• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

”لائی لگ“ ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔انہیں جب کوئی بتاتا ہے کہ امریکہ میں ڈالر کمانا بڑا آسان ہے تو یہ دن رات امریکہ جانے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں‘ چار دن بعد کوئی دوسرا بتاتا ہے کہ امریکہ میں تو بڑی سختی ہے البتہ ”ترکمانستان“ میں کانجی کے شربت کی بڑی مانگ ہے تو یہ ترکمانستان جانےکیلئے تڑپنے لگتے ہیں۔بالآخرچھ سات سال بعد یہ ملک سے باہر جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور تب ایک دن سب دوستوں کو ای میل کرتے ہیں کہ میں خیر خیریت سے مسقط پہنچ گیا ہوں۔ایسے لائی لگوں کو ہمیشہ کسی کے مشورے کی ضرورت رہتی ہے۔ انہیں کوئی بھی آمادہ کرسکتا ہے کہ پچیس ہزار کی نوکری میں کچھ نہیں رکھا‘ اصل چاندی تو ٹائروں کے بزنس میں ہے۔لائی لگ خواتین کی اکثریت دوسری خواتین کی باتیں سن سن کر اپنا گھر اجاڑ لیتی ہیں۔ اِنہیں جب کوئی عورت بتاتی ہے کہ میرے پاؤں میں بہت جلن رہتی ہے اسی لیے میرا شوہر سونے سے پہلے رات کو میرے پاؤں کے تلوؤں میں کدو کی مالش کرتاہے تو ان کی آنکھیں پھیل جاتی ہیں‘ یہ تصور کرلیتی ہیں کہ اچھا شوہر وہی ہوتا ہے جو بیوی کے تلوؤں کی اہمیت سمجھے۔ اس کے بعد اچانک انکے پاؤں میں بھی جلن ہونا شروع ہوجاتی ہے اور یہ تین کلو کدو خرید کر شوہر کے التفات کی منتظر رہتی ہیں‘ کام نہ ہونے کی صورت میں انہیں یقین ہوجاتاہے کہ اِن سے زیادہ بدنصیب عورت روئے زمین پر کوئی نہیں۔

٭ ٭ ٭

اکثراوقات نہ کمزور کمزور ہوتا ہے اور نہ طاقتور طاقتور۔ میں نے کئی ایسے طاقتور دیکھے ہیں جو مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کچھ اس انداز سے کمزور کی طرف بڑھتے ہیں گویا اس کا گلا دبا دیں گے لیکن قریب آکر اُن کے منہ سے صرف اتنا ہی نکلتا ہے”میں تینوں دوبارہ ایتھے نہ ویکھاں“۔ کئی طاقتوروں کوصرف اپنی آواز کے ذریعے طاقت کا اظہار آتا ہے یہ کمزورکے قریب جا کر پوری قوت سے چلاتے ہیں اور اگر جواب میں کمزور ڈبل آواز میں چلا اُٹھے تو یہ منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دائیں بائیں ہوجاتے ہیں۔اصل میں طاقتور سے زیادہ کمزور کوئی نہیں ہوتا لیکن یہ بات کمزور کو بہت دیر سے سمجھ آتی ہے۔ ہمارے ہاں کمزور لوگ یہ سوچ کر خاموش ہوجاتے ہیں کہ اگر انہوں نے طاقتور سے ٹکر لی تو وہ اپنے غنڈوں کے ذریعے انہیں اٹھوا لے گا‘ فائرنگ کر دے گا‘ بچے اغواء کر لے گا۔ حالانکہ اکثر ایسا نہیں ہوتا کیونکہ طاقتور کبھی کھل کر سامنے نہیں آتا‘ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ طاقت استعمال کرنے کی بجائے صرف دکھائی جائے ورنہ کئی دفعہ طاقتور اپنی ساری طاقت دکھا کرکمزور کو ایک دم طاقتور کر دیتاہے۔کچھ زبان کے طاقتور تھوڑی سی ہمت کا مظاہرہ بھی کر لیتے ہیں اور اسی ہمت کی بناء پر وقتی طور پر مجمعے میں اپنی دھاک بٹھا کر طاقتور کو یہ کہتے ہوئے نکل جاتے ہیں کہ اگر ماں کا دودھ پیا ہے تو یہیں کھڑے رہنا، اُس کے دس گھنٹے بعد یہ پوری طرح تحقیق کر کے دوبارہ وہاں آتے ہیں اور اردگرد کے دوکانداروں سے پوچھتے پھرتے ہیں..... کہاں گیا وہ بزدل....؟

