• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مدوّن و مرتب: عرفان جاوید

(بلال حسن منٹو)

بھلا امّی کیوں بتاتیں؟ کام اخترآنٹی کا تھا اور کیا یہ بہت کافی نہ تھا کہ امّی ایسے ناپسندیدہ معرکے کے لیے ان کے ساتھ جا رہی تھیں؟ مگر اس سے یہ تو ظاہر ہوگیا کہ اختر آنٹی آپا صغراں سے کچھ نہ کچھ خوف کھاتی تھیں اور اُن سے متعلق ہر کام امّی کے ذریعے کروانا چاہتی تھیں، حالاں کہ وہ ایک فوجی کپتان کی ماں تھیں۔ جب امّی اگلے روز آپا صغراں کے گھر سے لوٹیں تو اُن کےچہرے کا رنگ اُڑا ہوا تھا اور وہ بےحد سراسیمہ تھیں۔ 

ہم گھبرا گئے۔ میرے دماغ میں پہلی بات یہ آئی کہ کہیں آپا صغراں نے اُنھیں سوٹی سے مارا تو نہیں؟ مگر ان کے سرسے خون نہیں بہہ رہا تھا اور وہ بے ہوش بھی نہ ہوئیں۔ مَیں نے سوچا کہ شاید صرف اختر آنٹی کو مارا ہو اور امّی، جان بچا کے بھاگ آئی ہوں۔ سو، مَیں نے پوچھا کہ اختر آنٹی کہاں ہیں۔ ’’وہ بےچاری اپنے گھر چلی گئی ہیں۔‘‘ امّی نے کہا۔ یعنی اخترآنٹی کو بھی سوٹیاں نہیں پڑی تھیں۔ پھرامّی نے کہا۔’’ایہہ کیہوجیہی عورت اے؟ مَیں ایسی کمینی، بدمعاش عورت کدی نہیں ویکھی۔‘‘

لفظ بدمعاش سے میرے دماغ میں وہ لوگ آتے تھے، جوخواہ مخواہ دوسروں کو مارتے کُوٹتے ہوں اور زبردستی اپنی مرضی کی باتیں منواتے ہوں۔ سو، اس کامطلب تھا کہ کم از کم یہ ضرور ہوا تھا کہ آپا صغراں، امّی اور اختر آنٹی پہ حملہ آور ہوئی تھیں اور کسی تدبیر سے شاید یہ دونوں عورتیں اُن کا مقابلہ کرنے کی بجائے وہاں سے سرپٹ بھاگ آئی تھیں۔ یہ، یا ایسی کوئی اس کے قریب قریب بات ہوئی ہوگی۔ یہ سوچ کرکہ یہ دونوں وہاں سےبھاگ آئیں، مجھےکچھ شرمندگی ہو رہی تھی، کیوں کہ اگر یہ دونوں ایک عورت کےحملے سے ڈر کر بھاگ آئی تھیں، تو اس کا صاف مطلب تھا کہ دونوں بزدل ہیں۔ 

گو، مَیں خود بزدل تھا، مگرمجھے یہ بات پسند نہ آئی کہ میری امّی بھی بزدل ہیں اور اِسی لیے مَیں کچھ شرمندگی محسوس کررہا تھا۔ ’’ آپ کو سوٹی لے کر جانا چاہیے تھا۔‘‘مَیں نےکہا۔’’سوٹی نہیں، بندوق‘‘ امّی نے کہا۔ ’’اِس عورت کو بندوق سے اُڑا دینا چاہیے۔‘‘ ’’توجب ابا کے پاس چینی بندوق ہے تو آپ کیوں ساتھ لےکر نہیں گئیں؟‘‘ مَیں نے پوچھا۔ ’’یہ بات آپ کو پتا تھی ناں کہ آپا صغراں ایک خطرناک عورت ہے اورسوٹی مارکے اپنی بیٹی کے سر میں سوراخ کرچُکی ہے؟‘‘

