غزہ میں اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں حماس کے رہنما سمیت 12 فلسطینی شہید اور 18 زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے اب تک اس واقعے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
حماس نے اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا، بلکہ اسے کم زور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ غزہ کے عوام کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 463 فلسطینی شہید جبکہ 1,269 زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے غزہ کے نصف سے زیادہ علاقے میں عمارتیں مسمار کرکے لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے، جہاں اب 20 لاکھ سے زائد افراد عارضی پناہ گاہوں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
ان حالات میں غزہ کے مکینوں کا کہنا ہے کہ جب تک عملی طور پر حملے بند نہیں ہوتے اور انسانی امداد بلا رکاوٹ فراہم نہیں کی جاتی، جنگ بندی کے کسی بھی اعلان پر یقین کرنا مشکل ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے جاری حملے غزہ میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہے ہیں، جبکہ طبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
خیال رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک غزہ میں مجموعی طور پر 71,455 فلسطینی شہید اور 171,347 زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملوں میں اسرائیل میں 1,139 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ تقریباً 200 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