• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال 2025ء میں پاکستان نے دفاع اور خارجہ امور کے حوالے سے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ملک کی معاشی حالت کے حوالے سے اندیشے اور تحفظات اب بھی برقرار ہیں۔ اس حوالے سے اگر رواں سال کا گزشتہ سال سے تقابل کیا جائے تو یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو بڑھ کر تین فیصد سے زائد ہو گئی ہے۔ اسی طرح نومبر 2025ءمیں تجارتی توازن 100 ملین ڈالر سرپلس کے ساتھ پاکستان کے حق میں رہا۔ تاہم سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ نومبر 2024 ءمیں تجارتی توازن 709ملین ڈالر سرپلس تھا۔ تجارتی توازن میں یہ بہتری درآمدات میں کمی کرکے ممکن بنائی گئی جس کا اثر برآمدات پر بھی پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سال 2025ءکے دوران اکتوبر کی نسبت نومبر کے مہینے میں برآمدات 15 فیصد کم رہیں جبکہ درآمدات میں 12فیصد کمی ہوئی ہے۔ اسکے باوجود رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں مجموعی تجارتی خسارہ بڑھ کر 4.2 ارب ڈالر سے زائد ہو گیا ہے۔ ان حالات میں اگر ایک طرف برآمدات بڑھا کر ترقی کی رفتار کو تیز کیا جاتا ہے تو تجارتی خسارہ قابو سے باہر ہونے کا اندیشہ ہے۔ دوسری طرف ترقی کی شرح دو سے تین فیصد کے درمیان رہنے کی وجہ سے ملک میں معاشی سرگرمیاں انجماد کا شکار ہیں جس سے بیروزگاری اور غریب کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس بحران کا مقابلہ کرنے کیلئےبرآمدات بڑھانے اور ملک میں مینوفیکچرنگ کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینےکیلئے حکومت نے رواں سال کے آغاز پر اڑان پاکستان پروگرام کے تحت پانچ سالہ اقتصادی تبدیلی کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد مینوفیکچرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور زرعی مصنوعات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے برآمدات کو 60بلین ڈالر تک بڑھانا ہے۔ علاوہ ازیں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمت میں کمی لانےکیلئے انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 10فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ ان اہداف کے حوالے سے حکومت نے کیا کامیابی حاصل کی انکی معلومات میسر نہیں ہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس سلسلے میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن انڈسٹری پر توجہ اہم کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں آئی ٹی سروسز کی ایکسپورٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 16فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مطلب یہ کہ پاکستان کے پاس انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں برآمدات بڑھانے کا قابل ذکر پوٹینشل موجود ہے۔یاد رہے مہنگائی اور مانیٹری پالیسی میں بہتری نے بھی معاشی استحکام بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مہنگائی کی شرح گزشتہ ایک سال سے تین تا چار فیصد کے درمیان ہے جبکہ سٹیٹ بینک کی طرف سے امسال مجموعی طور پر شرح سود میں2. 5 فیصد کی کمی کی گئی ہے جس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ نئے سال میں یہ شرح مزید کم ہوسکتی ہے۔ اگر حکومت کی سطح پر مالیاتی نظم و ضبط کو اسی طرح برقرار رکھا جاتا ہے تو اس سے معاشی بہتری کا ہدف حاصل کرنے اور کارکردگی مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ تاہم ان مثبت اشارئیوں کے باوجود ترقی کی رفتار کو بڑھانے کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ اہم صنعتی شعبوں میں نئی سرمایہ کاری لانے اور برآمدی منڈیوں میں پاکستانی برآمد کنندگان کی مسابقتی پوزیشن کو بہتر بنانے کیلئے مزید کوششیں درکار ہیں۔ پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کیلئے صنعتی ترقی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ علاوہ ازیں افرادی قوت کو جدید معیشت کیلئے درکار مہارتوں سے آراستہ کرنے کیلئے تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کا معیار بہتر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔میٹرک کے بعد کسی جدید ہنر کو سیکھنا لازمی قرار دیکر تھوڑے عرصے میں بڑی تبدیلی لانا ممکن ہے۔ علاوہ ازیں سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کی حوصلہ افزائی کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی بینکنگ اور قرضوں تک رسائی آسان بنانا ہو گی تاکہ وہ اپنے کام کو زیادہ بہتر طور پر توسیع دے کرروزگار کے زیادہ مواقع پیدا کر سکیں۔ اسی طرح بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کیلئے گورننس کو بہتر بنانا اور بدعنوانی سے نمٹنا بھی ضروری ہے۔ سرکاری امور کی انجام دہی میں شفافیت سے ایک ایسا ماحول پیدا کرنے میں مدد ملے گی جہاں کاروبار ترقی کر سکیں۔ اس حوالے سے سرکاری خدمات کی فراہمی اور ٹیکس وصولی کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن سے سرکاری محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے ناصرف بزنس کمیونٹی کو سرکاری دفاتر کے بار بار چکر لگانے اور سرخ فیتہ کلچر سے نجات ملے گی بلکہ لوگ زیادہ اچھے ماحول میں اپنے کاروبار کو فروغ دے سکیں گے۔ سرکاری محکموں کی ڈیجیٹلائزیشن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ بزنس کمیونٹی کا ہر فرد اپنے دفتر سے ہی متعلقہ سرکاری محکمے کی خدمات حاصل کرنےکیلئے دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق آن لائن درخواست فائل کر سکے گا اور اسے بار بار سرکاری دفاتر کے چکر لگا کر سرکاری ملازمین سے فالو اپ میں وقت ضائع نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ وہ اقدامات ہیں جن پر عملدرآمد سے ناصرف پاکستان کی معاشی بحالی کا سفر تیز ہو گا بلکہ اس سے کاروبار کرنے کے ماحول میں بھی بہتری آئے گی۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاروں کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری پر راغب کیا جا سکے گا۔

تازہ ترین