا جاتا ہے۔ میری اس موضوعی مثلث کے دیگر دو چراغ آغا حشر اور اختر شیرانی ہیں۔ عدم کا ایک کسی قدر غیر معروف شعر دیکھئے۔ ’یہی آنا جانا تو ہے زندگی میں / کبھی آئیے گا، کبھی جائیے گا‘۔ آنے جانے کا یہ مضمون ’کنگ لیئر‘ میں شیکسپیئر نے بھی باندھ رکھا ہے۔
Men must endure their going hence even as their coming hither. Ripeness is all.
بنیادی خیال بھلے وجود اور عدم کی تمثیل مسلسل ہے لیکن شیکسپیئر نے مکالمے کے آخر میں کائناتی سچائی کی جو تین لفظی کٹار رکھ دی ہے، وہ عدمؔ کی پرواز سے کچھ پرے کا معاملہ ہے۔ کتم عدم اور تہمت وجود کا یہ موج در موج منظر فرد ہی سے تعلق نہیں رکھتا، انسانی نسلوں پر بھی اسی بے نیازی سے گزرتا ہے۔ سلطنت عثمانیہ کے محلات کے سربستہ راز ہوں یا زار روس کے دربار میں فوجی افسروں کی لباس فاخرہ کی بے معنی نزاکتیں، وکٹورین لندن میں آداب اشرافیہ کے پردے میں کجروی کی ثقافت ہو یا مغل دربار میں بیگماتی ذریات میں تخت نشینی کی کشمکش، ہر نسل اپنے عہد کو بطن گیتی کی انتہا سمجھتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایک نوجوان کی تحریر شائع ہوئی ہے جو ہماری نوجوان نسل کے عمومی خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔ سنسرشپ کی نیلی پنسل تو سدا سے بدخط رہی ہے۔ چوہدری محمد حسین کے ہاتھ میں ہو یا میجر ابن الحسن کے پنجہ گرفت میں ہو ۔الطاف گوہر کی منفعت بخش قوم پرستی کی ترجمانی پر مامور ہو یا صدیق سالک کی ایم اے پاس انگریزی سے متصف ہو ۔ اختیار ایک طبی کیفیت ہے جس کے اجزا میں حماقت ، کوتاہ بینی اور خودپسندی کی علامات پائی جاتی ہیں۔ واقعہ یہ ہوا کہ مذکورہ تحریر اشاعت کے بعد حذف کر دی گئی۔ اس سے بچہ شاہین کی خیال آرائی پر شہرت کے بال و پر نکل آئے۔ ادھر اُدھر سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ہماری نسل بومر کہلاتی ہے ۔ میرے بچے Millennialsہیں اور زورین نظامانی زی جنریشن سے تعلق رکھتا ہے۔ ان تینوں نسلوں کی اجتماعی خصوصیات ، نفسیاتی رجحانات اور سماجی رویے بھی بتائے گئے۔ قلم بردار نسل سے تعلق رکھنے والے درویش کو ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا۔ اگست 1973 ء کا مہینہ تھا ۔حلقہ ارباب ذوق (سیاسی ) کے اجلاس کی صدارت پروفیسر ایرک سپرین کر رہے تھے۔ بحث میں کہیں پروفیسر صاحب سے یہ جملہ سرزد ہو گیا کہ ہم نے پاکستان کا آغاز سرحد پار چلے جانے والوں کے بند گھروں کے تالے توڑنے سے کیا۔ اس میں خود تنقیدی کا پہلو پایا جاتا تھا چنانچہ کرسیاں چل گئیں ۔ جلسہ افراتفری اور بھگدڑ پر ختم ہوا۔ کسی کو یاد نہیں آیا کہ 1947 ء میں عبدالمجید سالک نے عبدالرب نشتر کے نام ایک کھلے خط میں لکھا تھا کہ کل تک کھدر پہننے والے اصحاب نے متعدد جائیدادیں الاٹ کروا لی ہیں اور ریشمی عماموں میں طلائی بٹن بہار دے رہے ہیں۔ مولوی محمد سعید نے ’آہنگ بازگشت‘ میں ایک صاحب دل کا بیان نقل کیا ہے کہ اگر پاکستان بچانا ہے تو ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر روک دی جائے۔ قرۃ العین حیدر نے اسی زمانے میں ’ہاؤسنگ سوسائٹی ‘لکھا تھا۔اس عہد کی کچھ جھلکیاں ’شہاب نامہ‘ کے ابتدائی ایڈیشن میں شامل تھیں جو بعد ازاں بربنائے پارسائی حذف کر دی گئیں۔ بومرز کا لقب پانے والی نسل نے لائسنسوں اور پرمٹ کے موسموں میں آنکھ کھولی۔ اس نسل کی کارگزاری حبیب جالب ہی نے نہیں ، جنرل مٹھا نے بھی بیان کر رکھی ہے۔ آغا یحییٰ خان کی سرخوشی کے فسانے تو پاکستان ٹوٹنے کے حقیقی اسباب پر پردہ ڈالنے کے لیے اچھالے گئے تھے ۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں اس ملک کا کلچر جاوید اقبال کی سرگزشت ’اپنا گریبان چاک‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مصطفی کھر ، ممتاز بھٹو اور کوثر نیازی کی پرہیز گاری تو ہمارے ’اسلام پسند‘ دوستوں نے رقم کر رکھی ہے۔ ضیاالحق کی مذہب پسندی کی آنچ خاک نشینوں کے لیے مختص تھی۔ اس عہد کی ایک طویل فہرست کو بادہ و ساغر ہی میسر نہیں تھا ، درہم و دینار کی برکھا بھی ایسی مہربان تھی کہ کینیڈا سے لے کر سعودی عرب تک نے بطور سفیر تقرری نامنظور کر دی۔ اس عہد زہد و تقویٰ کے کچھ گہرو جواہر بیرون عدالت پلی بارگین کر کے سربلند رہے۔ کسی پر یوکرین سے ٹینکوں کی مشتبہ خریدوفروخت کا الزام تھا تو کوئی فرانس سے آبدوزوں کی خریداری میں اونچ نیچ کا ملزم تھا ۔ زی جنریشن اگر بومرز سے نفرت کرتی ہے تو کچھ ایسی غلط نہیں ۔پانی وہاں مرتا ہے جہاں زی جنریشن اپنے بزرگوں کے حقیقی جرائم کا شعور نہیں رکھتی۔ جمہوری شعور کی بجائے شخصیت پرستی کو انقلابی سوچ کی معراج سمجھتی ہے۔ سائنسی تحقیق میں درک رکھنے کی بجائے گاڑیوں ، موبائل اور گھڑیوں کے برینڈ کو اپنا تشخص قرار دیتی ہے۔ زی جنریشن کھجور کے درخت سے نہیں ٹپکی، نسل در نسل بددیانتی ، منافقت ، خیانت، بدعنوانی اور قوم کے خلاف جرائم کی مرتکب نسلوں کی ذریات ہے۔ بومرز کی نسل قابل تعزیر ہے لیکن اس پر فرد جرم زیادہ گہری اور شفاف تحقیق کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والی ہر نسل نے قوم کے خلاف جرائم کی ایک روایت قائم کی ہے جسے ختم کرنے کے لیے جس سماجی شعور ، جمہوری فہم اور عصری حقائق سے آگہی کی ضرورت ہے وہ گزشتہ نسلوں میں بھی مفقود تھی اور آج بھی اس کا نشان نہیں ملتا۔ زی جنریشن اس ملک کا ممکنہ تمدنی ، فکری اور معاشی سرمایہ ہے لیکن اگر یہ نسل محض نعرے بازی کے خروش میں مبتلا رہنا چاہتی ہے تو اسے جاننا چاہیے کہ پاکستان 16دسمبر 1971 ء کو دولخت ہوا تھا اور لاہور کے ایک معروف ہوٹل میں 31دسمبر کو نئے برس کا جشن منایا جا رہا تھا۔