• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک عزیز میں ان دنوں نئی اور پرانی نسل میں مجادلہ جاری ہے۔ تاریخ کے وسیع تر پس منظر میں یہ بحث کسی اصولی یا فکری بنیاد سے محروم ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ رواں صدی میں پیدا ہونے والے بچوں نے تاریخ کا احتیاط سے سنسر شدہ صفحہ پڑھا ہے۔ دوسری طرف پرانی نسل کے گلے میں ناکامی، رائیگانی اور غلط ترجیحات کی فہرست آویزاں ہے۔ ساٹھ برس قبل جب ہماری نسل پیدا ہوئی تو دنیا بھر میں اوسط متوقع عمر قریب چون برس تھی۔ آج دنیا میں اوسط متوقع عمر پچھتر برس ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عالمی منظر ہر ربع صدی کے بعد کروٹ لیتا ہے۔ کبھی اس پخت و پز سے امید برآمد ہوتی ہے تو کبھی خوابوں کی شکست۔ نیازمند کی نسل نے آنکھ کھولی تو اس وقت کی نوجوان نسل دوسری عالمی جنگ کے خوابوں کی تعبیر مانگ رہی تھی۔ دنیا بھر میں سماجی، سیاسی اور ثقافتی تبدیلیاں جنم لے رہی تھیں۔ برکلے سے برلن اور پیرس سے ویت نام تک مقتدر قوتوں سے جواب دہی ہو رہی تھی۔ عورتوں کی آزادی کی تحریک نے نئی کھڑکیاں کھول دی تھیں۔ انفرادی اقدار بدل رہی تھیں۔ سرد جنگ کی ذیلی لڑائیوں کے خلاف آتش فشاں پھوٹ بہا تھا۔ شہری آزادیوں کا غلغلہ تھا، نسلی امتیاز کے خلاف غم و غصہ عروج پر تھا۔ ایک طرف ڈیگال کا سنگی مجسمہ زمیں بوس ہو رہا تھا تو دوسری طرف جمال ناصر کی عرب قوم پرستی منہدم ہو رہی تھی۔ آئرلینڈ میں تاریخی تضاد تشدد میں ڈھل رہا تھا۔ جنوبی ایشیا میں سرحدیں بدل رہی تھیں اور لاطینی امریکا میں بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت جاری تھی۔ اس اٹھا پٹخ کا ایک انمٹ منظر نومبر 1972ء میں تب سامنے آیا جب اطالوی صحافی اوریانا فلاشی نے بزعم خود عالمی مدبر ہنری کسنجر کو ایک انٹرویو میں رگید کے رکھ دیا۔ تب تاریخ میں پہلی بار کسی بڑی طاقت نے ایک کھرب ڈالر کا معاشی حجم حاصل کیا تھا۔ ماضی کے انقلابات کے نمونے پر یہ عہد محض چند قدم ہی آگے بڑھ سکا اور اقتدار کے پانیوں نے اپنی سطح ہموار کر لی۔ ہم نے خوابوں کی اس تمثیل موجوں کا زور ختم ہوتے دیکھا۔ ہماری نسل کے لیے خواب کا یہ منظر 80 کی دہائی کے آخر میں کھلا جب مشرقی یورپ پر کھنچا آہنی پردہ چاک ہو گیا۔ پولینڈ سے اٹھنے والی آواز ہنگری اور آسٹریا کی سرحد تک پہنچی۔ دیوار برلن زمیں بوس ہو گئی۔ چیکوسلواکیہ میں یک جماعتی حکومت منہدم ہو گئی اور چارٹر 1977ء لکھنے والاڈرامہ نگار ویکلاف ہیول قصر صدارت تک جا پہنچا۔ رومانیہ میں چاؤشسکو اور اس کی بیوی مارے گئے۔ عملی طور پر اشتراکی نظام ختم ہو گیا۔ سوویت یونین بکھر گیا اور سرد جنگ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔ چین کے تیننامن چوک اور نیپال سے تبدیلیوں کا یہ طوفان لاطینی امریکا تک پہنچا جہاں کئی ممالک نے آمریت کا جوا اتار پھینکا۔ خواب کا یہ موسم سرمائے کی عالمگیر یلغار، آمریت کے بدلتے ہوئے داؤ پیچ اور کساد بازاری کی نئی لہر پر ختم ہوا۔ نئے ہزاریے میں سرد جنگ کی غلط کاشت کاری پر کانٹوں کا برگ و بار آیا۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کی آوازیں دہشت گردی کے عفریت میں کجلا کر رہ گئیں۔ افغانستان میں تبدیلی کو مارچ 2003ء میں عراق پر امریکی حملے نے پس منظر میں دھکیل دیا۔ روس میں جمہوری تجربہ شخصی حکومت میں بدل گیا۔ ڈلس برادران کا سیکورٹی بیانیہ بش جونیئر اور ڈونلڈ ٹرمپ سمیت یورپ میں دائیں بازو کا نیا ابھار بن کر ابھرا۔ بھارت میں سیکولرازم پر فرقہ وارانہ سیاست نے غلبہ پا لیا۔ چین کی اقتصادی ترقی نے سرمایہ دار معیشت اور جمہوریت میں تعلق کا پردہ چاک کر دیا۔ یہ گزشتہ صدی کے خوابوں کی شکست اور نفرت کی سیاست کے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ عراق، شام، لیبیا، یمن اور تیونس میں عرب بہار لہو کی وحشت میں نہلا گئی۔ امریکا اور چین کی دوستی کھلے معاشی مقابلے کی صورت اختیار کر گئی۔ مقبولیت پسند سیاست نے جمہوری امنگوں کو ڈراؤنے خواب میں بدل دیا۔ دسمبر 1989ء میں پاناما کے ڈکٹیٹر نوریگا کی گرفتاری کے بعد پہلی بار امریکا نے وینزویلا میں کارروائی کر کے وہاں کے صدر کو زبردستی اغوا کیا ہے۔ یہ محض ایک طاقتور ملک کی من مانی کارروائی اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی نہیں بلکہ ایک نئے عالمی نظام کے ابتدائی خدوخال ہیں۔ اس منطق کے مطابق طاقتور ممالک کسی بھی کمزور ملک کے خلاف جارحیت کر سکتے ہیں۔ دنیا میں قدرتی تیل کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے وینزویلا پر حملے کو دراصل مشرق وسطیٰ کے تناظر میں دیکھنا ہو گا جہاں اکتوبر 2023ء میں حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے ایسے شعلے کو ہوا دی جس میں یمن، لبنان، شام اورغزہ میں ایران کی حامی قوتیں پسپا ہو گئیں۔ جون 2025ء میں ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں نے ایران کے دفاعی اور سیاسی نظام میں شگاف ڈال دیے۔ امریکی صدر اپنے ملک میں ریاستی قوتوں کے نہتے شہریوں پر تشدد سے بے نیاز ہیں لیکن ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی حمایت کر رہے ہیں۔ فروری 1979ء سے ایران میں قائم مذہبی آمریت کو بارہا شہریوں کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایرانی حکومت کے تین بنیادی ہتھیار ہیں۔ مذہب پسند طبقے کی حمایت، آبنائے ہرمز پر آبی اجارہ اور عوام کے خلاف طاقت کا بلا جھجک استعمال۔ ایران میں موجودہ احتجاج اسی بازار بزرگ سے شروع ہوا ہے جہاں سے 1953ء اور 1979ء کی تحریکیں شروع ہوئی تھیں۔ ایران کی حکومت اس وقت بوجوہ دباؤ میں ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں ریال 42 ہزار کی شرح مبادلہ کو پہنچ چکا ہے۔ افراط زر 57 فیصد ہے اور 86 سالہ علی خامنہ ای کی ممکنہ جانشینی کا سوال موجود ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اس ممکنہ تصادم کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں۔ نہتے ایرانی شہریوں کے لاشے گر رہے ہیں اور عالمی ایوانوں میں اختیار اور وسائل کی اسی طرح بندربانٹ ہو رہی ہے جیسے 1945ء میں تہران، یالٹا اور پوٹسڈم کانفرنسوں میں ہوئی تھی۔ ہمارے ملک میں نئے خوابوں کے ساتھ ابھرنے والی نئی نسل کے خواب قابل احترام ہیں لیکن انہیں تاریخ کے صفحوں پر گہری آنکھ رکھنا ہو گی۔ ہماری نسل کا سفر تو ہوائے شوق میں کٹ گیا۔ ’اپنی بلا سے باد صبا اب کبھی چلے‘۔

تازہ ترین