سانحہ گل پلازا میں ڈی این اے سیمپل کے ذریعے مزید 3 لاشوں کی شناخت کرلی گئی، شناخت کی گئی لاشوں کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گارڈن کے رہائشی سرفراز، میٹروویل کے رہائشی محمد عثمان اور گوجرانوالہ کے رہائشی محمد رضوان کی شناخت ہوگئی ہے۔
میتوں کو شناخت کے بعد سرد خانے سے ورثاء کے حوالے کردیا گیا، جاں بحق سرفراز کی گل پلازا میں گفٹ آئٹم کی شاپ تھی جبکہ محمد عثمان گل پلازا میں کراکری کی شاپ پر کام کرتا تھا۔
سانحے میں جاں بحق محمد رضوان گل پلازا میں فوٹو فریم کی شاپ پر کام کرتا تھا۔
رضوان کی میت آبائی گاؤں گوندلانوالہ پہنچا دی گئی، رضوان ایک ماہ قبل روزگار کے لیے بہنوئی کے پاس کراچی آیا تھا۔
سانحے میں جاں بحق رضوان کے بھائی سفیان کا کہنا ہے کہ رضوان بہنوئی اور اس کے بھتیجے کے ساتھ گل پلازا میں تھا، میرے بہنوئی اور ان کا بھتیجا لاپتا ہیں، رضوان کے پانچ بچے ہیں، وہ کاروبار سیکھنے کے لیے بہنوئی کے پاس کراچی آیا تھا۔
دوسری جانب تحقیقاتی حکام نے عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی مدد سے سانحے سے متعلق رپورٹ تیار کرلی۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں بچوں کے کھیلنے کے دوران لگی، ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے، ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں لگی اور بجلی کی تاروں میں پھیلی۔
آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگے، دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی، عمارت میں بیشتر دکانیں کھلی ہوئی تھیں، عمارت کی چھت کے راستے پر بھی گرل لگی ہوئی تھی، آگ لگنے سے عمارت میں موجود سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر متاثر ہوا ہے۔