وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم میں سب سے بڑا نعرہ اختیارات کا نچلی سطح تک منتقلی کا تھا۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے سوال کیا کہ بتایا جائے کس جگہ ان اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا گیا ہے؟
خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کو غزہ بورڈ آف پیس میں ضرور شامل ہونا چاہیے، اگر ہم وہاں ہونگے تو فلسطینی بھائیوں کے لیے آواز اٹھا سکیں گے۔
خواجہ آصف نے کہا 18ویں ترمیم کو ڈھکوسلا بنانے کی اول و آخر ذمہ داری ان سیاستدانوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے یہ ترمیم پاس کی اور اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ، 18ویں ترمیم میں جو سب سے بڑا نعرہ لگایا گیا تھا وہ اختیارات کا نچلی سطح تک منتقلی کا تھا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ میرا کوئی ساتھی بتا دے یا کسی بھی پارٹی کا میرا ساتھی بتا دے کہ کیا پارلیمنٹ میں یا اس سے باہر کہاں اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوئے ہیں؟
دوسری جانب پیپلز پارٹی خواجہ آصف کے اٹھارھویں ترمیم سے متعلق بیان پر ناراض ہوگئی، حکومت سے وضاحت مانگ لی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں نوید قمر نے کہا کہ کل خواجہ آصف نے سانحہ گل پلازا پر بات کی اور ساتھ اٹھارھویں ترمیم لے آئے، ن لیگ کے پارلیمانی لیڈر کے بیان کو وہ حکومت کا پالیسی بیان سمجھیں گے۔
نوید قمر نے کہا کہ ملک کے ساتھ بہت تجربے کیے گئے، ہر تجربے کے ساتھ ملک کو آدھا کیا، وفاق سے درخواست ہے تجربہ کرنا بند کریں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خواجہ آصف کے بیان کو ذاتی رائے قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ذاتی آراء ہوتی ہیں، انہیں ذاتی رائے کے طور پر لیا جائے، ہر فیصلہ پارلیمنٹ کی رضامندی سے ہوتا ہے۔