٭ ٭ ٭

خدا پتھرمیں کیڑے کوبھی رزق دیتاہے۔لیکن یاد رہے کہ نہ ہم کیڑے ہیں نہ پتھر میں قید ہیں‘ جو لوگ رزق کی خاطر کیڑا بننا قبول کرتے ہیں اُنہیں صرف کھانا ہی ملتاہے۔معجزوں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے لوگ کسی دن خود معجزاتی طور پر وفات پا جاتے ہیں۔دنیا کے معمولی سے معمولی کام میں بھی مہارت حاصل کر لی جائے تو پھر وہ کام آپ کا غلام اور آپ لوگوں کی مجبوری بن جاتے ہیں۔ہمیں آج بھی پلمبر یا الیکٹریشن کی ضرورت پڑ جائے تو اُس کی دکان پر چھ چھ چکر لگانے پڑتے ہیں’ آپ تجربہ کر کے دیکھ لیجئے‘ کسی پلمبر یا الیکٹریشن کو بلانے جائیں تو 90 فی صد یہی چانسز ہوں گے کہ وہ کسی اور کے گھر کام کرنے گیا ہوگا۔یہ سپیشلائزیشن کا دور ہے‘ جنرل فزیشن سے زیادہ سپیشلسٹ کی مانگ ہے جو جسم کے کسی ایک حصے کے علاج کا ماہر ہو۔ہمارے ہاں لوگ ہر کام میں تھوڑا تھوڑا پنگا لیتے ہوئے یہ طے ہی نہیں کر پاتے کہ اُنہیں سپیشلائز یشن کس کام میں کرنی ہے۔ ہرفن مولا بننے کے چکر میں وہ ساری زندگی ایک کیل پر جھولتے رہتے ہیں۔انگلش میں اس کیلئے ایک ٹرم استعمال ہوتی ہے Middle age crises یعنی عمر کے نصف حصے میں جاکر یہ احساس ہونا کہ کاش ہم نے فلاں کام کرلیا ہوتا‘ کاش ہم نے فلاں غلطی نہ کی ہوتی......!!!

٭ ٭ ٭

ہم میں سے بہت سے لوگ جس شعبے کے ایکسپرٹ ہیں اُسی کے برخلاف کسی اور شعبے میں اپنی اہمیت منوانے میں لگے ہوئے ہیں۔جو بہت اچھا انجینئر ہے وہ خود کو گلوکار منوانے پر تلا ہوا ہے‘جسکے پاس آئی ٹی کا علم ہے وہ شیف کہلوانا چاہتاہے۔ ابھی کل میری ایک نجی بینک کےمنیجر سے ملاقات ہوئی جنہیں اُن کی بینکاری کی صلاحیتوں پر کئی ایوارڈز بھی مل چکے ہیں لیکن موصوف ٹی وی اینکر بننا چاہتے ہیں اوربضد ہیں کہ بہت اچھا ٹاک شو کر سکتے ہیں۔شوق اور ضد میں بڑا فرق ہوتاہے‘ شوق یہ ہے کہ آپ اکاؤنٹنٹ ہیں لیکن میوزک سے بھی لگاؤ ہے لہٰذا شام کو دوستوں کی محفل میں ہارمونیئم یا گٹار کے ساتھ کچھ گنگنا لیتے ہیں۔

ضد یہ ہے کہ آپ عاطف اسلم کے مقابلے میں کوئی کنسرٹ کرنا چاہتے ہیں۔اپنے اردگرد نظر ڈالئے‘ آپ کو ہر دوسرا بندہ اسی ضد میں مبتلا نظر آئے گا۔ اِن کی ضد کو پروان چڑھانے میں دوستوں یاروں کا بہت ہاتھ ہوتاہے جو انہیں باور کراتے رہتے ہیں کہ ”ڈاکٹر صاحب! آپ تو بہت اچھی ایکٹنگ کرلیتے ہیں“۔ضد میں مبتلا ہم وہ لوگ ہیں کہ انجینئرہوتے ہوئے بھی اگر کوئی ہمیں انجینئرنہ مانے تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا‘ لیکن ہم کبھی برداشت نہیں کرتے کہ کوئی ہمیں ڈانسرنہ تسلیم کرے۔اجازت چاہتا ہوں‘ میں نے ذرا مارشل آرٹس کی کلاس کو لیکچر دینے جانا ہے!!!

تازہ ترین