اسلام آباد کے علاقے سیکٹر جی سیون ٹو میں گیس لیکیج دھماکے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی گئی ہے جس کے مطابق دھماکا بظاہر گیس لیکج کے باعث ہوا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دھماکے میں 3 مکان مکمل طور پر زمین بوس ہوگئے اور 2 مکانوں کو نقصان پہنچا۔
ذرئع کے مطابق حادثے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، 2 زخمیوں کو سی ڈی اے اسپتال جبکہ 6 کو پمز منتقل کیا گیا، زیادہ تر لوگ ملبے تلے دبنے اور جھلسنے سے فوت ہوئے۔
ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے گیس پائپ لائن، گیس کنکشنز کے سیمپل اکٹھے کرلیے گئے، صبح 7 بجکر 19 منٹ پر واقعہ پیش آیا جبکہ 7:37 پر پولیس ریسکیو ٹیم پہنچ چکی تھی۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ گلی تنگ ہونے کی وجہ سے مشینری کو جائے وقوعہ پر پہنچنے میں دشواری کا سامنا رہا، متاثرین کو ابتدائی ریسکیو علاقہ مکینوں نے کیا بعد میں ریسکیو ٹیموں نے آپریشن مکمل کیا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ گیس کس جگہ جمع ہوئی اور اسے آگ لگنے کا سبب کیا تھا اس کا تعین کیا جارہا ہے، پولیس اور ریسکیو ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ کو سیل کردیا تاکہ ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔
دھماکے کی شدت اور نوعیت جاننے کے لیے ملبے سے نمونے اور کیمیائی اثرات جمع کیے گئے ہیں، مزید حادثات سے بچنے کے لیے علاقے کی گیس اور بجلی عارضی طور پر منقطع کردی گئی۔
ذرائع کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات ضلعی انتظامیہ، پولیس، فرانزک ٹیمیں اور گیس کمپنیاں مل کر کریں گی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کی گئی ہے۔
وزارت داخلہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی 5 رکنی انکوائری کمیٹی میں ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر، آئی بی، جی ایچ کیو اور ایمرجنسی سروسز کے نمائندے شامل ہیں۔
انکوائری کمیٹی کو 48 گھنٹوں میں رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔واقعے کی وجوہات اور محکموں کے ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق غفلت یا کوتاہی ثابت ہونے پر ذمہ داری کے تعین کی ہدایت کی گئی ہے، کمیٹی سے مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے سفارشات بھی طلب کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی سیون ٹو میں شادی والے گھر میں گیس سلینڈر کے دھماکے میں ایک ہی خاندان کے 6 جبکہ مجموعی طور پر 8 افراد جاں بحق ہوئے۔
حادثے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ نو بیاہتا جوڑے سمیت 6 افراد کی آخری رسومات گزشتہ روز ادا کی گئی تھیں۔
دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے سے 3 گھروں کی چھتیں گر گئیں جبکہ دو ملحقہ گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