• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دفتر خارجہ کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کو غزہ امن بورڈ میں شمولیت کی پیشکش کی تصدیق عالمی میڈیا میں نمایاں جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی ہے، بالخصوص مقبوضہ یروشلم سے شائع ہونے والے ٹائمز آف اسرائیل نے اس پیش رفت کو نمایاں کوریج دیتے ہوئے پاکستان کے مشرق وسطیٰ خطے میں بڑھتے قائدانہ کردار کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ اگرچہ پاکستان صیہونی ریاست کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے سے انکاری ہے لیکن اگر اسلام آباد ٹرمپ کی دعوت قبول کر لیتا ہے، تو وہ ایک بڑے عالمی علامتی بورڈ کا حصہ بن جائیگا جس میں اسرائیل کے کٹر ناقد ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت کئی دیگر یورپی اور مشرق وسطیٰ کے رہنما شامل ہونگے۔میں بارہا اس حقیقت کا اظہار کرچکا ہوں کہ ہر دردمندپاکستانی کا دِل مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے بلکہ قیامِ پاکستان سے بھی پہلے ہماری جذباتی وابستگی فلسطینیوں کے ساتھ قائم ہوچکی تھی، میں سمجھتا ہوں کہ آج اگر عالمی طاقتیں فلسطین کے دیرینہ مسئلے کے حل کیلئے پاکستان کی جانب دیکھتی ہیں تو اسکی وجہ مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی ناقابلِ تسخیر عسکری قوت کے طور پر ساکھ ہے جو ماضی میں عرب اسرائیل جنگوں میں بھی اپنا لوہا منوا چکی ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کے مختلف امن مشن دستوں میں دہائیوں سے خدمات سر انجام دیتا آ رہا ہے۔ کانگو، صومالیہ، بوسنیا اور افریقی ممالک میں پاکستانی امن دستوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، غیر جانبداری اور نظم و ضبط سے جنگ زدہ علاقوں میں امن قائم کیا مگرمیری نظر میں اس بار صورتحال ماضی سےبالکل مختلف ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو پیشکش کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں کہ آیا پاکستان غزہ میں امن کے قیام کیلئےمجوزہ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کرے گا یا معذرت کرلے گا۔ یہ سوال بظاہر سادہ معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت اس کے اثرات پاکستان کی خارجہ پالیسی، داخلی سیاست اور آئندہ نسلوں کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔میری نظر میں اگر پاکستان کسی بھی اسرائیل حامی قوت کی سرپرستی میں یا کسی ایسے عسکری اتحاد کا حصہ بنتا ہے جسے غزہ کے عوام مغربی ایجنڈا سمجھیں، تو اسکا فوری ردعمل فطری طور پر منفی ہوگا، ایسی صورت میں مشرقِ وسطیٰ بالخصوص فلسطینی عوام میں پاکستان مخالف جذبات بھڑکنے کا خدشہ ہے ، پاکستان ہمیشہ فلسطینی کاز کا علمبرداررہا ہے اور ہماری اس تاریخی ساکھ کو نقصان پہنچنا ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔دوسری طرف اگر پاکستان غزہ میں کسی بھی قسم کا کردار ادا نہیں کرتا، امن دستوں کا حصہ نہیں بنتا اور خود کو مشرقِ وسطیٰ کی سیاست سے الگ رکھتا ہے تو اس کے نتائج شاید اس سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہوں۔ میں اپنےاس موقف کی تقویت کیلئے ایران کی مثال پیش کرنا چاہوں گا جوگزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم کردار سمجھا جاتا تھا، آج عملی طور پر علاقائی منظرنامے سے غائب ہوچکا ہے۔ اگر پاکستان نے بھی یہی راستہ اختیار کیا تو وہ خطے کی سیاست سے آؤٹ ہو جائے گا، فرق صرف یہ ہوگا کہ ایران کو طاقت کے زور پر دیوار سے لگایا گیا، جبکہ پاکستان خود اپنی جگہ خالی کر دے گا۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی سفارتی اہمیت کم ہوگی بلکہ فلسطینی عوام کیلئے پاکستان کے دل میں جو نرم گوشہ ہے، وہ عملی سیاست میں غیر مؤثر ہو جائے گا، پاکستان کی عدم موجودگی میں خلا ایسی قوتیں پُر کریں گی جو ممکنہ طور پر فلسطین کیلئے پاکستان جیسے نیک جذبات اور جذباتی ترجیحات نہ رکھتی ہوں ۔ اس پس منظر میں سعودی عرب کا کردار بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیاہے، مجھے آج بھی وہ وقت یاد ہے جب سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازع شروع ہواتھا، اس وقت میں پاکستان کا واحد پارلیمنٹیرین تھا جس نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کو اپنی فوجیں حجاز کی مقدس سرزمین کے دفاع کیلئے ضرور بھیجنی چاہئیں ،لیکن کچھ ناگزیر وجوہات کی بناء پر پاکستان یہ قدم نہ اٹھا سکا، اور آج بھی ہم اس فیصلے کے اثرات دونوں برادر ممالک کے مابین سفارتی دراڑ کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج پاکستان کو سفارتی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنے کیلئے خطے میں سعودی عرب جیسے مخلص دوست کی اشد ضرورت ہے، اگر سعودی قیادت نے ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن منصوبے کی حمایت کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھرپاکستان کو بھی سعودی عرب کے شانہ بشانہ لبیک کہنا چاہیے۔ پاکستان ایک مرتبہ پھرنازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ایک طرف عوامی جذبات، سفارتی احترام اور اخلاقی ذمہ داری ہے، اور دوسری طرف غلط فیصلوں کے نتائج بھی سامنے ہیں،آج ہمارے سامنے اصل امتحان یہ نہیں کہ پاکستان کوغزہ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے یا نہیں، بلکہ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ کن شرائط کے تحت شامل ہونا چاہیے۔میری نظر میں پاکستان کو غزہ امن بورڈ کا حصہ اسی صورت بننا چاہیے جب امن بورڈ کا منڈیٹ بالکل واضح ہو ،پاکستان کی موجودگی کسی عسکری یا جارحانہ کارروائی کا حصہ نہ ہو بلکہ خالصتاً امن، انسانی امداد اور تعمیر نو تک محدود ہو، پاکستان کی شمولیت کسی مغربی یا متنازع سیاسی عسکری ایجنڈے کی توثیق نہ بنے، بالخصوص ایسا کوئی تاثر نہیں جانا چاہیے جس سے اسرائیلی جارحیت کو بالواسطہ جواز ملتا ہو۔فلسطینی قیادت اور نمائندہ حلقوں کی رضامندی بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ پاکستان مظلوم فلسطینیوں کی نظر میں متنازع نہ بنے ، میں سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستانی امن دستے فلسطین کے حوالے سے اپنی اصولی خارجہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئےغزہ کی سرزمین پر اُترتے ہیں تویہ ہمارے لئے دفاعی سفارتی سطح پر سنہری موقع ثابت ہوسکتا ہے، تاہم ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہوگا، پاکستان کو ایسا کردار ادا کرنا ہوگا جو ایک طرف فلسطینی عوام کے اعتماد کو مجروح نہ کرے اور دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ہماری موجودگی ایک ذمہ دار اور مؤثر فریق کے طور پر برقرار رہ سکے۔میری نظر میں امریکی صدر کی پاکستان کو پیشکش آنے والے عشروں کی سیاست کا رخ متعین کرے گی،پاکستان کو تاریخ کے اس نازک موڑ پر درست سمت کا بروقت انتخاب کرنا ہوگا، کیونکہ تاریخ نہ صرف فیصلے یاد رکھتی ہے بلکہ ان کے نتائج بھی نسلوں تک منتقل کرتی ہے۔

تازہ ترین