ابّا نے مجھے اشارہ کیا کہ مَیں خاموش رہوں۔ اُنھوں نے کہا کہ جاؤ، امّی کےلیے پانی لےکر آؤ اور پھر امّی سے ماجرا دریافت کیا۔ وہ حیران تھےکہ آخر ایک رشتہ لینے کی بات کرنے جانے پر ایسی کیا قیامت برپا ہوسکتی ہے۔’’اوہ اِک بپھری ہوئی پاگل عورت اے۔‘‘امّی نےکہا۔ اور پھر سارا ماجرا بتایا۔ پہلے پہل تو سب ٹھیک رہا تھا۔ جب امی اخترآنٹی کو اُن کے تازہ رنگے بالوں سمیت لے کر وہاں پہنچیں، تو آپا صغراں نے خندہ پیشانی سے اُن کا استقبال کیا۔

یعنی وہ کچھ نہ کچھ اس بات سےخوش ہوئیں کہ ہم سائیوں میں سے کوئی اُنھیں ملنے آیا ہے، کیوں کہ سب ہم سائے ان سےعام طور پرگریزاں رہتے تھے۔ ’’آؤ جی آؤ‘‘انھوں نے کہا۔’’کنی چنگی گل اے کہ تسیں آئیاں او۔‘‘ وہ بولیں۔ ’’او فری پری… چاء بناؤ۔‘‘ انھوں نے آواز لگائی۔ پھر قدرے توقف سے انھوں نے فری کو دوبارہ آواز دی کہ آ کر اُن کی بات سُنے۔ جب فری آئی تو اُنھوں نے اُسے چابیوں کا ایک گچھا دیا اور کہا کہ گھی والی الماری کا تالا کھولے اور اس میں پڑے ڈبّے میں سے چار باقر خانیاں بھی نکالے۔ ’’تے اک منٹ وچ چابی واپس لےکےآ، نہیں تےمونہہ توڑدیاں گی تیرا۔‘‘ 

انہوں نے سختی سے کہا۔ جب فری واپس مُڑی تو انھوں نے کہا۔ ’’ڈبے وچ بارہ باقرخانیاں نیں۔ میں گِنیاں ہوئیاں نیں۔‘‘امّی اور اخترآنٹی ابھی اسی عجیب و غریب گفتگو پر ہی دم بخود تھیں کہ آپاصغراں بولیں۔ ’’اج کل کُڑیاں تے بڑی نظر رکھنی پیندی اے۔ ذرا کھچ کے رکھنا پیندا اے۔‘‘ پھر چہرے پر مسکراہٹ لا کر کہا۔ ’’ہور کیہ حال چال اے؟ اللہ دی قسمیں بڑی خوشی ہو رہی اے تہاڈے آن دی۔ جے تسیں دس کے آندیاں تے مَیں فریزر وِچوں چکن دے کباب وی کڈھ کے رکھ دی۔‘‘ یہ بکواس تھی۔ ہمارے گھر میں بھی کباب فریز کر کے رکھے ہوئے ہوتے تھے اور اِسی لیے کہ کوئی مہمان ناگہانی آجائے تو فوراً نکال کے فرائی کیے جائیں۔ 

اس بات کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی کہ پہلے سے پتا ہو کہ کوئی آئے گا تو پھر ہی کباب نکالے جائیں۔ آپاصغراں بکواس کررہی تھیں۔ یا تو اُن کےفریزر میں کباب وباب نہیں تھے یا پھر وہ اتنی کنجوس تھیں کہ اُن دو ہم سائیوں پراُنھیں ضائع نہیں کرنا چاہتی تھیں، جن کے بارے میں اُنھیں ضرورعلم ہوگا کہ وہ انھیں کچھ خاص پسند نہیں کرتیں، بس آج حیرت انگیز طور پر ملنے آگئی ہیں۔ 

