سالِ نو کے آغاز پر سب سے بڑی خبر لاطینی امریکہ کے اہم ترین ملک ونیزویلا سے آئی ہے جو ابھی تک عالمی میڈیا پر چھائی ہوئی ہے، لاطینی امریکہ کےایک بڑے حصےبشمول برازیل، میکسیکو، کولمبیا، یوراگوئے،چلی اور کیوبا جیسے ممالک کی رائے میں وینزویلا میں امریکی کارروائی ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے،یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہے،اس سے خطے میں عدم استحکام اور تشدد بڑھے گا، لاطینی ممالک کی اکثریت کا موقف ہے کہ کسی بھی حکومت کی تبدیلی کا حق بیرونی طاقتوں کو نہیں بلکہ صرف اس ملک کے عوام کو حاصل ہے۔دوسری طرف لاطینی امریکہ میں ارجنٹائن جیسے ممالک بھی موجود ہیں جو امریکی اقدام کی تائید کرتے ہوئے حالیہ پیش رفت کو جمہوری اقدارکا فروغ قرار دیتے ہیں۔ یہ امر باعث دلچسپی ہے کہ یہ تقسیم صرف ریاستی بیانات تک محدود نہیں بلکہ ونیزویلا بحران کے تناظر میں چند حلقےامریکی اقدام کو خطے میں تاریخی ناانصافیوں کی ہی ایک کڑی سمجھتے ہیں جبکہ کچھ اسے لاطینی امریکہ کو آمرانہ نظام سے نجات کاسنہری موقع قرار دے رہے ہیں۔ ونیزویلا کے واقعے نے لاطینی امریکہ میں واقع دیگر امریکہ مخالف حکومتوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، اس حوالے سےلاطینی امریکی میڈیا بھی واضح طور پر دو حصوں میں منقسم نظر آتا ہے، اگر ایک طرف میڈیا امریکی اقدام کوسامراجی جارحیت کہتا ہے تو مخالف میڈیااسے جمہوری مداخلت کے طورپر پیش کرکےاس کا خیرمقدم کرتا نظر آرہا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ لاطینی امریکہ دنیا کے نقشے پر ایک ایسا خطہ ہے جونوآبادیاتی دور سے لیکر سرد جنگ اور آج اکیسویں صدی کے جدید دور میں مسلسل بیرونی مداخلت، اندرونی بحران، سیاسی کشمکش اور نظریاتی تقسیم کا سامنا کرتا آرہا ہے۔گزشتہ صدی ،سرد جنگ کے دور میںسویت یونین کے زیراثرمختلف سوشلسٹ حکومتوں نےلاطینی امریکی ممالک میں ایک ایسے قوم پرستانہ رحجان کو پروان چڑھایا جو اپنے پڑوس میں سپرپاور امریکہ سے دُوریاں اختیار کرنے کا باعث بنا۔تاریخی طور پر سویت یونین اور لاطینی امریکہ کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے دفاعی، عسکری اور اسٹریٹجک تعاون پر مشتمل رہے ہیں، سویت یونین نے لاطینی امریکہ میں اپنے اثرورسوخ کو بڑھاتے ہوئے امریکہ کے مدمقابل سپرپاور کے طور پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی، سویت یونین کے انہدام کے بعد روس نے لاطینی امریکہ کو اسلحہ اور دفاعی نظام کی فروخت کا سلسلہ جاری رکھا، بالخصوص روسی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم کی فراہمی کے بعد لاطینی امریکہ کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنانے کےدعویٰ کیے گئے، اس حوالے سے ونیزویلا خطے میں روس کا سب سے بڑا دفاعی شراکت کار اور روسی ساختہ اسلحے کا خریدار بن گیا، میڈیا رپورٹس کے مطابق وینزویلا نے روس سے اربوں ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدا، ایس 300، بک ایئر ڈیفنس سسٹم ، ایس یو تھرٹی جیسے جدید جنگی طیارے، بکتربند گاڑیاں اور ٹینک حاصل کیے اورروسی عسکری ماہرین کی مدد سے اپنا دفاع مضبوط تربنانے کی کوشش کی ۔