بل گیٹس نے اپنی سابقہ اہلیہ ملینڈاکی فلاحی تنظیم کوتقریباًآٹھ ارب ڈالر منتقل کردیے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ کسی ’طلاقی معاہدے‘کاحصہ نہیں تھے بلکہ بل گیٹس بھائی نے سابقہ بیوی کی محبت میں یہ کام کیا ہے۔ یہ ہوتے ہیں بڑے لوگ۔ یہاں تو طلاق کے بعد لوگ بیویوں کا جہیز تک ہڑپ کرجاتے ہیں۔ عدالتوں میں ایسے کیسز کی بھرمار ہے جن میں لڑکیاں اوران کے والدین جہیز کی واپسی کے لیے دہائیاں دیتے پھررہے ہیں۔ لڑکی والے بھی داؤ لگانے سے بازنہیں آتے۔اکثر کیسز میں وہ چیزیں بھی جہیز کی واپسی لسٹ میں شامل کردی جاتی ہیں جو جہیز میں دی ہی نہیں گئی ہوتیں۔پتانہیں کیوں لوگوں کولگتاہے کہ وہ جوکچھ بھی کیس میں لکھوا دیں گے وہ انہیں مل جائے گا۔کسی کابٹنوں والا فون بھی چوری ہوجائے تو تھانے میں رپورٹ لکھواتے و قت وہ بڑے آرام سے ’پچاس ہزارکافون‘لکھوا دیتا ہے۔
بل گیٹس کی طرف سے بیوی کی تنظیم کواتنی بڑی رقم دینے سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ جیسے ہی بیوی پرائی ہوتی ہے پھر سے اچھی لگنے لگتی ہے۔ملینڈاکے اثاثوں کی مالیت اب 25ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔یہ طلاق بھی کتنی بابرکت ثابت ہوئی ہے۔ اگریہ کالم ملینڈاکی نظر سے گزرے تو اس سے گزارش ہے کہ طلاق کے بعد پہاڑجیسی زندگی اکیلے گزارنے کی بجائے کسی جیون ساتھی کا انتخاب کرے۔ ویسے تودنیابھری پڑی ہے لیکن ملینڈا کو چاہیے کہ کسی ایسے ا نسان کا انتخاب کرے جو لالچی نہ ہو، مخلص ہو،منفرد نام کاحامل ہو ، کالم وغیرہ لکھتاہو، لاہوری مزاج رکھتا ہواور جہیزکاتقاضانہ کرے۔
٭ ٭ ٭
ٹریفک پولیس لاہور نے ایک تجربہ کیا ہے کہ مین بلیوارڈ گلبرگ کی طرز پراشارے ختم کرکے دوسری طرف جانے کے لیے یوٹرن دے دیے ہیں۔ اس کا رزلٹ بہت اچھا آرہا ہے کیونکہ سیدھی ٹریفک بھی رواں رہتی ہے اور دوسری طرف جانے والوں کو بھی لمبے سگنلز کا انتظار نہیں کرناپڑتاورنہ جہاں جہاں سگنلز ہیں وہاں ایک طرف کی ٹریفک بند ہوتے ہی لمبی لائن لگ جاتی ہے۔ اس تجربے کے اور بہت سے فائدے ہیں۔ایک تو سگنلز نہیں لگانے پڑتے، دوسرے ٹریفک اہلکاروں کی ضرورت نہیں رہتی،تیسرے ٹریفک جاری رہتی ہے، چوتھے بھکاریوں کی آماجگاہ نہیں بننے پاتی اورپانچویں ٹریفک سنگلز نہ ہونے کی وجہ سے ان کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوتی۔حال ہی میں بھیکے وال چوک پربھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور حیرت انگیز طور پر ٹریفک کی روانی بہت بہتر ہوگئی ہے۔ یہ کام جاری رہناچاہیے اور اگر لاہور کی بڑی سڑکوں کو اسی طرز پریوٹرن دے دیے جائیں تو ایک د م سے ٹریفک کا دباؤ کم ہوسکتاہے۔ ملتان روڈ پرکافی جگہ یوٹرن موجود ہیں لیکن چوبرجی سے یادگارتک بہت رش ہوتاہے جن جگہوں پرچنگ چی رکشوں پرپابندی لگی ہے وہ روڈ بھی بے ہنگم ٹریفک سے آزاد ہوگئے ہیں۔ رات دس بجے کے بعد شہر میں داخل ہونے و الے ٹرکوں کو بھی پابند کیا جائے کہ وہ کسی ایک لائن میں رہیں۔عموماً دو دو ٹرک پوری سڑک پر ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور پیچھے کی ساری ٹریفک کو روک دیتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