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اُن کا فریج، ہمارے فریج کے برعکس، پرانی وضع کا ہو اور اُس کے ساتھ ایسا کوئی فریزر نہ جُڑا ہو،جس میں کھانےکی اشیا کو برفا کے رکھا جاتا ہے۔ چند لمحے بعد پری اندر آئی اور چابیاں آپا صغراں کو واپس کرگئی۔ پھر کچھ دیر بعد چائے بھی پری ہی لے کرآئی۔ جب وہ چائے کی ٹرے میز پر رکھ رہی تھی تو اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور چمچ اور برتن باہم ٹکرا کے چھن چھن کی آواز پیدا کررہے تھے۔’’کیا ہوا ہے تمھیں؟‘‘

آپا صغراں بولیں۔’’ٹوٹے ہوئے ہاتھوں سے کیوں کام کر رہی ہو؟‘‘ پھر انھوں نے دیکھا کہ پلیٹ میں ان کےحُکم کے غیر مطابق چار نہیں، تین باقر خانیاں تھیں۔ ’’مَیں فری نوں کہیا سی چار باقر خانیاں کڈھے۔‘‘ پری نے ہکلاتے ہوئے بتایا کہ ڈبّے میں کل گیارہ باقرخانیاں تھیں،اِس لیے فری نے صرف تین نکالیں تاکہ باقی آٹھ بچ جائیں اور آپا صغراں کا حساب خراب نہ ہو۔ ’’یارھاں؟ 

اک اوہنے اپنے واسطے رکھ لئی ہووے گی۔ ذرا بلا اوہنوں ایدھر‘‘ جوہونےوالا تھا، اُس کا تصوّر کرتی پری کانپتی ہوئی ڈرائنگ روم سے باہر چلی گئی۔ ’’دیکھو ذرا…‘‘ آپا صغراں دانت نکال کے بولیں۔’’مَیں چار باقرخانیاں منگوائیاں سن تاکہ تسیں دو دو تےکھاؤ۔‘‘ امّی اور اختر آنٹی نے کہا کہ اُن کے لیےایک ایک باقر خانی ہی کافی ہے۔ یہ اُنھوں نے اس لیے بھی کہا کہ باقرخانیاں کافی بسی ہوئی نظر آتی تھیں۔ امّی نے اپنے بلڈ پریشر کا حوالہ دیا، جس کا باقرخانیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا اور اخترآنٹی نے کہا کہ وہ ڈائٹنگ کر رہی ہیں۔ 

امّی نے کہا کہ ایک ایک تو وہ دونوں کھالیں گی اورآپاصغراں کو چاہیے کہ وہ تیسری کھالیں۔ آپا صغراں نےکہا کہ نہیں، امّی اور اختر آنٹی دو دو کھائیں گی، کیوں کہ وہ خُود ایسی گند بلا کھانا پسند نہیں کرتیں۔’’میں بس چاء پیاں گی۔‘‘ انہوں نے کہا۔ جب کچھ دیر تک فری نہ آئی تو آپا صغراں اُٹھیں اوراُن دونوں خواتین کو چائے پیتا چھوڑ کر باہر گئیں۔ امّی نے بتایا کہ کچھ لمحوں بعد اُن دونوں نے چیخ و پکار کی آوازیں سُنیں۔ 

ظاہر ہےکہ وہ فری کی چیخ و پکار تھی۔ پھر چیخ وپکار، غرغراہٹ میں تبدیل ہوگئی۔ یہ ہمیں نہیں معلوم کہ آپا صغراں اُسے سوٹیوں سے ماررہی تھیں یا اس کے بال کھینچ کھینچ کر اُس پرتھپڑوں، جوتوں کی بارش کررہی تھیں۔ چیخ و پکار کا غرغراہٹ میں تبدیل ہونا اس بات کا مظہر بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس کا گلا دبا رہی تھیں یا اس کی مارکٹائی کرتے ہوئے اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ رہی تھیں تاکہ مہمان خواتین تک اس کی مزید چیخ و پکار نہ پہنچ سکے، گو یہ بات کچھ زیادہ قرین ازقیاس نہیں تھی، کیوں کہ واقعات گواہ تھےکہ آپا صغراں کو نہ صرف اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ لوگوں تک یہ بات پہنچے کہ وہ اپنی بیٹیوں پر تشدد کرتی ہیں بلکہ شاید وہ اِس کو ایک قابلِ فخربات جانتی تھیں اور ممکن ہےکہ یہ بھی سمجھتی ہوں کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنی بچیوں کی بڑی سخت تربیت کرتی تھیں۔ جو بھی ہو، وہ فری پر تشدد کررہی تھیں اور وہاں ڈرائنگ روم میں امّی اوراخترآنٹی بےحد گھبرارہی تھیں۔ امّی نے اخترآنٹی سے کہا کہ وہ پھر سوچ لیں کہ کیا وہ اس قسم کی عورت سےناتا جوڑنا چاہیں گی؟

اختر آنٹی نے کہا کہ وہ فرازکی فرمائش کے آگے بے بس ہیں، مگر ساتھ ہی وہ اس قدر گھبرا رہی تھیں کہ اُنھوں نے رشتے کی بات کرنے کا کام بھی امّی کے سرتھوپا اور کہا کہ ’’ندرت جان! تم بڑی سیانی ہو، تم ہی بات کرنا۔‘‘ یہ باتیں سُنتے سُنتے مجھے امّی پر بہت ترس آیا کہ بےچاری کیسی بُری پھنسی تھیں۔ 

اختر آنٹی اُن سے کیسا مکروہ کام کروانا چاہ رہی تھیں۔ امّی نے اختر آنٹی سے کہا کہ اس وقت، ان حالات میں جو گیارہ باقرخانیوں نے پیدا کردیئے تھے، شاید رشتے کی بات کرنا مناسب نہ ہو اور جلد ازجلد چائے کی پیالی ختم کرکے گھر واپس لوٹنا بہتر ہو، مگر اختر آنٹی نےکہاکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہمیں ایک بار پھراِس پُل صراط سے گزرنا پڑے گا اور کسی اور دن یہاں واپس آنا پڑے گا۔ 

امّی نے ایک بار پھرکوشش کی اور کہا کہ ’’آپا اختر! اگر آپ اتنا ڈررہی ہیں، یہاں واپس آنے سے، تو پھر اگر آپا صغراں نے رشتہ منظور کر لیا اور وہ آپ کی سمدھن بن گئیں تو آپ کیا کریں گی؟ پھر تو اکثر آپ کو یہاں آنا پڑے گا اور وہ بھی آپ کے گھر آیاجایاکریں گی۔‘‘ امّی نے اُن پرزور دیا کہ وہ یہ رشتہ کرنے کاخیال دل سے نکال دیں۔ اختر آنٹی کو آپا صغراں سے مستقل مِلنے جُلنے کے اس ممکنہ بندوبست کے خیال سے جھرجھری آئی، مگر اُنھوں نے بےچارگی سے پھر کہا کہ وہ فراز کی ضد کے آگے مجبور ہیں۔ ازراہِ تسلی یہ بھی کہا،کم ازکم ایک بات تو طے ہے کہ بچیاں بڑی ہی اطاعت گزار ہیں۔

آپا صغراں جب واپس آئیں،توان کاچہرہ غصّے سے سُرخ تھا۔ ’’سدھا کر کے آئیں آں فری نوں۔‘‘ اُنھوں نےکہا۔ ’’تُسیں باقرخانیاں نہیں کھا رہے؟‘‘ اوریہ کچھ ایسے تحکمانہ لہجے میں کہا کہ امّی اور اختر آنٹی دونوں نے فوراً باقرخانیاں اُٹھالیں اور چائے میں ڈبو کرکھانے لگیں۔ ’’ہم اصل میں ایک ضروری بات کرنے آئی تھیں‘‘ امّی نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ 

آپا صغراں نے تیوریاں چڑھا لیں، جیسے کہ اس بات پر غصّے میں آ رہی ہوں کہ یہ عورتیں اُن کے گھر کسی کام کی وجہ سے آئی تھیں۔ وہ کوئی خدائی خدمت گار نہیں تھیں اوراُنھیں لوگوں کےکام کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ ’’اچھا؟ بتائیں۔‘‘ انھوں نے رکھائی اور تکلف سے اُردو میں کہا۔ ’’کیا بات ہے؟‘‘ امّی کو الفاظ نہیں مل رہے تھے، جن میں مدعا بیان کرتیں۔ 

