• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے سال کے آغاز کیساتھ ہی عالمی حالات نے ایک بار پھر دنیا کو یہ احساس دلا دیا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں طاقت، مفاد اور بیانیے کس قدر تیزی سے بدلتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو خود کو عالمی امن کا علمبردار قرار دیتے رہے ، اب ایک جارحانہ انداز میں سامنے ہیں۔ داخلی احتجاجات کے تناظر میں وہ مظاہرین کے خلاف تشدد پر ردعمل اور مداخلت کی بات تو کرتے ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ فلسطین، مقبوضہ کشمیر اور دیگر مظلوم خطوں میں عوامی مزاحمت انکی ترجیحات میں شامل نظر نہیں آتی۔ایسے پیچیدہ عالمی ماحول میں پاکستان کا تذکرہ ایک مختلف زاویے سے ہونے لگا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری سفارت کاری کو بین الاقوامی سطح پر ملنے والی پذیرائی، اور حتیٰ کہ امریکی صدر کی جانب سے اعتراف، نہ صرف عالمی مبصرین بلکہ بھارت کے پالیسی حلقوں کیلئے بھی باعثِ تشویش بن چکا ہے۔تاہم، پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اس پذیرائی کےباوجود، اندرونِ ملک چیلنجزسے صرفِ نظر ممکن نہیں۔ وطنِ عزیز کو سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی اشدضرورت ہے۔ بدقسمتی سے، سول بیوروکریسی کا ایک چالاک طبقہ سیاسی قیادت کی کمزوریوں کو اپنی مضبوطی میں تبدیل کرنے میں کوشاں دکھائی دیتا ہے۔پنجاب میںکی صورتحال اس کی واضح مثال ہے کہ کئی بیوروکریٹ برسوں سے اپنی من پسند پوسٹنگز پر براجمان ہیں۔ ان میں سے بعض مبینہ طور پر سابق ادوار میں شاطرانہ حربوں سے اہم عہدے حاصل کرتے رہے۔ آج بھی وہی چہرے مختلف اضلاع میں طاقت کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔قومی اسمبلی کے رکن میجر (ر) طاہر اقبال نے اسمبلی میں جس جرات کے ساتھ ان حقائق کی نشاندہی کی، وہ قابلِ توجہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے حلقے سمیت کئی علاقوں میں محکمہ پی ڈبلیو ڈی کو فنڈز ملنے کے باوجود کوئی تعمیراتی کام نہیں ہو رہا۔ بلدیاتی اداروں میں برسوں سے مافیا کا راج ہے، جہاں ترقیاتی منصوبے صرف فائلوں اور کمیشن تک محدود ہیں۔ جب منتخب نمائندے سوال کرتےہیں تو جواب دیا جاتاہے کہ ’’وزیراعلیٰ سب جانتی ہیں‘‘۔یہ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ منتخب ارکان خود کو بے بس محسوس کرنے لگے ہیں۔ میجر طاہر اقبال کے الفاظ میں، افسر شاہی اس کوشش میں رہتی ہے کہ ارکانِ اسمبلی اور وزیراعلیٰ کے درمیان بدگمانیاں پیدا ہوں تاکہ وہ سرخ فیتے اور اختیارات سے لطف اندوز ہوتی رہیں۔ اگر صرف پنجاب میں غیرجانبدار تحقیقات کرا لی جائیں تو کئی اعلیٰ افسران کے برسوں سے ایک ہی ضلع میں تعینات رہنے کے حقائق کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔این سی سی آئی اے کے افسران سے بدعنوانی کے ایک مقدمے میں ساڑھے چار کروڑ روپے کی برآمدگی اس امر کا ثبوت ہے کہ عوامی وسائل کس بے دردی سے لوٹے جا رہے ہیں۔ بلدیاتی اداروں میں رشوت ستانی اب معمول نہیں بلکہ نظام بن چکی ہے، جس کا خمیازہ براہِ راست عوام بھگتتےہیں۔ان تمام اندرونی مسائل کے باوجود، بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا تاثر بتدریج بہتر ہو رہا ہے۔ عالمی میڈیا، دفاعی جرائد اور پالیسی تجزیہ کار پاکستان کی عسکری قیادت کو منظم، محتاط اور ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار قرار دے رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک ایسے عسکری قائد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو قومی سلامتی کو محض عسکری طاقت تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ اسے داخلی استحکام، آئینی نظم اور نظریاتی یکجہتی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ کئی برسوں بعد پہلی مرتبہ پاکستان میں سول قیادت، عسکری کمان اور سفارتی نظام ایک مشترکہ اسٹریٹجک سمت میں آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہی ادارہ جاتی ہم آہنگی پاکستان کے عالمی بیانیے کو نئی شکل دے رہی ہے۔اس ہم آہنگی کے پس منظر میں نواز شریف کا سیاسی وژن بھی نمایاں ہے کہ’’ قومی طاقت کی اصل بنیاد سیاسی استحکام اور معاشی اعتماد ہوتی ہے، نہ کہ مسلسل محاذ آرائی‘‘۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس وژن کو عملی حکمرانی میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ شدید معاشی دباؤ کے باوجود، انکی حکومت نے وقتی سیاسی فائدے کے بجائے استحکام کو ترجیح دی، جس سے ریاستی اداروں کو نسبتاً سازگار ماحول میسر آیا۔ اسی تناظر میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارت کاری بھی قابلِ ذکر ہے۔ عالمی دارالحکومتوں، مالیاتی اداروں اور علاقائی شراکت داروں کیساتھ محتاط اور حقیقت پسندانہ روابط نے پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا۔ خارجہ پالیسی میں توازن، جذباتیت سے گریز اور باہمی مفاد پر مبنی تعلقات نے پاکستان کی عسکری قیادت کی عالمی قبولیت میں بھی اضافہ کیا۔آج پاکستان کو محض ایک بحران زدہ ملک نہیں بلکہ ایک ایسے ریاستی ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں سیاسی اختیار، عسکری پیشہ ورانہ مہارت اور سفارت کاری ایک دوسرے کو تقویت دے رہے ہیں۔ یہی توازن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ایک روایتی طاقتور جنرل کے ساتھ ایک جدید اور ادارہ جاتی عسکری قائد کے طور پر ممتاز کرتا ہے۔تاہم، یہ لمحہ کامیابی کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کا بھی ہے۔ اگر سیاسی عدم استحکام، بدعنوان بیوروکریسی اور ادارہ جاتی بے قاعدگیوں پر قابو نہ پایا گیا تو عالمی سطح پر حاصل ہونیوالا اعتماد عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی نئی پہچان کو مستقل بنانےکیلئے حکمرانی کا تسلسل، شفاف احتساب اور ادارہ جاتی ضبطِ نفس ناگزیر ہے۔یوں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عالمی سطح پر پذیرائی محض ایک فرد کی تعریف نہیں بلکہ اس وسیع تر تبدیلی کا اعتراف ہے جسکے ذریعے پاکستان آہستہ آہستہ ایک بحران زدہ ریاست سے نکل کر اسٹریٹجک اعتماد اور قومی ہم آہنگی کی حامل ریاست بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک ایسے عالمی ماحول میں جہاں ذمہ دار قیادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، پاکستان اب مسئلہ نہیں بلکہ تعمیری شراکت داری کے قابل ملک کے طورپر اپنا مقام بلند کر رہا ہے۔

تازہ ترین