میرخلیل الرحمٰن کے انتقال پر شمع دہلی کے مدیر ادریس دہلوی نے میر صاحب کی یادوں کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا جو ذیل میں پیش خدمت ہے۔
ادریس دہلوی (مدیر شمع دہلی)
میر صاحب کی رحلت کی روح فرسا خبر ملی تو دیر تک سکتہ کی سی کیفیت طاری رہی جب حواس کچھ بحال ہوئے تو کتنی ہی یادوں کی قندیلیں روشن ہوگئیں۔ چشم تصور نے ان کی پدرانہ شفقت، نیک نفسی اور خلوص و مروت کے وہ مناظر پھر دیکھے جن کو وہ بار بار دیکھتی رہی ہے۔ اور جن کی وجہ سے ان کی وفات میرے لئے ایک ذاتی سانحہ ہے۔
میرے لڑکپن کے دن تھے، دہلی کے فتح پوری اسکول میں پڑھتا تھا، اسکول کے قریب لال کنواں کے علاقے میں ’’جنگ‘‘ کا چھوٹا سا دفتر تھا۔ میر صاحب کے چھوٹے بھائی میر جمیل الرحمٰن کے ساتھ جو میرے دوست اور ہم جماعت تھے، وہاں اکثر آتا جاتا رہتا تھا، کیونکہ مجھے بچپن سے ہی صحافت میں دلچسپی تھی لیکن اپنی دلچسپی اور شوق کو اپنے والد یوسف دہلوی (مرحوم) سے پوشیدہ رکھا ہوا تھا۔
میر صاحب بہت شفقت اور پیار سے ملتے تھے، کبھی اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ عمر میں مجھ سے کتنے بڑے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ میر ی حوصلہ افزائی کی۔ شوق کو جلا دی، جغرافیائی فاصلے نے ملاقاتوں کی گنتی کم کردی، مگر میر صاحب سے جب بھی ملنا ہوتا، میرے لئے ان کی شفقت اور محبت کا وہی عالم ہوتا۔ ان سے میری آخری ملاقات اُس وقت ہوئی تھی جب میں لندن سے آتے ہوئے کچھ دن کے لئے کراچی میں رکا تھا۔ اس وقت میرےسان و گمان میں بھی نہ تھا کہ میں آخری بار ان کا دیدار کررہا ہوں۔
میر صاحب کی وفات ہم سب کے لئے ہی نہیں ساری دنیا کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ میر صحافت اُردو کے مبلغ تھے۔ اس زبان کو دنیا کی ترقی یافتہ زبانوں کے ہم پلہ بنانے والے معمار اعظم تھے۔
اُردو پر ان کے جو احسانات ہیں وہ تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ کتابت کے لئے کمپیوٹر اور طباعت کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو متعارف کراکے میرصاحب نے اُردو کو ہندو پاک کی انگریزی صحافت کی سطح پر لانے میں ہی نہیں اس سے بھی بلند مقام دلانے میں کامیابی حاصل کی۔
عالمی سطح پر اُردو کے فروغ کے لئے ان کی خدمات رہتی دنیا تک فراموش نہ کی جاسکیں گی۔ وہ سدا محسن اُردو کے طور پر جانے جائیں گے۔ میر صاحب ایک عہد ساز ہستی تھے۔ ان کی ساری زندگی کڑی جدوجہد اور ان تھک محنت سے عبارت رہی۔ خوب سے خوب تر اور کامیاب سے کامیاب ترکی جستجو انہیں نئی نئی بلندیوں سے ہم کنار کرتی رہی۔ نئی نسل کے لئے ان کی ذات ایک قابل پیروی نمونہ ہے۔
……٭٭٭………٭٭٭………٭٭٭……
نصراللہ خان
میر صاحب کی پہلی برسی پر نصراللہ خان، مر حوم نے’’ میر صاحب کی یاد‘‘ کے عنوان سے 1993ء میں ایک کالم لکھا تھا۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں۔
میر صاحب نے جنگ کا اجراء کیا تو اخبار ایسے لوگ نکالا کرتے تھے یا نکالا کرتے ہیں جن کا شمار یا تو چوٹی کے سیاسی لیڈروں میں ہوتا یا جن کے پاس دولت کی فراوانی ہوتی ہے۔ لیکن میر صاحب کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہیں تھا۔ ان کی حالت اس روایتی بڑھیا کی سی تھی جو سوت کی انی لے کر بازار مصر میں یوسفؑ کو خریدنے گئی تھی۔
اخبار نکالنا ہاتھی پالنے کے برابر ہے اور جو ملازمت کر کے بڑی مشکل سے گزر بسر کرتا ہو وہ ہاتھی پالنے یا اخبار نکالنے کی جرات کیسے کر سکتا ہے۔ میر صاحب نے شہرت حاصل کرنے یا کمانے کا ذریعہ بنانے کے لئے اخبار نہیں نکالا بلکہ یوں لگتا ہے کہ ان کے اندر اس زمانے میں جو ایک چھوٹا سا صحافی تھا وہ انہیں برابر اخبار نکالنے پر اکساتا رہا، پھر میر صاحب نے بڑی جرات اور حوصلے سے کام لے کر اپنی اس دیرینہ خواہش کو پورا کرنے کا آغاز کر دیا۔
ہم اس کٹھن سفر میں ان کے ہم سفر ہوگئے اور پھر دیکھتے دیکھتے روزنامہ جنگ بڑے آب و تاب سے شائع ہوا اس نے منزلوں پر منزلیں مارنا شروع کر دیں اور یہ دنوں میں ایک مقبول ترین اور کثیرالاشاعت اخبار بن گیا، ایسا کیوں ہوا اور ایسا کیسے ہوا ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ جنگ کا چراغ اس کے مالک نے جس کی حیثیت ایک مزدور قلم کار کی تھی، اپنے خون سے روشن کیا تھا اور ایسے چراغ باد مخالف کے جھونکے بجھا نہیں سکتے، یہ ہمیشہ روشن رہتے ہیں۔ میر صاحب نے طوفانوں میں جنگ کا چراغ روشن رکھا اور جھکڑوں میں وہ اس کی شیرازہ بندی کرتے رہے۔ میر خلیل الرحمٰن کا ایک نام روزنامہ جنگ بھی ہے اور اس نام سے میر صاحب ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
……٭٭٭………٭٭٭………٭٭٭……
’’نواب میر خلیل یار جنگ‘‘
بر صغیر پاک وہند ہی میں نہیں، مغرب میں بھی میر صاحب کے دم قدم سے اردو کی ترویج ہوئی۔ لندن سے نکل کرجنگ اخبار پورے یورپ میں اردو دانوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور وطن کی سفارت کا سامان فراہم کرتا ہے۔ معروف صحافی، مختار زمن نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’’دنیا کی اہم زبانوں میں شاید سب سے کم عمر زبان ’’اردو‘‘ ہے، لیکن ککڑی کی بیل کی طرح پھیلتی جا رہی ہے۔ دلی، لکھنؤ، دکن تو اب تاریخ کا حصہ ہیں لیکن جنوبی ایشیا کو تو چھوڑیے۔
آج اردو بولنے اور سمجھنے والے یورپ، امریکا، کینیڈا سمیت دنیا کے کونے کونے تک پھیلے ہوئے ہیں اور عاشقان اردو کی تسکین کے لئے جنگ ہر جگہ موجود ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی جنگ اخبار نے اردو کی ترویج و ترقی کے لئے جنگی ساز کا کردار اداکیا۔
مورخ تاریخ داستان، اردو میں یہ رقم کرے گا کہ بیسویں صدی ختم ہونے سے پہلے اردو اخبار کی اشاعت لاکھوں تک پہنچ گئی تھی اردو کی جڑیں کئی ملکوں میں پھل گئیں اور یہ میر خلیل الرحمان کی سعی مسلسل کا کرشمہ تھا۔
اگر آج اردو کے عاشق اور اردو کو علوم عالیہ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میڈیم کی حیثیت دینے والے ایک اور قابل احترام ’’میر‘‘ یعنی میر عثمان علی خان وائی دکن زندہ ہوتے تو روزنامہ جنگ کے صلح پسند مالک و مدیر کو ’’نواب میر خلیل یار جنگ‘‘ کے خطاب سے نوازتے‘‘۔