ویسے تو ایسی باتیں عورتیں خُوب آرام سے کر لیتی ہیں اور ان کو کرنے کے طرح طرح کے طریقے ہیں۔ پہلے تھوڑی سی تمہید باندھی جاتی ہے، مثلاً یہ کہ’’ماشااللہ آپ کی بچیاں بڑی پیاری ہیں۔ آپ نےاُن کی بڑی اچھی تربیت کی ہے۔ کیسی فرماں بردار، نیک سیرت اور گھرگرہستی میں بےحد ماہر ہیں، جس کاثبوت یہ اعلیٰ درجے کی چائے ہے، جواُنھوں نے ابھی جھٹ پٹ تیار کرکے پیش کی ہے اور مزید یہ کہ آپ اُنھیں تعلیم بھی دلوا رہی ہیں۔ 

یعنی آپ کی بیٹیاں ہی ایسی اعلیٰ درجےکی اولاد نہیں بلکہ آپ بھی کیسی ہوش یار اور قابلِ ذکر ماں ہیں کہ اُن کی ایسی متوازن تربیت کررہی اور کیے جارہی ہیں۔‘‘ یا ایسی دیگر باتیں کہی جاسکتی تھیں اور پھر کہا جاسکتا تھا کہ ’’اختر آپا کا بیٹا فراز بھی ماشااللہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ فوج میں کپتان ہونا تو خیر اُس کی اعلیٰ ترین خصوصیت ہے ہی، مگر وہ بھی بہت ہی فرماں بردار اور شریف ہے۔‘‘

حالاں کہ یہ بات کچھ اتنی درست نہ ہوتی، کیوں کہ فرازایسا ہی فرماں بردارہوتا، تواِس معاملے میں اتنی ضد کا مظاہرہ نہ کرتا اور اپنی ماں کو یوں مجبورنہ کرتا کہ وہ اِس خطرناک عورت کے گھررشتہ لےکرجائے اور ہر روز اِس خوف میں گرفتار رہے کہ اگر رشتہ ہوگیا تو اُسے اس کی سمدھن بن کے رہنا اور عُمر بھر اُسے برداشت کرنا پڑے گا۔

’’ اختر آپا کے بیٹے کی بڑی خواہش ہے کہ وہ آپ کا داماد بنے۔‘‘ امّی نے یک لخت بغیرتمہید کےکہا۔ کچھ دیر بالکل سکوت رہا۔ پھر آپاصغراں نےہاتھ میں تھامی پیالی آہستہ سے میز پر رکھ دی اور اُن دونوں کو گھورنے لگیں۔ پھر بہت ٹھہر ٹھہر کے، دانت بھینچ بھینچ کے بولنا شروع ہوئیں۔ ’’جیہڑی چاء تسی پی رہیاں ہو…جےتسی میری ہم سائیاں نہ ہوندیاں تے ایہوچاء مَیں تہاڈے مونہہ تے سُٹ دیندی۔ تے اختر سلطاناں بیگم، تیرے اُتے تے مَیں پوری چینک سٹ دیندی۔‘‘(جو چائے تم پی رہی ہو، اگر تم میری ہم سائیاں نہ ہوتیں، تو یہی چائے میں تمھارےمنہ پرپھینک دیتی۔ اور اختر سلطانہ بیگم، تمھارے منہ پہ تو مَیں پوری چائے دانی پھینک دیتی) امّی اور اخترآنٹی یہ فقرہ سن کرسکتے کی حالت میں آگئیں۔ 

