• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں ایک عام سا رپورٹر ہوں اور اس پیشے میں جب سے آیا ہوں، خبر ہی میری ترجیح رہی ہے۔ میں نے نہ کبھی دانشور ہونے کا دعویٰ کیا اور نہ میں کوئی جوتشی ہوں جو مستقبل کے بارے میں بتا سکے کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ میں کوئی بڑا کالم نگار بھی نہیں کہ جسکے لکھے پر کتابیں شائع ہو جاتی ہوں۔

میرا اصل کام رپورٹنگ ہی ہے، البتہ ہفتے میں دو بار جنگ میں کالم بھی لکھتا ہوں۔ مجھے کالم لکھنے کا کوئی خاص ہنر حاصل ہے اور نہ وہ زبان و بیان جو ہمارے بعض سینئر صحافیوں کا خاصہ ہے، لیکن اپنی سوچ کو بیان کرنے کا ایک ذریعہ ضرور ہے، جس پر میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ خبر دوں، اور جب کالم لکھوں تو کسی مسئلے پر لکھوں۔ خبر کی بات ہو تو اللّٰہ تعالی کے کرم سے بہت بڑی بڑی خبریں بھی سامنے آئیں۔ بعض اوقات خبر درست ثابت نہیں ہوتی، جس میں یقیناً میری اپنی کوتاہی شامل ہوتی ہے۔ خبر کو خبر ہی سمجھا جانا چاہیے، لیکن خبر کبھی کسی کو پسند آتی ہے اور کبھی کسی کو ناگوار گزرتی ہے، اسی لیے الزامات اور تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے۔جہاں تک میری سوچ کا تعلق ہے، اس کا عکس میرے کالمز میں ظاہر ہوتا ہے۔ میں ایک گناہ گار انسان ہوں، نہ جانے کیا کیا غلطیاں کی ہوں گی، اسی لیے ہمیشہ اللّٰہ تعالیٰ سے معافی کا طلبگار رہتا ہوں۔ مگر اپنی سوچ اور نظریے کی بنیاد پر مجھے دوسروں کے علاوہ اپنے کچھ پڑھے لکھے، روشن خیال اور لبرل دوستوں کی طرف سےبھی طنز اور طعنہ و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میرا نظریہ میری سب سے بڑی ترجیح ہے اور رپورٹنگ میرا بنیادی کام اور ذمہ داری۔ خبر جب اور جہاں ہو، اسے اسی طرح سامنے آ جانا چاہیے۔جب عمران خان کی حکومت جانے لگی تو اس سے چند ہفتے قبل میں نے پہلے ایک خبر دی اور پھر اپنی اطلاعات کی بنیاد پر ایک کالم لکھا، جس میں یہ بتایا کہ سیاستدان ایک بار پھر عمران خان کی حکومت کو گرانے میں استعمال ہو رہے ہیں۔ ایک ذریعے کا حوالہ دے کر میں نے لکھا:

’’اُس سے بات کر کے مجھے افسوس ہوا اور ایسا لگا جیسے سیاستدان ایک بار پھر استعمال ہو رہے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ وزیراعظم عمران خان پولیٹیکل انجینئرنگ کے نتیجے میں اقتدار میں آئے، لیکن اب اپوزیشن عمران خان کو نکالنا چاہتی ہے تو بھی اپنے زورِ بازو کے بجائے سہاروں کیلئے ترس رہی ہے۔ یہ پاکستان کی سیاست کا وہ المیہ ہے جسے ہم بُرا سمجھتے ہیں، جس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، جسکے خلاف سیاستدان بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں، لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو سب پولیٹیکل انجینئرنگ کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ عمران خان اگر غلط طریقے سے اقتدار میں آئے تو انہیں نکالنے کا طریقہ بھی غلط نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اپوزیشن کے پاس گنتی پوری نہیں تو وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک قومی اسمبلی میں لانے کا اعلان کیوں کیا؟ مجھے بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم کی جن امیدوں سے وابستگی ہے، آج بھی ان کا بھروسہ اپنے زورِ بازو پر نہیں۔ شہباز شریف، مولانا فضل الرحمٰن اور آصف علی زرداری اُن چند لوگوں میں شامل ہیں جنہیں کھیل کی جزئیات کا علم ہے، لیکن وہ اُس ممکنہ گریٹر گیم سے لاعلم ہیں جو ہمارے ساتھ ہمارے ہی ملک میں کھیلی جاتی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس گریٹر گیم کیلئے اپوزیشن کو استعمال کیا جا رہا ہے‘‘چند ہفتوں کے بعد عمران خان کی حکومت چلی گئی اور پی ڈی ایم کی حکومت آ گئی۔

اب کچھ عرصے سے موجودہ حکومت کے حوالے سے میڈیا میں لکھا اور کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کی جگہ کسی’’ونڈر بوائے‘‘ کی تلاش کی جا رہی ہے۔ اب تو ٹاک شوز میں بڑے بڑے صحافی یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شہباز حکومت کو چھ ماہ کا الٹی میٹم دیا جا چکا ہے کہ معیشت درست کرو، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔بحیثیت رپورٹر یہ میری ذمہ داری تھی کہ معلوم کروں آیا واقعی موجودہ حکومت رخصت ہونے جا رہی ہے اور شہباز شریف کی جگہ کوئی ونڈر بوائے ڈھونڈا جا رہا ہے یا نہیں۔ میں نے خود ایک ایسے ذریعے سے رابطہ کیا جس کے بارے میں میرا خیال تھا کہ اگر اس حوالے سے کوئی سوچ موجود ہے تو وہ اس سے باخبر ہوگا۔ مجھے بتایا گیا کہ کوئی ونڈر بوائے نہیں آئے گا۔

میں نے ایک رپورٹر کی حیثیت سے یہ خبر دی، جس پر جنگ کے سینئر کالم نگار، معروف صحافی اور پاکستان کے سب سے بڑے اخبار کے ایڈیٹوریل پیج کے ایڈیٹر محترم جناب سہیل وڑائچ صاحب شاید ناراض ہو گئے، جس پر میں ان سے معذرت کا طلبگار ہوں۔ میں اپنے کالم کو ذاتی جھگڑوں کی نذر نہیں کرنا چاہتا، اس لیےبلا چون و چرا اپنی خبر کی’’تردید‘‘ کرتے ہوئے اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہتا ہوں کہ چوہے بلی کا کھیل دوبارہ شروع ہو چکا ہے اور شہباز شریف کی جگہ ونڈر بوائے کی تلاش بھی شروع ہو چکی ہے۔

آخر میں بحیثیت رپورٹر ایک اور بات عرض کرتا چلوں۔ گزشتہ شام مجھے طاقتور حلقوں سے تعلق رکھنے والے ایک اہم شخص کا فون آیا، جنہوں نے بتایا کہ چھ ماہ کی ڈیڈ لائن سے متعلق جو خبریں چل رہی ہیں، وہ درست نہیں۔ یاد رہے، یہ اطلاع مجھے خود دی گئی ہے۔ جب مجھے اپنے ذرائع سے حکومت کے جانے کی مصدقہ خبر ملے گی تو ان شاء اللّٰہ وہ بھی ضرور دوں گا۔ فی الحال، چلیں ونڈر بوائے کا انتظار کرتے ہیں۔

تازہ ترین