اپوزیشن جماعت جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، سیاست بدلتی رہتی ہے، نظریات بھی بدلتے رہتے ہیں۔
لاہور میں جے یو آئی کے ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کسی کے پیچھے لگ کر منفی بات ڈھونڈنا شریعت کے خلاف ہے، آپ کی ہر بات میں حقائق اور سچائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، ہم زبردستی کسی کے دل میں اپنا اعتماد نہیں ڈال سکتے، سیاست بدلتی رہتی ہے، نظریات بھی بدلتے رہتے ہیں۔
جے یو آئی سربراہ نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں کوئی منتخب حکومت نہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو بحث کے لیے پیش نہیں کیا جارہا۔
اُن کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم جبری اکثریت سے پاس ہوئی، اس ترمیم نے بتایا کہ ملک میں نظریات کی نہیں بلکہ اتھارٹی کی جنگ ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام میں لوگوں کے عیبوں پر پردہ ڈالا جاتا ہے لیکن سوشل میڈیا پر معاملہ اس کے بالکل ہی اُلٹ ہے، جہاں لوگوں کی غلط پروپیگنڈا کرکے تضحیک کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا کا مزاج، کام اور مختلف پہلو، اسلام سے متصادم ہیں، سوشل میڈیا پر لوگوں کی تضحیک کی جاتی ہے، یہ منفی انداز شریعت کے خلاف ہے۔
جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ہمارا معاشرہ جھوٹی خبر جان بوجھ کر پھیلاتا ہے تا کہ مخالف کے خلاف استعمال کی جائے، ہمارے ہاں جمہوریت نہیں، بلکہ اِس کی جگہ طاقت نے لے رکھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معیشت ڈوب رہی ہے کیونکہ جو حکمران بٹھائے گئے ہیں وہ ڈمی ہیں، سول سپر میسی کا صرف نام رہ گیا ہے، قانون اسلام آباد میں بنتے ہیں لیکن فیصلے راولپنڈی میں ہوتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیرستان میں ایک سال میں ہمارے 3 عالم دین قتل کردیے گئے، ہم سفاک قاتلوں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے دفاعی معاہدہ کیا تو ہم نے حمایت کی، گالیوں کی سیاست اب بدبو دار اور بدنام ہوچکی ہے۔