• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ کی تاریخ مونرو ڈاکٹرائن کے مطابق دنیا بھر میں بلاجواز مداخلتوں سے بھری پڑی ہے، جس میں وینزویلا پر حالیہ امریکی حملہ ایک اور اضافہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے پانامہ ماڈل اپناتے ہوئے نکولس مادورو اور اس کی بیوی کو بعینہ اسی طرح ہتھکڑیاں لگا کر نیویارک کی سڑکوں پر گھمایا جیسے 1989ء میں جنرل مینوئل نوریگا پر منشیات کی اسمگلنگ کا الزام لگا کر ہتھکڑیوں میں امریکی عوام کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے صدر مادوروکے اغوا کے ساتھ ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ امریکا اب وینزویلا پر راج کرئیگا بلکہ وہاں سےکئی ملین بیرل تیل بھی لے گا جسکی قیمت وہ خود طے کرئیگا۔ عالمی مبصرین کے مطابق یوں کسی ملک کی قیادت کو اغوا کر کے وہاں قیادت کا خلاء چھوڑ دینا کسی عالمی قوت کی نہیں ایک زوال پذیر اور بیمار ریاست کی علامت ہے۔

دنیا بھر میں تیل کےسب سے بڑے ذخائر کےمالک وینزویلا نے اپنا تیل ڈالر کی بجائے یوان، یورو، اور روبل میں فروخت کرنا شروع کر دیا تھا جوامریکہ کی نظر میں ناقابل معافی جرم ہے۔ صدر ٹرمپ نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ وینزویلا کا تیل دراصل امریکا کا ہے کیونکہ ایک صدی پہلے امریکی کمپنیوں نے اس پر کام کیا تھا۔ 2023ء میں ٹرمپ نے کہا تھا ’’جب میں اقتدار چھوڑ کر گیا، اس وقت وینزویلا تباہی کے دہانے پر تھا، ہم اس پر قبضہ کر لیتے اور سارا تیل حاصل کر لیتے اور وہ بالکل ہمارے پڑوس میں ہی ہوتا‘‘۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کی یہ ہوس برطانیہ کی نوآبادیاتی دور کی لوٹ کھسوٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ اقتدار کی پہلی ہی تقریر میں تیل اور گیس کی کمپنیوں کو صدارتی الیکشن میں فنڈنگ فراہم کرنے پر نوازتے ہوئے بڑے پیمانے پر تیل اور گیس نکالنے کے منصوبوں کے اعلان کے ساتھ ہی پیرس معاہدے سے بھی علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

یاد رہے وینزویلا پر حملے کے پیچھے مارکو روبیو کا کردار بہت اہم ہے ، اسکے والدین کیوبا سے نکل کر میامی میں آباد ہوئے اور یوں مارکو روبیو کی سیاسی شناخت اینٹی کاسترو کے طور پر ابھری۔ وہ لاطینی امریکا میں بائیں بازو کی حکومتیں ختم کرنے کا ہمیشہ سے ہی خواہاں رہا ہے۔ اس نے ٹرمپ کے پہلے دور میں بھی کیوبا، وینزویلا اور نکاراگوا پر حملہ کروانے کی کوشش کی مگراس بار وہ اپنی کوشش میں کامیاب ہو گیا۔ وہ کیوبا کو وینزویلا کا مددگار سمجھتا ہے اور امریکا کا خیال ہے کہ وینزویلا کا خاتمہ دراصل کیوبا کیلئے ایک مہلک دھچکا ہو گا۔ 1998ء میں وینزویلا کے عوام نے بائیں بازو کے ایک عوامی نمائندے ہوگو شاویز کو اپنا صدر منتخب کیا لیکن امریکا نے ہوگو شاویز کو بھی سی آئی اے کی سرپرستی میں ہونے والی بغاوت کے دوران اغوا کیا ،مگر پھر عوام کے سڑکوں پر نکل آنے پر 48گھنٹوں کے اندر اقتدار دوبارہ انکے حوالے کرناپڑا۔