ایک دور تھا جب لوگ ”پراعتماد بنئے“ جیسی کتابیں خرید کر پراعتماد بننے کی کوششیں کیا کرتے تھے، ماں باپ بچوں کو پراعتماد بنانے کے لیے گھر آنے والے مہمانوں کے سامنے بچے کو ”بے بی بے بی یس ماما“ سنانے کی پریکٹس کروایا کرتے تھے۔بچہ ساری نظم صحیح سنا جاتا تو مہمان تعریف کیا کرتے تھے کہ آپ کا بچہ تو ماشاء اللّٰہ بہت پراعتماد ہے۔آج کل بچوں سے بڑوں تک سب میں ایسی پُراعتمادی بھر گئی ہے کہ اب سادہ بندہ ڈھونڈنا مشکل ہے۔ پراعتمادی کے نام پر ہمارے ہاں بدتمیزی عروج پر ہے۔دفاتر میں انٹرویوز کے وقت نوکری کے خواہشمند افراد باس کے سامنے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر ہلانے کو پراعتمادی سمجھتے ہیں، کئی ایک تو باس کی ہر بات کو تمسخر میں اڑانا حق سمجھتے ہیں اور باہر جاکر دوستوں کو بتاتے ہیں کہ میں نے ایسی خوداعتمادی کا مظاہرہ کیا کہ باس بھی حیران رہ گیا۔میرے ایک دوست کو پراعتمادی کے ایسے مظاہرے کرنے کا بہت شوق ہے اسی لیے ابھی تک بے روزگار ہے، پچھلے دنوں ایک جگہ نوکری کے لیے گیا، باس نے پوچھا آپ کی ایجوکیشن کتنی ہے؟ طنزیہ لہجے میں بولا”آپ کو کتنی چاہیے؟“۔ظاہری بات ہے اس پراعتماد جواب کے بعد وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔
٭ ٭ ٭
پاکستانیوں کی ایجادات پر ڈکشنری جتنی پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ میں خود بھی ایسی کئی ایجادات کا بانی ہوں، ایک دور میں جب میرے پاس FX گاڑی ہوتی تھی تو مجھے ہمیشہ ایسا لگتاتھا کہ عنقریب یہ چوری ہوجائے گی۔ٹریکر توہوتا نہیں تھا لہذا اس کا حل یہ نکالا کہ گاڑی کی ٹیپ کوایک چور سوئچ کے ذریعے اگنشن سے منسلک کر دیا۔ رات کو گاڑی باہر کھڑی کرنا پڑتی تھی لہٰذا میں نے ایک کیسٹ اپنی آواز میں ریکارڈ کی جس میں دس منٹ تک میں پوری قوت سے چلایا”چور چور…پکڑ لو…چور چور…“ یہ کیسٹ میں رات کو گاڑی پارک کرنے کے بعد ٹیپ میں لگا کر فل والیوم کھول دیتا۔ اس کا فائدہ یہ تھا کہ اگر کوئی چور گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کرتا تو فوری طور پر ٹیپ چل پڑتی اور ”چور چور“ کی آوازیں بمعہ سائرن گونجنا شروع ہوجاتیں۔ ایک دفعہ رات کو 2 بجے میرے ہمسائے نبیل صاحب کی اہلیہ کی طبیعت خراب ہوگئی، ان کے پاس گاڑی نہیں تھی۔نبیل صاحب نے میرے دروازے پر بیل دی۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا،ان کا مسئلہ سنا اور جلدی سے گاڑی کی چابی ان کے حوالے کر دی، غلطی یہ ہوگئی کہ انہیں چور سوئچ کا بتانا بھول گیا۔ نبیل صاحب گاڑی میں بیٹھے، چابی لگائی۔گاڑی اسٹارٹ ہوتے ہی ٹیپ بھی اسٹارٹ ہوگئی اور قریب سے گزرتا ہوا چوکیدار بھی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھتے، چوکیدار نے اپنا ڈنڈا ان کی کمر پر دے مارا۔ ٹیپ کی آواز سنتے ہی مجھے اپنی بھیانک غلطی کا احساس ہوا، میں ننگے پاؤں بھاگتا ہوا دروازے سے باہر نکلا، لیکن بہت دیر ہوچکی تھی، نبیل صاحب اسٹیرنگ پر گرے ہوئے تھے، ٹیپ پوری قوت سے چلا رہی تھی اور چوکیدار فخریہ انداز میں مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے داد طلب نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