کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17جنوری کی رات بھڑکنے والی آگ میں اموات کی تعداد دو درجن سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ 80شہری لاپتہ ہیں۔ بنے بنائے نمونے کے مطابق حکومت پسماندگان کے لیے مالی مدد کے اعلانات کر رہی ہے۔ علمائے کرام مرنے والوں کے لیے مذہبی اصطلاحات میں تعزیت اور دعاؤں کا خراج پیش کر رہے ہیں۔ تحقیقی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ پھیلتے ہوئے گنجان شہروں میں بے ترتیبی سے نمودار ہونے والی فلک بوس عمارتوں میں حفاظتی بندوبست کی عدم موجودگی پر کسی کی نظر نہیں ہے۔ 80 کی دہائی تک کراچی شہر جنوبی ایشیا کے جدید اور خوبصورت شہروں میں شمار ہوتا تھا پھر اس شہر میں آمریت کی آکاس بیل نے لسانی تنظیموں، فرقہ ورانہ جتھوں اور منظم جرائم کو ریاستی تحفظ دینے کی روایت قائم کی۔ عشروں پر پھیلی اس مہم میں ہزاروں افراد جان سے گئے۔ کراچی کا تمدن ہی برباد نہیں ہوا۔ اس میں شہری سہولتیں بھی ختم ہو گئیں۔ نکاسی آب کے راستوں پر بستیاں آباد کر دی گئیں۔ گلی کوچوں میں تجارتی مراکز قائم ہو گئے جن میں کسی حادثے کی صورت میں باہر نکلنے کا کوئی مناسب انتظام ہے نہ آگ بجھانے کے آلات ہیں، نہ ہوا کی آمدورفت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کہاں آتش گیر مادے کے ذخائر ہیں اور کہاں ایک چنگاری سے آگ کے شعلے پوری بستی کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
بجلی کی تاروں کے گچھوں سے زیرزمین سیوریج کے بندوبست تک کسی بھی حادثے کی صورت میں تباہی کو دعوت دینے کا التزام محض حادثہ نہیں، کراچی جیسے شہر میں حادثے، جرم اور سازش کی لکیریں مٹ چکی ہیں۔ 7 فروری 2015ءکو بلدیہ ٹاؤن کے ایک کارخانے میں بھڑکنے والی آگ میں 260 سے زائد محنت کش جاں بحق ہوئے تھے۔ ایک لسانی تنظیم پر الزام تھا کہ تاوان نہ دینے کی پاداش میں اس کارخانے کو آگ لگائی گئی تھی۔ بلدیہ ٹاؤن کی آگ کے تانے بانے 12 مئی 2007ء کے اس خونی دن تک جاتے ہیں جب وکلا کے دفاتر میں آگ لگائی گئی تھی اور صحافتی اداروں پر حملے کیے گئے تھے۔ اس شام آمرِ وقت نے اسلام آباد میں مکا بلند کر کے اعلان کیا تھا کہ مخصوص علاقوں میں جانے والوں کو ایسا ہی ردعمل دیا جائے گا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاست شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کو ترجیح دیتی ہے یا نہیں۔ انسان نے سیلاب، زلزلے، آتش زنی، طوفان گرد و باد کی تباہ کاریوں پر قابو پانے کے ذرائع دریافت کر رکھے ہیں۔ تاہم حادثات کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ان حادثات سے ہونیوالے نقصان کو کم کرنے کی بنیادی ذمہ داری حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جہاں شہری اور حکومت میں رابطے کی راہیں مسدود ہو جائیں وہاں ایک چھوٹی سی چنگاری یا معمولی بارش بھی بڑے حادثوں کو جنم دیتی ہے۔