شاویز نے سامراجی اور سیاسی اشرافیہ کی کرپشن کے خلاف کاروائیاں کیں جس سے فیڈل کاسترو اور ہوگو شاویز ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گئے۔ اس نے تیل کی دولت کو قومی فلاح کیلئے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے پڑوسی ممالک کو بھی رعایتی قیمت پر فراہم کیا۔ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد جب کیوبا4.5ارب ڈالر کی سالانہ امداد سے محروم ہو گیا تو اس وقت وینزویلا نے کیوبا کو رعایتی نرخوں پر تیل دیا۔کیوبا ناصرف اس تیل کو استعمال کرتا تھا بلکہ اسے صاف کر کے دیگر مارکیٹوں میں بھی فروخت کرتا تھا ۔اسکے بدلے میں کیوبا نے وینزویلا کو صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مدد دیتے ہوئے بیس ہزار ڈاکٹروں کی خدمات کے ساتھ ساتھ وہاںکے سیکورٹی نظام کو بھی تقویت دی۔ اسی وجہ سے امریکا کا خیال ہے کہ 2019ء میں وینزویلا میں فوجی بغاوت کے منصوبے کو ناکام بنانے میں کیوبا کا بڑا ہاتھ تھا۔ مگر2013ء میں ان کی وفات کے بعد مادورو کو ان کا جانشین نامزد کیا گیا لیکن وہ واضح طور پر اپنے پیشرو کے مشن کو آگے نہ بڑھا سکے۔یوں 2012ء سے 2024ء کے درمیان وینزویلا کی جی ڈی پی 372 ارب ڈالر سے کم ہو کر 120ارب ڈالر رہ گئی، گوکہ اس میں امریکہ کی طرف سے عائد پابندیوں اور حکومت کی تبدیلی کی کوششوں کا بھی کردار تھا ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلاپر حملے کے بعد کولمبیا، کیوبا، ایران حتی کہ گرین لینڈ کے حصول کے بارے میں دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔جبکہ گرین لینڈ 56ہزار آبادی پر مشتمل ایک خودمختار علاقہ ڈنمارک کے زیراثر ہے ۔ گرین لینڈ نے خبردار کیا ہے کہ 1952ء کے معاہدے کے مطابق کسی بھی بیرونی حملے کی صورت میں ڈنمارک کی فوج فوری جوابی کاروائی کرئیگی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ گرین لینڈ پر قبضے سے امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان ایک بڑی دراڑ کا آغاز ہو سکتا ہے۔ وینزویلا پر اس حملے نے دراصل اس نام نہاد عالمی نظام اور اقوام متحدہ کے ادارے کی توقیر تقریباً ختم کر دی ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تیسری دنیا کے وہ ممالک جہاں تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں جن میں ایران اور سعودی عرب بھی شامل ہیں انہیں متحدہو کر فوری نئی حکمت عملی بنانا ہوگی۔

اس سلسلے میں ماہرین کا خیال ہے کہ پچھلے پچاس سال میں امریکا کا سب سے طاقتور ہتھیار اسکی فوج کی بجائے SWIFT ( سوسائٹی فار ورلڈ وائڈ انٹر بینک ٹرانسفر) تھا،جو دراصل بیلجئم میں ایک ادارہ ہے جسے امریکا کا خزانہ کنٹرول کرتا ہے۔ دنیا کا تقریباً ہر بین الاقوامی بینک ٹرانسفر SWIFT کے ذریعے نیویارک سے گزرتا ہے اور یوں اس لین دین میں امریکا اپنا حصہ وصول کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی تسلط بیرونی حملوں کی بجائے اس وقت کمزور ہوگا جب امریکی کرنسی کام کرنا چھوڑ دے گی۔برکس کے فورم پر اکٹھا ہونے کے ساتھ ساتھ تیسری دنیا کے ممالک کوامریکی تسلط سے نجات حاصل کرنے کیلئے اپنے ممالک میں جمہوریت کے ذریعے اپنے عوام سے مضبوط رشتہ استوار کرنا ہوگا۔

حال ہی میں برازیل نے خاموشی سے برکس برج سسٹم فعال کر دیا ہے جس سے برازیل ، روس، چین ، بھارت اور جنوبی افریقہ اپنے اپنے مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسیوں کےذریعے تجارت کر رہے ہیں جسکا کوئی تعلق ڈالر اور SWIFT کے نظام سے نہیں ہے۔ جب برازیل چین کو سویا بین مہیا کرتا تھا تواسے پہلے اپنی کرنسی کو ڈالر میں منتقل کرنا ہوتا تھا لیکن اب 2024ء میں روس اور چین نے بیس ارب ڈالر ، بھارت اور برازیل نے 115ارب ڈالر کی آپس میں تجارت کی ہے، جبکہ روس پہلے ہی اپنا تیل روبل،یوآن اور انڈین کرنسی میں بیچ رہا ہے۔گوکہ یہ اعداد و شمار ڈالر کے مقابلے میں بہت کم ہیں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہر انقلاب کا آغاز صفر سے ہی ہوتا ہے۔

تازہ ترین