تاہم حال ہی میں جب وینزویلا کے دارالحکومت میں اعلیٰ سطح کی حساس عسکری کارروائی کی گئی تو روسی ساختہ فضائی دفاعی نظام امریکی طیاروں کو روکنے سے قاصر رہا بلکہ کسی قسم کی کوئی موثر مزاحمت یا غیرملکی طیاروں کو گرانے کی کوشش کے کوئی شواہد بھی سامنے نہیں آئے، عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق ونیزویلا میں نصب روس کا فراہم کردہ ایئر ڈیفنس سسٹم فعال ہی نہیں ہوسکا۔روسی ساختہ فضائی دفاعی نظام کی ناکامی کے بارے میں صرف ونیزویلا میں ہی چرچا نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے مشرق وسطیٰ اور ایران میں بھی روسی دفاعی سسٹم کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا، شام میں سابق حکمران بشار الاسد کے اقتدار کا دارومدار روس کی فوجی حمایت پر تھا، تاہم روسی ساختہ دفاعی نظام شام میں غیرملکی فضائی حملوں کو موثر طریقے سے روکنے میں ناکام رہا، ایسی ہی ناقص کاکرکردگی کا مظاہرہ ایران میں دیکھا گیا جب ایرانی حساس تنصیبات کے دفاع کیلئے نصب روسی ایئر ڈیفنس سسٹم زیرو ہوگیا۔ اگر یوکرائن جنگ کی بات کی جائے تو روس اپنی بھرپور فضائی قوت استعمال کرنے کے باوجود یوکرین کے آسمانوں پرمکمل بالادستی قائم نہیں کرسکا اور یوکرائن ساختہ ڈرون اور میزائل روسی فضائی دفاعی سسٹم کیلئےمسلسل دردِسر بنے ہوئے ہیں ۔عالمی سطح پر روس کے ایئرڈیفنس سسٹم کا سب سے بڑا خریدار ملک ہمارے پڑوس میں بھارت ہے جو مذکورہ ممالک میں روسی دفاعی نظام کی ناکامی کے بعد سخت تشویش کا شکار ہوچکا ہے، مجھے یاد ہے کہ آج سے آٹھ سال قبل بھارت نے جب روس سےلگ بھگ ساڑھے پانچ ارب ڈالر کی مالیت کےایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدےتھے تو اسے عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم مودی سرکار نےاسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے مغربی دباؤ کو نظرانداز کردیا تھا،اس وقت بھارت یہ سمجھتا تھا کہ روسی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم پاکستان اور چین دونوں کے خلاف فضائی دفاع ناقابلِ تسخیر بناسکے گا، آج اس حوالے سے خود سرحدپار کے دفاعی ماہرین شکوک و شبہات کا شکار ہوچکے ہیں۔ میری نظر میں دنیا کا کوئی بھی ڈیفنس سسٹم تبھی مؤثر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے جب اسے اعلیٰ انٹلیجنس، جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول، اور مکمل فضائی حکمتِ عملی کیساتھ استعمال کیا جائے اور سب سے اہم ترین کردار اسلحہ چلانے والے کی پیشہ ورانہ اہلیت اور دفاعِ وطن کیلئے جان قربان کرنے کے اعلیٰ جذبے کا ہوتا ہے جسکا عملی مظاہرہ گزشتہ برس مئی میں پاک بھارت فضائی جھڑپوں میں پاکستا ن کی بہادر افواج نے ناقابلِ تسخیر سمجھے جانیوالے رافیل جہاز گرا کر پوری دنیا کے سامنے پیش کیا۔میری نظر میں وینزویلا کاحالیہ بحران محض ایک ملک تک محدود نہیں رہا بلکہ وینزویلا پر رائے دینا دراصل پورے لاطینی امریکہ کے مستقبل پر رائے دینا ہے، ایک طرف ملکی خودمختاری اور قومی وقار کا مؤقف ہے تو دوسری طرف انسانی حقوق اور جمہوریت کا نعرہ۔ تاہم اصل چیلنج یہ ہے کہ کیا روسی حمایت کے بل بوتے پر لاطینی امریکی ممالک سپرپاور امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے مزیدمتحمل ہوسکتے ہیں؟ کیا ونیزویلا کے بعد کسی اور ملک کا نمبر آسکتا ہے؟ ونیزویلا کے دارالحکومت میں بجنے والی یہی وہ خطرے کی گھنٹی ہے جس نےنہ صرف لاطینی امریکہ بلکہ روس پر انحصار کرنیوالے تمام ممالک کو نازک دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے۔