• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاستدان اور صحافی میں دوستی بڑی مشکل ہے لیکن صحافی اور سفارتکارمیں دوستی زیادہ مشکل نہیں ۔ اس دوستی میں مشکل اُسوقت آتی ہے جب صحافی خبر کے پیچھے بھاگنے کی بجائے کسی کا سفیر بن جائے توپھر وہ صحافی نہیں رہتا ۔ کل شام ایک غیر ملکی سفارتکار مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ پاکستان کے صحافیوں کے پاس خبریں کم اور افواہیں زیادہ ہوتی ہیں اسکی کیا وجہ ہے ؟ میں نے سفارتکار سے مودبانہ اختلاف کیا اور کہا کہ اچھے صحافیوں کے پاس آج بھی خبروں کی کمی نہیں لیکن وہ آپ کے ساتھ اصلی خبریں شیئر نہیں کرتے اور آپکو اِدھر اُدھر کی افواہیں سنا کر فارغ کر دیتے میں ۔وجہ یہ ہے کہ صحافیوں اور سفارتکاروں میں اعتماد کا بحران پیداہو چکاہے۔یہ ایک ایسا موضوع ہےجس پر گزشتہ کچھ عرصے میں کئی غیر ملکی سفارتکاروں سے گفتگو ہوئی ۔بہت سے پاکستانی صحافیوں کو شکایت ہے کہ انہوں نے کسی سفارتکار کے ساتھ آف دی ریکارڈ گفتگو میں کوئی بات کہی اور اگلے ہی روز یہ بات وہاں پہنچ گئی جہاں سے صحافی کیلئے کئی مشکلات پیدا کی جا سکتی ہیں ۔ ایسا بھی ہوا کہ کسی صحافی نےکوئی بات کی ہی نہیں لیکن اُسکے ساتھ کوئی غلط دعویٰ منسوب کر دیا گیا ۔ یہاں غلطی کسی سفارتکار کی نہیں بلکہ اُس محفل میں موجود دوسرے صحافیوں کی تھی جو ایک سے زیادہ اداروں کیلئے رپورٹنگ کرتے ہیں ۔ جس سفا ر ت کار کے ساتھ یہ گفتگو ہو رہی تھی اس بیچارے کی نوکری آجکل خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔ ان صاحب نے کافی دن پہلے اپنی حکومت کو بتایا تھا کہ پاکستان غزہ میں قیام امن کیلئے اپنی فوج بھیج دئیگا ۔ اس سفارت کار کا سورس ایک پاکستانی صحافی تھا جسے وہ حکومت کے بہت قریب سمجھتا تھا ۔ جب ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈارنے یہ واضح بیان دیدیا کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے اپنی فوج غزہ نہیں بھیجے گا تو یہ سفارتکار پریشان ہو گیا ۔ اُس نے اپنے سورس سے پوچھا کہ تمہاری خبر غلط کیوں نکلی ؟ سورس نے کہا کہ اُس نے تو یہ خبر سوشل میڈیا پر پڑھی تھی ۔ سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور فیک ویڈیوز کی یلغار نے کئی سمجھدار لوگوں کو سوشل میڈیا سے دور کرنا شروع کر دیا ہے ۔ سوشل میڈیا کہہ رہاتھا کہ ٹرمپ ونیزویلا کے بعد ایران پر حملہ کرئیگا اور پاکستان ایران پر حملے کیلئے امریکا کو اڈے فراہم کرئیگا ۔ چھ جنوری کو اقوام متحدہ میں پاکستان نے ونیز ویلا کے خلاف ٹرمپ کے ایکشن کی مذمت کر کے ایک دفعہ پھر سوشل میڈیا کو غلط ثابت کر دیا ہے ۔ ونیزویلا میں ٹرمپ نے جو کیا ہے اُس نے پوری دنیا کو ہلادیا ہے ۔ اب اگر روسی صدر پوٹن کے حکم پر یوکرائن کے صدر زیلینسکی کو کہیں سے اغواء کر کے ماسکو پہنچا دیا جاتا ہے تو ٹرمپ کیا کر لیں گے ؟ بھارتی پارلیمنٹ کے ایک مسلمان رکن اسدالدین اویسی نے اپنے وزیر اعظم مودی سے سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح ٹرمپ نے وینزویلاکے صدر کو اغوا کر کے نیو یارک پہنچا دیا تو آپ بھارت میں حملوں کے مبینہ ملزمان کو پاکستان سے اغواء کر کے دہلی کیوں نہیں لاتے ؟ اویسی صاحب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ ہیں۔ یہ تنظیم قیام پاکستان سے بہت سال پہلے قائد اعظم کے ایک ساتھی نواب بہادر یار جنگ نے قائم کی تھی ۔ یہ تنظیم حیدر آباد دکن کے مسلمانوں کی سماجی فلاح و بہودکی ذمہ دار تھی لیکن نواب صاحب کی وفات کے بعد سیاسی پلیٹ فارم میںبدل گئی ۔آجکل اسدالدین اویسی اس پلیٹ فارم سےخود کو بھارت کا وفادار ثابت کرنے کیلئےایسے ایسے بیانات دیتے ہیں کہ کبھی ان پر ہنسی آتی ہے اور کبھی ترس ۔ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے نے مجھے پوچھا کہ کیا اسدالدین اویسی کے بیان کے بعد آپ کو ایک اور پاک بھارت جنگ کا خطرہ نظر نہیں آرہا ؟ میں نے جواب میں کہا خطرے میں تو اویسی صاحب نظر آتے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے تو واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ آج کل بھارتی میڈیا پر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ2026ءمیںبھارت اور افغانستان سے پاکستان پر مشترکہ حملہ کیا جائیگا اور پاکستان حملہ آوروں کو سبق سکھانے کیلئےتیار بیٹھا ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان طالبان کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کیا اسکے بعد ایک افغان صحافی نے مجھے پوچھا کہ کہیں پاکستان نے افغان طالبان کی قیادت کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اغواکرنے کا منصوبہ تو نہیں بنا لیا میں نے پوچھا کہ یہ کیسی بات کر رہے ہو ؟افغان صحافی نے بتایا کہ ایک طالبان مخالف رہنما اور احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود نے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے کہ جس طرح ٹرمپ نے ونیزویلا کے صدر کو اغوا کیا ہےپاکستان بھی افغان طالبان کے لیڈر ملا ہیبت اللہ کو قندھار سے اغواء کر لےگا۔یہ بیان میرے لئے حیران کن تھا ۔افغان صحافی نے پوچھا کہ اگر پاکستان فوجی کارروائی کے ذریعہ افغان طالبان کی قیادت کو ختم کر دیتا ہے تو کیا پاکستان کا مسئلہ حل ہو جائیگا؟کیا کابل میں ایک پاکستان دوست حکومت قائم ہو جائیگی؟ میں نے افغان صحافی سے پوچھا کہ اگر کابل سے طالبان کی حکومت ختم ہو جائے تو کیا ہوگا؟اس نے جواب میں کہا کہ شمالی افغانستان احمد مسعود اور عبد الرشید دوستم کے حامیوں کے پاس چلا جائیگا ۔مشرقی افغانستان میں کہیں طالبان اور کہیں داعش کا غلبہ قائم ہو جائیگااور کابل میں خانہ جنگی شروع ہوجائیگی۔ داعش 2013 میں ابو بکر البغدادی نے عراق اور شام میں قائم کی تھی۔ 2015 میں طالبان کے ایک باغی حافظ سعید اور کزئی نے پاکستان اور افغانستان میں داعش کی شاخ قائم کی ۔داعش اور طالبان 2015ءسے ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں۔ داعش کی طرف سے افغان طالبان کوپاکستان کا ایجنٹ قرار دیا جاتا رہا ہے اور اب پاکستان کی حکومت افغان طالبان کو بھارت کا ایجنٹ قرار دے رہی ہے ۔ایرانی حکومت داعش کو اسرائیل کی تخلیق سمجھتی ہے کیونکہ داعش کے جنگجو اسرائیل سے لڑنے کی بجائے ایران اور افغانستان کی طرف ہجرت کر رہے ہیں ۔داعش کو غزہ کی نہیں افغانستان کی فکر ہے۔ پاکستان نے داعش کے ایک افغان کمانڈر محمد شریف اللہ کو گرفتار کر کے پچھلے سال امریکہ کے حوالے کیا تھا۔

حال ہی میں داعش کا ایک اور افغان رہنما سلطان عزیز عزام پاکستان میں گرفتار ہو چکا ہے جو اپنے ریڈیو ’’صدائے خلافت ‘‘پر افغان طالبان کو منافق قرار دیا کرتا تھا اور افغانوں کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کو بھی اپنی ریاست کے خلاف بغاوت پر اکساتا تھا۔ پاکستان کو چاہیے کہ سلطان عزیز عزام سے ہونے والی انویسٹی گیشن کی تفصیلات کو سامنے لائے تاکہ پتہ چلے داعش کا اصل ماسٹر مائنڈ اسرائیل ہے یا کوئی مغربی ملک؟ پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کو افغانستان کے بارے میں ایک مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ۔افغان طالبان کو بھی ثابت کرنا ہے کہ وہ بھارتی کنٹرول میں نہیں ہیں بصورت دیگر انکے معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں ۔ دوسری طرف پاکستان کو بھی سوچنا ہوگا کہ اگر افغانستان سے طالبان کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا دوبارہ خانہ جنگی کی صورت میں ایک دفعہ پھر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کی طرف نہیں دوڑیں گے؟

تازہ ترین