• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوشل میڈیا پر بینجمن نیتن یاہو کی ہلاکت کی خبریں کیوں گردش کر رہی ہیں؟

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو— فائل فوٹو
اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو— فائل فوٹو

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کی ہلاکت سے متعلق غیر مصدقہ دعوے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہے ہیں۔

 ان دعوؤں نے حالیہ پریس کانفرنس کے بعد مزید طول پکڑ لیا ہے، تاہم اسرائیلی میڈیا نے انہیں جھوٹا قرار دے دیا۔

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر دعویٰ:

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے ان دعوؤں میں کہا گیا ہے کہ ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایرانی فضائی حملے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو مارے جا چکے ہیں۔

اسی نوعیت کی بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں ان کے بھائی ایڈو نیتن یاہو اور اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کے زخمی ہونے کے دعوے بھی کیے گئے۔


ان میں سے بہت سی پوسٹس فضائی حملوں کی ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر کے ساتھ شیئر کی گئیں، جبکہ بعض دعوؤں کو سابق امریکی انٹیلی جنس افسر اسکاٹ رِٹر کے تبصروں کے ذریعے بھی تقویت دی گئی۔

اس کے علاوہ حالیہ پریس کانفرنس کی جاری کردہ ویڈیو میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کے اندازِ گفتگو اور حرکات و سکنات کی بنیاد پر سوشل میڈیا صارفین نے مذکورہ ویڈیو کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا ہے۔

صارفین کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم ایرانی فضائی حملے میں مارے جا چکے ہیں اس لیے اسرائیلی میڈیا نے نیتن یاہو کی اے آئی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں نیتن یاہو کی 6 انگلیاں دکھائی دے رہی ہیں۔

دعوؤں کی حقیقت

تسنیم نیوز ایجنسی کی جانب سے حوالہ دی جانے والی رپورٹس میں نیتن یاہو پر کسی حملے کے شواہد یا ان کے زخمی ہونے کی تصدیق پیش نہیں کی گئی، ان رپورٹس میں صرف چند بالواسطہ عوامل کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں وزیرِ اعظم کی حالیہ ویڈیوز کی عدم موجودگی اور ان کی رہائش گاہ کے اطراف سیکیورٹی میں اضافہ شامل تھا۔

قیاس آرائیوں کو اس لیے بھی تقویت ملی کیونکہ نیتن یاہو کے ذاتی چینل پر آخری ویڈیو پوسٹ ہوئے تقریباً 3 دن گزر چکے تھے، جبکہ نئی تصاویر جاری ہوئے تقریباً 4 دن ہو گئے تھے، اس سے پہلے عموماً روزانہ کم از کم 1 اور بعض اوقات 3 تک ویڈیوز جاری کی جاتی تھیں۔

مزید رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ ڈرون حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر نیتن یاہو کی رہائش گاہ کے اطراف سیکیورٹی حصار مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

مبصرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کا اسرائیل کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی ایوانِ صدر ایلیزے پیلس کی جانب سے جاری ایک بیان میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور نیتن یاہو کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کا متن جاری کیا گیا، تاہم اس گفتگو کی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔

نتیجہ:

اسرائیلی حکام اور بین الاقوامی میڈیا نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے، نیتن یاہو کے دفتر نے ان کی ہلاکت کی خبروں کو فیک نیوز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اپنے سرکاری فرائض انجام دے رہے ہیں، 10 مارچ کو انہوں نے اسرائیل کے نیشنل ہیلتھ کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا، جبکہ 11 مارچ کو اشدود بندرگاہ کا معائنہ کیا جہاں انہوں نے آپریشن روئرنگ لائن کے دوران سمندری تجارتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور 12 مارچ کو پریس کانفرنس کی، ان دونوں دوروں کی ویڈیوز بھی عوامی طور پر جاری کی گئی ہیں۔

آن لائن گردش کرنے والی وہ تصاویر بھی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حملے کے بعد نیتن یاہو کو دکھایا گیا ہے، بعد ازاں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دی گئی ہیں جبکہ حالیہ پریس کانفرنس کی ویڈیو میں بھی اسرائیلی وزیرِ اعظم کی 6 انگلیاں دکھائی دینے کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید