انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی، انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سماعت کی۔
علیمہ خان اپنے وکیل فیصل ملک کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں۔ اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ ٹیم کے ہمراہ پیش ہوئے۔
علیمہ خان کے وکیل نے استغاثہ کے 6 گواہان پر جرح مکمل کی۔ گواہان میں اے ایس آئی ظہیر، کانسٹیبل بابر اور اے ایس آئی کاظم رضا، اسسٹنٹ آئی ٹی پولیس طارق، سب انسپکٹر اقبال اور ڈی ایف سی مرسلین شامل تھے۔
علیمہ خان کے خلاف درج مقدمے میں مجموعی طور پر 7 گواہان پر جرح مکمل کرلی گئی۔ سماعت کے دوران علیمہ خان کا ویڈیو بیان اسکرین پر چلایا گیا۔
جرح کے دوران وکیل صفائی اور پراسیکیوشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ وکیل صفائی گواہان سے غیر ضروری سوال پوچھ کر عدالت کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔
وکیل فیصل ملک نے کہا کہ جرح کرنا وکیل صفائی کا حق ہے، پراسیکیوشن مداخلت نہیں کرسکتی۔
اس موقع پر عدالت نے کہا آپ جرح نہیں کرنا چاہتے تو ہم آرڈر میں یہی لکھ دیتے ہیں۔ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ وکیل صفائی گواہان سے غیر متعلقہ سوال نہ پوچھیں۔
علیمہ خان کے خلاف درج مقدمے کی سماعت 3 گھنٹے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی۔ عدالت نے علیمہ خان کے خلاف درج مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔ عدالت نے استغاثہ کے مزید گواہان کو کل طلب کرلیا۔