نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ تین سال پہلے جو ملک دنیا میں سفارتی سطح پر تنہا تھا اب دیکھیں کہاں کھڑا ہے۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے دو تین ہفتوں میں تین وسطی ایشیائی ممالک کے دورے ہوں گے، سمجھ نہیں آتا اب کس ملک جائیں، کس کی میزبانی کریں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ معیشت کی بنیادوں کو مضبوط بنانا ضروری ہے، معاشی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ معاشی بہتری کے لیے وہ طریقہ کار بننا چاہیے جو سیاسی تبدیلیوں سے متاثر نہ ہو، معاشی بحالی کے لیے ہم نے مشکل فیصلے کیے، سیاسی آسانیاں پس پشت ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ اب پالیسیوں پر عملدرآمد ہو رہا ہے، پی آئی اے کی نجکاری دو سال کی طویل محنت کے بعد ممکن ہوئی، نجکاری سے ناصرف ایئرلائن بہتر ہوگی بلکہ معیشت پر اس کا بوجھ بھی کم ہو گیا۔
وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ سرکلر ڈیٹ کی کمی کے لیے انرجی سیکٹر میں بہتری لا رہے ہیں، میں اپنے کاروباری دوستوں سے کہتا ہوں مایوس نہ ہوں، مئی 2023 میں کئی کاروباری دوستوں نے بلا کر کہا کہ کاروبار بند کر رہے ہیں، دوستوں نے 2023 میں کہا کہ 22 فیصد پالیسی ریٹ کے ساتھ کیا کاروبار کریں؟
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کہا کہ پاکستان کی استعداد کار بہت ہے، کون سوچ سکتا تھا کہ پاکستان کی گروتھ 6 اعشاریہ 3 فیصد پر آجائے گی، ابھی گوگل کر کے دیکھیں 2017 میں پاکستانی معیشت پر کیا کہا جا رہا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 2017 میں ان 20 ملکوں میں تھا جو دنیا میں بڑی معاشی طاقتیں تھیں، 2022 میں پاکستان کی معیشت بدترین حالت میں تھی، مجھے ریسکیو کے لیے بلایا گیا، ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا ہے، اس حکومت کا معاشی روڈ میپ بہت واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سی پیک 2.0 پر کام کر رہا ہے، پاکستان ایران کے ساتھ معاشی معاہدوں پر بھی کام کر رہا ہے، پاکستان چائنا اسٹریٹجک پارٹنرشپ دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچائے گی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ 19 فیصد ٹیرف ڈیل کر رہا ہے، حال ہی میں یورپی یونین کے وفد نے دورہ کیا، یورپی یونین وفد جی ایس پی پلس کی توثیق کے لیے غور کرے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ ڈیفنس معاہدہ کیا ہے، پاکستان کے ہر شہری کو سعودی عرب جان سے زیادہ عزیز ہے، پاکستان کی خوش قسمتی ہے دونوں مقدس مقامات کی حفاظت کی ذمے داری ملی۔
نائب وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کا بنگلادیش کے ساتھ تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے، چین پاکستان اور بنگلادیش کا ٹرائیلیٹرل سیٹ اپ ہے، افغانستان کے ساتھ بھی ہے۔