• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی ہمارے پڑوس ایران سے تشویشناک خبروں کا سلسلہ ایک دم سے بڑھ گیا ہے، میڈیا رپورٹس کےمطابق بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں میں شدت کے باعث ملک بھر میں انٹرنیٹ، موبائل فون، لینڈ لائن اور کمیونیکیشن کا نظام معطل ہے،ایران کی تمام مقامی و سرکاری ویب سائٹس تک رسائی تادم تحریربند ہے، ایسی صورتحال میں جدید ٹیکنالوجی میں نئی جہتیں متعارف کرانے والے امریکی بزنس ٹائیکون ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کا پیش کردہ اسٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ایک اہم متبادل کے طور پر نہایت اہمیت اختیار کرگیا ہے،ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اسٹار لنک روایتی فائبر اور موبائل نیٹ ورکس کے بجائے زمین کے گرد نچلے گردشی مدار میں موجودمختلف مصنوعی سیاروں کے ذریعےانٹرنیٹ صارفین کو براہ راست وائرلیس انٹرنیٹ فراہم کرتا ہے، جسکی وجہ سےاِسےکنٹرول کرنا بہت مشکل اور پیچیدہ امر ہے، مقامی انٹرنیٹ بندش کے بعد ایران کا عالمی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ رہ گیاہےجسے حکومت مخالفین عناصراپنی احتجاجی تحریک منظم کرنے کیلئے بھرپور انداز میں استعمال کررہے ہیں جبکہ بیرون ملک سے آپریٹ ہونے والا پراپیگنڈا بھی زوروں پرہے،اسٹار لنک کی جانب سے چوبیس گھنٹے مفت انٹرنیٹ کی پیشکش نے احتجاجی مظاہروں میں نئی جان ڈال دی ، تاہم گزشتہ دنوں ایران حکومت نے اسٹارلنک انٹرنیٹ کی ایران میں رسائی میں رکاوٹیں ڈال کر دنیا بھر کو حیران کردیا ہے۔مغربی میڈیاکی قیاس آرائیوں کے مطابق ایران نے بڑے پیمانے پر سگنل جیمرز استعمال کرکے اسٹارلنک کے ڈیٹا ٹرانسفر اور جی پی ایس نظام میں خلل ڈالا جبکہ فضائی معائنہ کاری کے دوران مکانوں کی چھتوں پر نصب ایسے تمام سیٹلائٹ انٹرنیٹ ڈش انٹینا ضبط کیے جارہے ہیں جو ریاست مخالف سرگرمیوں کیلئے استعمال ہورہےہیں، عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ انٹرنیٹ کی تاریخ میں پہلا حیران کُن واقعہ ہے جب کسی ریاست نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ نشریات کو کنٹرول کرنے میںاس طرح نمایاں کامیابی حاصل کی ہو، مبصرین کے مطابق اسٹارلنک کو مفلوج کرنے کی یہ تکنیکی کامیابی صرف احتجاج کرنیوالوں کا رابطہ توڑنے تک محدود نہیں بلکہ ایران کی جانب سے مکمل کنٹرولڈ ڈیجیٹل ماحول قائم کرنے میں بھی اہم پیش رفت ہے۔ ہمارے پڑوس میں سرحدپار انٹرنیٹ کے محاذ پر زوروشور سے جاری چپقلش سے ثابت ہوتا ہے کہ دورِجدید میں آرٹیفشل انٹلجنس ٹیکنالوجی ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، سائبر سیکیورٹی اور انٹرنیٹ کمیونیکیشن پر کنٹرول کی صلاحیت اب دفاعی نظام کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔اگر ہم ماضی میں جھانکیں توایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپنے زمانے کی ہر بڑی جنگ میں ٹیکنالوجی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے، دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ نے ریڈار سسٹم کے ذریعے جرمن فضائی حملوں کو ناکام بنایااورنازی جرمنی کے خفیہ کوڈ توڑ کر اتحادی افواج نے جنگی حکمتِ عملی میں برتری حاصل کی،سرد جنگ کے دوران امریکہ اور سوویت یونین نے براہِ راست جنگ سے گریز کیامگر ایٹمی ٹیکنالوجی، میزائل سسٹمز اور خلائی سیٹلائٹس کے ذریعے ایک دوسرے پرنفسیاتی برتری حاصل کرنے کی کوشش کی، نوے کی دہائی کی خلیجی جنگ کو پہلی ہائی ٹیک وار سمجھا جاتا ہے، جس میں جی پی ایس گائیڈڈ میزائل، سیٹلائٹ کمیونیکیشن اور لائیو انٹیلی جنس کے ذریعے چند دنوں میںبڑی کامیابی حاصل کی گئی، اسی زمانے میں عسکری محاذ سے کیبل نیوز نیٹ ورک (سی این این)کی براہ راست نشریات کو بھی عالمی شہرت ملی ۔ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں ایک دوسرے کی ویب سائٹس ہیک کرنے کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بننے میں کامیاب ہوئیں، حالیہ یوکرین جنگ میں ڈرون، ڈیجیٹل وارفیئر اورسائبر حملوں نے اس وقت جنگی محاذوں کا پانسہ پلٹ دیا جب سستے ڈرون کی مدد سے مہنگے ترین ٹینک تباہی کا شکار ہوئےجبکہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی بدولت عسکری روابط قائم رہے۔تاہم ایران میں حالیہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ، مفت سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہمی کی غیرملکی پیشکش اور حکومت کی جانب سے سیٹلائٹ انٹرنیٹ جام کرنے کی کوششوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ انفارمیشن ایک خطرناک ہتھیار بن چکی ہے، آج اکیسویں صدی میں ریاست کو صرف جغرافیائی سرحدوں کی ہی حفاظت نہیں کرنی پڑ رہی بلکہ نظریاتی اساس اور ڈیجیٹل حدود کو محفوظ کرنا سب جدید دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ بن چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین متفق ہیں کہ مستقبل کی ممکنہ تیسری عالمی جنگ روایتی جنگی خطوط کے بجائے ٹیکنالوجی، سائبر، اسپیس، اور ڈیجیٹل کنٹرول کے گرد گھوم سکتی ہے، تیسری عالمی جنگ میں پہلا حملہ کسی میزائل سےشہرپر نہیں بلکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سےبجلی کے نظام پر،کمیونیکشن نیٹ ورکس پر،ایئرپورٹس ، بینکنگ نظام اور حکومتی ڈیٹا سینٹرز پرہو سکتا ہے، ایران کی جانب سے اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو مفلوج کرنا نئی ڈیجیٹل جنگ کی ہلکی سی ایک جھلک ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں روائتی دفاعی ہتھیاروں کے ساتھ ٹیکنالوجی میںبھی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔پاکستان کی بات کی جائے تو ہمارا پیارا وطن ایک حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے، جہاں مشرقی، مغربی اور شمالی سرحدوں پر مختلف نوعیت کے سیکیورٹی چیلنجز موجود ہیں۔ بھارت کے ساتھ روایتی کشیدگی، افغانستان میں عدم استحکام اوراب ایران کے بدلتے اندرونی حالات پاکستان کیلئے مختلف سیکیورٹی کے مسائل پیدا کررہے ہیں، پاکستان ایک عرصے سےایران سرحد سے ملحقہ صوبے کے حوالے سے انفارمیشن وارفیئر کا سامنا کررہا ہے اور اس وقت فیک نیوز کی صورت میں ریاست مخالف پراپیگنڈا انٹرنیٹ کی مدد سےکیا جارہاہے، اگرہماری سرحدوں کے پار خطے میںایک نئی ٹیکنالوجی انفارمیشن وار شدت پکڑ جاتی ہے تو پاکستان بھی پڑوسی ہونےکے ناطےسائبر حملوں،سیٹلائٹ جیمنگ ،مواصلاتی نظام میں خلل اورڈس انفارمیشن مہمات جیسے خطرات سے متاثر ہوسکتا ہے۔حالات کا تقاضا ہے کہ مضبوط سائبر کمانڈ قائم کی جائے، سیٹلائٹ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو محفوظ بنایا جائے،نوجوانوں کو سائبر اور اے آئی ٹیکنالوجی میں ماہر بنایا جائے جبکہ میڈیا اور عوام کو ڈیجیٹل وار کے خطرات سے آگاہ رکھا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ اکیسویں صدی میں جنگ کو صرف بندوق کی نظر سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے زاویے سے بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ مستقبل کی تیسری عالمی جنگ شایدچندلمحوں پر محیط ہوگی مگر اسکے اثرات دنیا پر انتہائی گہرے اور دور رس ہوں گے۔

تازہ ترین