2 ستمبر 1666ء لندن میں شاہ چارلس دوم کے شاہی نانبائی کی دکان پر چولہے سے ایک چنگاری پاس رکھے ایندھن کے ڈھیر پر جا گری۔ نانبائی نے بظاہر آگ بجھا دی لیکن رات کے کسی پہر یہ چنگاری ایک بڑے الاؤ میں تبدیل ہو گئی جس نے چار لاکھ کی آبادی کے شہر لندن کے مشرق سے مغرب تک ہزاروں مکانات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس زمانے میں آگ بجھانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ آگ کی لپیٹ میں آنے والے علاقے کے اردگرد کی عمارتیں گرا دی جائیں تاکہ آگ کے پھیلاؤ کو محدود کیا جا سکے۔ چار روز تک بھڑکنے والی اس آگ میں جانی نقصان تو زیادہ نہیں تھا لیکن تین چوتھائی لندن شہر جل کر راکھ ہو گیا۔ بالآخر بارود سے بہت سی بستیوں کو اڑا کر آگ پر قابو پایا گیا۔ اس دوران ہوا کا رخ بھی بدل گیا لیکن یورپی تاریخ میں آتش زنی کے اس سب سے بڑے واقعے کے بعد سے تعمیراتی اصولوں میں بنیادی تبدیلیاں لائی گئیں۔ کوئی نصف صدی بعد 1736میں امریکی مدبر بنجمن فرینکلن نے فلاڈیلفیا میں آگ بجھانے والی رضاکار یونین قائم کی جس میں چمڑے کی مشک، سیڑھیاں، ریت کی بالٹی اور لمبی رسیاں بنیادی اوزار تھے۔ 1676 میں بنجمن فرینکلن کو فرانس میں سفیر مقرر کیا گیا تو اس نے اپنے ساتھیوں کو پیغام بھیجا تھا کہ ’میری بالٹی اور رسی تیار رکھنا ۔میں واپس آ کر دوبارہ آگ بجھانے والی ٹیم کا حصہ بنوں گا‘۔ تاریخ انسانی میں آگ کا سب سے بڑا حادثہ مارچ 1945ءمیں ٹوکیو پر امریکی بمباری کا نتیجہ تھا۔ 334امریکی جہازوں نے اس گنجان آباد شہر پر ایک ہی رات میں 1665 ٹن آتش گیر بم پھینکے۔ ٹوکیو میں زیادہ تر عمارتیں لکڑی سے بنی تھیں۔ اس آگ میں مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی جبکہ دس لاکھ جاپانی شہری بے گھر ہوئے۔ یہ آگ ڈریسڈن، ہیمبرگ، کوونٹری حتیٰ کہ ہیروشیما اور ناگاساکی سے بھی زیادہ جانی نقصان پر منتج ہوئی۔
آج کے جاپان میں آگ پر قابو پانے کا پورا بندوبست موجود ہے اور طرز تعمیر میں ایسی تبدیلیاں لائی گئی ہیں کہ شدید زلزلے میں بھی جانی نقصان کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔ سیکھنے والوں کے لیے ان مثالوں میں بہت کچھ رکھا ہے لیکن جہاں ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین کوڑیوں کے بھاؤ با اثر سیاسی افراد کو فروخت کر دی جاتی ہو، ساحل سمندر پر غیر قانونی بستیاں آباد کی جائیں، قدیم شہروں میں آتش زنی کی صورت میں تنگ گلیوں میں آگ بجھانے والی گاڑیوں کا پہنچنا محال ہو اور مخدوش عمارات میں ہزاروں کنبے آباد ہوں، وہاں سیاست، جرم اور حادثے کی ایسی تکون جنم لیتی ہے جس میں حتمی طور پر شہریوں کی جان و مال خطر پذیر حالات سے دوچار ہو جاتی ہے۔ آج کے پاکستان میں متعدد شہروں کی آبادی دس لاکھ سے زائد ہے۔ کراچی اور لاہور سمیت بڑے شہروں میں تجاوزات اور اندھا دھند تعمیرات دراصل اس بنیادی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عام شہری اور حکمران اشرافیہ میں نامیاتی تعلق ختم ہو چکا ہے۔ جہاں عدالت میں انصاف میسر نہ ہو، سڑک پر ٹریفک کا اژدھام کسی قانون کا پابند نہ ہو اور قانون ساز ایوان بے توقیر ہو جائیں، وہاں ریاستی بندوبست کا ضعف حتمی نتیجے میں عام شہری کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ثروت حسین نے شاید ہمارے ہی بارے میں کہا تھا۔
یہ آگ دور کسی دشت میں لگی ہے مگر
ہمارے شہر سے ہو کے دھواں گزرتا ہے