سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ایسا کیوں ہوا اور کن حالات میں ایسا کیا گیا۔
جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں پرویز اشرف نے کہا کہ آرڈیننس پر صدر کے دستخط اہم ہیں، اسے صدارتی آرڈیننس اسی لیے کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس نافذ ہو ہی نہیں سکتا، ایسا آرڈیننس غیر آئینی اورغیر قانونی ہوجاتا ہے۔
سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ مجھےنہیں معلوم یہ کیسے ہوا اور یہ غلطی کیوں ہوئی، میرا خیال ہے اس پر کل بات ہوگی، غلطی سے متعلق چیزیں واضح ہوجائیں گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ کسی بھی فورم پر اس آرڈیننس کی قبولیت صفر ہے، فوری طور پر اس عمل کی تصحیح کی جائے۔
راجا پرویز اشرف نے یہ بھی کہا کہ دیکھیں گے وزیرقانون نے کیا مؤقف اپنایا ہے، اگر وضاحت قابل قبول ہوئی تو ٹھیک ہے۔