• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے پرتشدد احتجاج کو محض اندرونی عوامی ردِعمل قرار دینا ایک سادہ بیانیہ ہوگا۔ ایران برسوں سے امریکی و اسرائیلی دباؤ، پابندیوں اور کھلے معاندانہ عزائم کی زد میں ہے۔ ایرانی حکام کی جانب سے یہ دعوے سامنے آ چکے ہیں کہ ان مظاہروں کو بیرونی قوتوں کی پشت پناہی حاصل رہی، موساد کے ایجنٹس گرفتار کیے گئے اور احتجاجیوں کی طرف سے تشدد جلاوگھیراو کیا گیا اور اسلحہ کا استعمال بھی ہوا۔ ان تمام عوامل کو نظرانداز کر کے اگر ان احتجاجوں کو صرف ”عوامی آزادی کی تحریک“ قرار دیا جائے تو یہ ادھورا بلکہ گمراہ کن تجزیہ ہوگا۔ امریکا کی طرف سے احتجاجیوں کی کھلی حمایت اور ایران پر ممکنہ حملے کے اشارے کسی بھی شک و شبہ کو دور کرنے کیلئے کافی ہونے چاہئیں۔ لیکن ایسے ماحول میں نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کا ایران سے متعلق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کیا گیا بیان خاص توجہ کا مرکز بنا۔ ملالہ نے لکھا:”ایران میں ہونیوالے احتجاجوں کو لڑکیوں اور خواتین کی خودمختاری پر عائد طویل عرصے سے جاری ریاستی پابندیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ پابندیاں عوامی زندگی کے تمام پہلوؤں میں موجود ہیں، جن میں تعلیم بھی شامل ہے۔ ایرانی لڑکیاں، دنیا بھر کی لڑکیوں کی طرح، باعزت زندگی کا مطالبہ کرتی ہیں۔ ایران کے عوام برسوں سے اس جبر کے خلاف خبردار کرتے آئے ہیں، وہ بھی شدید ذاتی خطرات مول لے کر، مگر دہائیوں سے ان کی آوازیں دبائی جاتی رہی ہیں۔ یہ پابندیاں صنفی کنٹرول کے ایک وسیع نظام کا حصہ ہیں، جو علیحدگی، نگرانی اور سزا کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے، ایسا نظام جو آزادی، انتخاب اور تحفظ کو محض تعلیمی اداروں تک محدود نہیں بلکہ ہر سطح پر سلب کرتا ہے۔ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے اور انہیں اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔ یہ مستقبل ایرانی عوام کی مرضی سے تشکیل پانا چاہیے، جس میں ایرانی خواتین اور لڑکیوں کی قیادت شامل ہو، نہ کہ بیرونی طاقتوں یا جابرانہ نظاموں کے ذریعے مسلط کیا جائے۔ میں ایران کے عوام، بالخصوص ایرانی لڑکیوں اور خواتین کی آزادی اور وقار کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی ہوں۔ وہ اپنے مستقبل کا تعین خود کرنے کا پورا حق رکھتی ہیں۔“

پاکستان میں ملالہ یوسفزئی ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ ان پر ہونے والا قاتلانہ حملہ بلاشبہ ایک سنگین جرم تھا اور اس وقت وہ ایک مظلوم بچی تھیں، جسکی مذمت ہر سطح پر ہونی چاہیے تھی اور ہوئی بھی۔ البتہ ہمارے ہاں ملالہ کو پسند اور ناپسند کرنے والے دونوں موجود ہیں۔ آج جو لوگ ملالہ کو ”پاکستان کا فخر“ اور ”ماتھے کا جھومر“ سمجھتے تھے وہ بھی حیران اور پریشان ہیں کہ ملالہ نے یہ کیا کہہ دیا۔ ملالہ کے یہ’’پرستار‘‘کیا واقعی یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ ایسے مواقع پر وہی بات کریں گی جو آپ یا میں کرتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ وہ ایک ایسا مؤقف اپنائیں جو اُن کے نوبل پرائز جیسے عالمی اعزاز کو خطرے میں ڈال دے جسکے حصول کیلئے ملالہ کے والد نے خاص طور پر بڑا ”اہم کردار“ ادا کیا۔ ملالہ کو ”پاکستان کا فخر“ سمجھنے والے اُس کی مجبوری سمجھیں۔ ظالم مظلوم میرے اور آپ کیلئے مسئلہ ہے۔ ملالہ کو اُس عالمی بیانیہ کا ساتھ دینا ہے جو ایران میں ہونے والے ہر احتجاج کو ”آزادی کی تحریک“ اور ہر ریاستی ردِعمل کو’’جبر‘‘قرار دیتا ہے، جبکہ ایرانی حکومت کے حق میں نکلنے والے عوام کو بڑے بڑے مظاہرے جن میں خواتین بھی شامل ہیں اُن کو مکمل خاموشی کے ساتھ نظرانداز کرنا ہے اور یہی ملالہ نے بھی کیا۔ پاکستان کے کچھ بڑے صحافی جو ملالہ کو’’پاکستان کا فخر‘‘سمجھتے ہیں اُنہوں نے بھی اپنی حیرانی کا اظہار کیا۔ میرا سب کو مشورہ ہے کہ اس وقت اصل توجہ ایران کے خلاف ممکنہ بیرونی مداخلت، رجیم چینج کے خطرے اور خطے کو ایک نئی تباہی کی طرف دھکیلنے کی کوششوں پر رکھیں اور دیکھیں کہ کون کون اس کھیل میں ایکسپوز ہوتا ہے۔ویسے ملالہ نے تکلف کے طور پر اپنے بیان میں ایک جملہ ضرور شامل کیاہے کہ ایران کا مستقبل’’بیرونی طاقتوں کے ذریعے مسلط نہ کیا جائے‘‘، مگر مجموعی تاثر وہی بنتا ہے جو واشنگٹن اور تل ابیب کے بیانیے سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر احتجاج کرنے والے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں تو حکومت کے حق میں نکلنے والے لاکھوں افراد کون ہیں؟ کیا وہ عوام نہیں؟ کیا ان میں شامل خواتین اور لڑکیاں کسی شمار میں نہیں آتیں؟ اور اگر آتی ہیں تو پھر عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں کو یہ تصویر کیوں نظر نہیں آتی؟

تازہ ترین