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امّی اور اختر آنٹی جواباً کوئی بہت سخت بات کہتیں۔ مثلاً یہ کہ ’’چل چل، اُلّو کی پٹھی، تو کیا چائے پھینکے گی ہمارے منہ پر، ہم پوری ابلتی پانی کی کیتلی خُود تیرے منہ پر پھینکیں گی۔‘‘ اور یہ کہہ کر وہاں سے فوراً اُٹھ کر خداحافظ کہے بغیر واپس اپنےگھروں کو آجاتیں۔ مگر آپا صغراں نے ایسے ناگہانی طور پر بکواس کی تھی کہ یہ دونوں سٹپٹا گئیں۔ امّی سکتے سے ذرا سنبھلیں تو بس اتنا پوچھ سکیں کہ ’’کیوں آپا صغراں، اِس میں ایسے ناراض ہونے والی کیا بات ہے؟‘‘اب آتش فشاں نے زہر بھرا لاوا اُگلا۔ 

آپا صغراں نے کہا کہ امّی اور اختر آنٹی نے بھلا ایسی جرات کی ہی کیسے؟ اُنھوں نے کہا کہ فری اور پری عام لڑکیاں نہیں ہیں۔ ’’میری بیٹیاں نےاوہ، میری۔‘‘ انھوں نے سینہ ٹھونک کر بےحد ڈرامائی انداز میں کہا۔ پھر آتش فشاں پورے زور سے پھٹا اور انھوں نے چیخ چیخ کر کہا کہ وہ کسی معمولی فوجی ملازم سے اپنی بیٹیوں کی شادی کریں گی بھلا؟ اک عام سی ہم سائی کے بیٹے سے؟‘‘ ایہدے پُتر نال؟‘‘ اُنھوں نے اختر آنٹی کی طرف حقارت سے اشارہ کرکے کہا۔ ’’ایس اختر سلطانہ بیگم دے پتردے نال؟‘‘

وہ دانت بھنیچ کر اختر آنٹی کا پورا نام لے رہی تھیں اور اُس کے ساتھ ’’بیگم‘‘ بھی لگا رہی تھیں۔ اِس سے ان کا مقصد یہی تھا کہ طنز میں ڈوبی گہری حقارت اور سخت غصّے کا اظہار کیا جائے۔ اُس کے بعد اُنھوں نےکہا کہ میری بیٹیوں کے لیے تو عمران خان تک کارشتہ آ چُکا ہے، مگر مَیں نے اُسے بھی انکار کردیا تو پھر یہ اختر سلطانہ اور اس کا بیٹا کیا چیز ہیں؟ یہ صاف جھوٹ تھا، کیوں کہ ایک تو یہ کہ یہ صرف کپتان فراز ہی کی ضد تھی کہ مَیں اِن دونوں میں سے ایک سے شادی کروں گا، ورنہ ان لڑکیوں کی ابھی رشتے آنےکی عُمر کہاں تھی۔ کپتان فرازبھی شاید فوراً شادی نہ کرتا، مگر وہ ان میں سے ایک کو اپنے لیے ریزرو کروانے پر بہرحال مصر تھا۔

دوسرا یہ کہ عمران خان ایک مشہورو معروف کھلاڑی تھا، اُسے کوئی ضرورت نہیں تھی کہ وہ فری، پری کے لیے رشتہ بھجواتا اور یہ بھی کہ چوں کہ وہ بے حد مشہور تھا، تو اِس قسم کی باتیں کہ فلاں مشہور آدمی نے کہیں رشتہ بھیجا، چُھپی نہیں رہتیں بلکہ کئی بار تو اخبار میں بھی چھپ جاتی ہیں۔ مزید ثبوت اس بات کے جھوٹے ہونے کا یہ تھا کہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو آپا صغراں جیسی عورت ضرور اس بات کا چرچا کرتی کہ دیکھو دیکھو میرے گھر عمران خان کا رشتہ آیا اور مَیں نے انکار کردیا۔ خیر، جھوٹ تو یہ تھا ہی، مگر زیادہ اہم بات یہ تھی کہ اگر آپا صغراں عمران خان سے بھی اپنی بیٹیوں کا رشتہ نہیں کرنا چاہتی تھیں تو بھلا پھر اُنھیں کس قسم کا انسان قابل قبول ہوتا؟ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید