اُڑان پاکستان کا ہدف سرخ فیتہ شاہی اور ریگولیٹری الجھنوں کو مزید کم کر کے ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جو حقیقی معنوں میں سرمایہ کاری کے حق میں ہو۔ محض استحکام، پاکستان کو آئی ایم ایف کے انحصار سے آزاد نہیں کرا سکتا۔ مستقل نجات کیلئے برآمدات پر مبنی ترقی ضروری ہے۔ پاکستان کے معاشی عروج و زوال کے چکر کی جڑ ایک عدم توازن میں ہے۔ ہم درآمدات کے ذریعے ڈالر خرچ کرتے ہیں لیکن برآمدات سے وہی ڈالرز کما نہیں پاتے۔اُڑان پاکستان کے فریم ورک نے برآمدات کو قومی تبدیلی کیلئے مرکزی حیثیت دی ہے اور ایک واضح ہدف مقرر کیا ہے: پاکستان کو 2035ء تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ اس کیلئے درآمد پر مبنی ترقی کی پرانی سوچ سے نکل کر ہمیں عالمی مسابقت کے میدان میں اترنا اور عالمی منڈیوں میں میڈ ان پاکستان کو معیار کا برانڈ بنانا ہے۔یہ حکمتِ عملی تین باہم مربوط محاذوں پر مبنی ہے۔ پہلا، بنیادی پیداواری شعبوں کو بدلنا۔ پاکستان کو کم قیمت کی اسمبلنگ سے ہٹ کر زیادہ قدر والی مینوفیکچرنگ کی طرف بڑھنا ہوگا، اور خام زرعی و معدنی مصنوعات کی بجائے پروسیسڈ، برانڈڈ اور معیاری مصنوعات برآمد کرنا ہونگی۔ دوسرا، عالمی منڈیوں کیلئے انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری ہے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی ایک بڑا اسٹرٹیجک اثاثہ ہے بشرطیکہ اسے مناسب ہنر سکھائے جائیں۔ اس میں آئی ٹی اور ڈیجیٹل برآمدات میں اضافہ، کم ہنر مند مزدوروں کی بجائے تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کی برآمد، اور فلم، ڈیزائن، گیمنگ اور ڈیجیٹل میڈیا جیسی تخلیقی صنعتوں کو اُبھارنا شامل ہے۔ تیسرا، نظرانداز شدہ اثاثوں کو متحرک کرنا ہے۔ پاکستان کی طویل ساحلی پٹی ماہی گیری، آبی زراعت، سمندری سروسز اور لاجسٹکس میں بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح جدید خدمات کا شعبہ بھی زیادہ برآمدی آمدنی، بہتر روزگار اور کم زرمبادلہ کی ضرورت کیساتھ تیزی سے ترقی کر سکتا ہے۔ اُڑان پاکستان نے برآمدی ترقی کیلئے آٹھ ترجیحی شعبے منتخب کیے ہیں جو ہماری تقابلی خوبیوں اور عالمی طلب کے مطابق ہیں۔اول، صنعت و مینوفیکچرنگ۔ صنعتی کلسٹرنگ، ٹیکنالوجی کی اپ گریڈنگ ، معیارات کی تکمیل اور علاقائی ویلیو چینز میں شمولیت کے ذریعے زیادہ ویلیو ایڈڈ پیداواریت والی مصنوعات کی طرف بڑھناہو گا۔ دوم، زراعت۔ بنیادی اشیا سے آگے بڑھ کر پروسیسڈ، برانڈڈ اور معیاری برآمدات کی طرف جانا ہوگا ۔ اس کیلئے کولڈ چین، سرٹیفیکیشن کے نظام اور زرعی صنعتی زونز کی ضرورت ہوگی۔
سوم، جدید سروسز ۔ یہ شعبہ زیادہ روزگار کیساتھ تیز رفتار برآمدی ترقی دے سکتا ہے۔ چہارم، آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز۔ آئی ٹی سکلز، بنیادی ڈھانچے، عالمی منڈیوں تک رسائی اور ریگولیٹری سہولیات میں سرمایہ کاری سے اس شعبے کو بڑھایا جائیگا۔ پانچواں، معدنیات۔ پاکستان کی تخمینہ سات ٹریلین ڈالر کی معدنی دولت پر کام کرنا ہوگا، لیکن شفافیت کیساتھ اور محض خام مال نکالنے کی بجائے پروسیسنگ پر زور دینا ہوگا۔ چھٹا، افرادی قوت کی برآمد۔ کم ہنر مندی سے ہٹ کر تربیت یافتہ، اعلیٰ قدر انسانی سرمائے کی برآمد پر توجہ دینی ہوگی جو عالمی طلب کے مطابق ہو۔
ساتواں، بلیو معیشت۔ پاکستان کی ساحلی پٹی کو مکمل طور پر استعمال میں لانا ہوگا۔آٹھواں، تخلیقی صنعتیں- تخلیقی صنعتیں، فیشن اور ڈیزائن سے لیکر گیمنگ اور ڈیجیٹل مواد تک، کو ایک نئی برآمدی سرحد کے طور پر استعمال کیا جائیگا جہاں ٹیلنٹ اور کلچر ایک دوسرے سے مسابقت رکھتے ہوں۔ان شعبوں کو آگے بڑھانے کیلئے برآمد کو آسان بنانے والی اصلاحات ضروری ہیں: ٹیکس ریفنڈز کو تیزی سے ٹریک کرنا، ان پٹ ٹیرف کو معقول بنانا، ایکسپورٹ فنانس کو بڑھانا، لاجسٹکس کو بہتر بنانا اور کوالٹی سرٹیفیکیشن اور مہارتوں کو مضبوط کرنا۔معاشی تبدیلی پرانے اور فرسودہ انتظامی ڈھانچوں سے نہیں لائی جا سکتی۔ اُڑان پاکستان نے پیداواری شعبوں سے متعلق وزارتوں کی تنظیم نو اور خارجہ سروس کو معاشی سفارتکاری کی طرف موڑنے کی سفارش کی ہے۔ یہ حقیقت کہ پاکستان کی برآمدی مصنوعات اور منڈیاں تین دہائیوں میں کسی قسم کے تغیر سے آشنا نہیں ہوئیں جو ادارہ جاتی جمود کا واضح ثبوت ہے۔
سول سروس کی جامع اصلاحات کا ایک پیکیج تیار کر لیا گیا ہے جس میں سپیشلائزیشن کو فروغ دینا، کارکردگی کے نظام کو مضبوط بنانا، ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا اور احتساب کو بڑھانا شامل ہے۔ ریاستی صلاحیتوں میں اصلاح اور جدت کاری کے بغیر، بہترین سے بہترین معاشی منصوبے بھی ناکام ہو جائیں گے۔پاکستان کی سب سے بڑی رکاوٹ خیالات یا عزم کی کمی نہیں بلکہ سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں میں بار بار تبدیلی رہی ہے۔ اصلاحات شروع ہوتی ہیں، پھر رک جاتی ہیں، واپس لے لی جاتی ہیں اور پھر دوبارہ شروع کی جاتی ہیں۔ لیکن ترقی تسلسل کا تقاضا کرتی ہے۔ کامیاب ممالک کا تجربہ بتاتا ہے کہ تبدیلی ایک مستقل پندرہ سالہ سفر ہے جو مسلسل اصلاحاتی راستے پر چل کر مکمل ہوتا ہے۔چین نے بتدریج اور ریاست کی قیادت میں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھائی۔ جنوبی کوریا نے 1997 ء کے بحران کے بعد استحکام بحال کرتے ہوئے کمپنیوں کی تنظیم نو کی اور برآمدات کو بحالی کا مرکز بنایا، اور اپنا آئی ایم ایف پروگرام مقررہ وقت سے پہلے ختم کر دیا۔ ویت نام نے مالیاتی نظم و ضبط کو برآمدات میں تنوع اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت کے ساتھ ملایا۔
انڈونیشیا نے استحکام کو ادارہ جاتی اور توانائی کی اصلاحات کیساتھ جوڑ کر طویل المیعاد کمزوریوں کو کم کیا۔سبق بالکل واضح ہے کہ آئی ایم ایف سے مستقل نجات ترقیاتی عمل کو دبا کر یا زوال کا شکار کر کے حاصل نہیں ہوتی۔ یہ برآمدات میں اضافے، پیداواریت بڑھانے، سماجی وسائل کو متحرک کرنے اور اداروں کی اصلاح سے حاصل ہوتی ہے۔ سکڑتی ہوئی معیشت کے ساتھ آئی ایم ایف سے نجات ممکن نہیں، اس کیلئے معیشت کا دائرہ وسیع کرنے کا وژن اور جرات درکار ہے۔آئی ایم ایف سے نکلنا ایک سنگِ میل ہے، منزلِ مقصود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان 2047ء میں، جب وہ اپنی سوویں سالگرہ منائیگا، کہاں کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ اب حقیقی قومی چیلنج معرکۂ ترقی ہے – یعنی ایک انتہائی مسابقتی خطے میں پیداواریت، جدت اور خوشحالی کی دوڑ میں آگے نکلنا۔ جسطرح پاکستان نے معرکۂ حق میں اتحاد اور عزم کا مظاہرہ کیا، اسے اب معاشی تبدیلی کیلئے بھی اسی نظم و ضبط، یکسوئی اور قومی مقصد کو بروئے کار لانا ہوگا۔ اس کیلئے امن، سیاسی استحکام اور معاشی پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے۔ معاشی تبدیلی صبر، نظم و ضبط اور برداشت کا سبق دیتی ہے۔ فساد، انتشار اور سیاسی بے یقینی کا ماحول ملک کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔ معاشی سکڑاؤ کے ذریعے آئی ایم ایف سے نکلنا ایک عارضی حل ہو گا جبکہ پیداواریت میں اضافہ عالمی سطح کی مسابقت، برآمدات میں بڑھاو، ٹیکس اصلاحات اور پالیسیوں میں تسلسل کے ذریعے نکلنا پائیدار ہوگا۔ یہ مشکل راستہ ضرور ہے، لیکن یہی واحد اور قابلِ اعتماد راستہ بھی ہے۔
(صاحب ِ مضمون وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات ہیں)۔